Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / لینکو ہلز وقف اراضی کی بازیابی کیلئے قانونی امداد

لینکو ہلز وقف اراضی کی بازیابی کیلئے قانونی امداد

سنٹرل وقف کونسل اجلاس میں جائزہ، وقف جائیدادوں کی ترقی کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کی تجویز
حیدرآباد ۔ 5 نومبر (سیاست نیوز) سنٹرل وقف کونسل نے حیدرآباد کی اہم اور قیمتی اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے قانونی امداد فراہم کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ درگاہ حضرت حسین شاہ ولی ؒ کی منی کنڈہ جاگیر میں اوقافی اراضی کو کانگریس دورحکومت میں لینکوہلز کو فروخت کردیا گیا تھا۔ تلنگانہ حکومت نے اس قیمتی اراضی کی بازیابی کیلئے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے نئی دہلی میں سنٹرل وقف کونسل کے اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھایا اور لینکوہلز کے مقدمہ میں وقف کونسل کو فریق بننے کا مشورہ دیا۔ مرکزی وزیر اقلیتی امور ڈاکٹر نجمہ ہپت اللہ کی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں لینکوہلز کی اراضی کے تحفظ اور بازیابی میں تلنگانہ حکومت سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ کونسل کی جانب سے سپریم کورٹ نے فریق بننے کے مسئلہ پر بعض ٹیکنیکی رکاوٹوں پر وقف کونسل نے سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی کے سلسلہ میں ہر ممکن قانونی امداد فراہم کرنے سے اتفاق کیا۔ اس طرح لینکوہلز کی قیمتی اوقافی اراضی کے تحفظ میں مرکزی وزارت اقلیتی امور کی تائید حاصل ہوئی ہے۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ سپریم کورٹ میں مقدمہ زیردوران ہونے کے باوجود لینکوہلز کی جانب سے تعمیرات اور فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ وقف بورڈ نے اس اراضی کو حاصل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے اور نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ عمر جلیل نے بتایا کہ اس اراضی کے بارے میں عدالت میں وقف بورڈ کا موقف مستحکم ہے اور اگر سنٹرل وقف کونسل تعاون کرے تو مقدمہ میں کامیابی یقینی ہوگی۔
(سلسلہ صفحہ 8 پر)

TOPPOPULARRECENT