Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / لینکو ہلز کے خلاف سپریم کورٹ میں کل وقف بورڈ کی نمائندگی

لینکو ہلز کے خلاف سپریم کورٹ میں کل وقف بورڈ کی نمائندگی

وقف اراضی مقدمہ کے لیے نامور قانون داں فالی ایس نریمن کی خدمات حاصل
حیدرآباد۔/5ڈسمبر، ( سیاست نیوز) درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کے تحت اوقافی اراضی کے تحفظ کیلئے سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کے سلسلہ میں ملک کے نامور قانون داں فالی ایس نریمن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور لینکو ہلز کے مقدمہ میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کیلئے پیر کو وقف بورڈ کی جانب سے تمام ضروری مواد روانہ کردیا جائے گا۔ لینکو ہلز جس پر بڑے پیمانے پر تعمیرات جاری ہیں اس پر وقف بورڈ نے اپنی دعویداری پیش کی اور یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ وقف بورڈ میں اراضی کے وقف ہونے کے بارے میں تمام دستاویزات موجود ہیں تاہم کانگریس دور حکومت میں اسے سرکاری قراردیتے ہوئے لینکو ہلز کو فروخت کردیا گیا تھا۔ حکومت نے ابھی تک اسے سرکاری اراضی کی حیثیت سے اپنی دعویداری کو برقرار رکھا ہے۔ اس مقدمہ میں اگر ریاستی حکومت اپنے دعویٰ سے دستبردار ہوجائے تو یہ اراضی ازخود وقف بورڈ کی ملکیت تسلیم کرلی جائے گی۔ حال ہی میں  لینکو ہلز نے تعمیرات اور فروخت سے متعلق بڑے پیمانے پر اشتہارات جاری کئے تھے جس میں وقف اراضی کا تذکرہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق لینکو ہلز کو فروخت سے متعلق رجسٹریشن میں اراضی کے وقف ہونے کا تذکرہ کرنے اور سپریم کورٹ کے قطعی فیصلہ کے مطابق رجسٹریشن جاری رہنے کا حوالہ دینے کی ہدایت دی گئی تھی لیکن بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رجسٹریشن میں لینکو ہلز نے اس شرط کی تکمیل نہیں کی۔ اب جبکہ فروخت کیلئے  بڑے پیمانے پر اشتہارات جاری کئے جارہے ہیں وقف بورڈ کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی جائے گی کہ لینکو ہلز کو اشتہار میں بھی وقف اراضی کا تذکرہ کرنے کی ہدایت دی جائے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ سے اپیل کی جائے گی کہ 2013 سے جاری اس مقدمہ کی جلد یکسوئی کو یقینی بنائے کیونکہ مقدمہ کی یکسوئی میں تاخیر سے لینکو ہلز کو فروخت جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ وقف بورڈ کے سینئر وکلاء سے مشاورت کرتے ہوئے تمام دستاویزات اور اپیل کی کاپی نامور قانون داں فالی ایس نریمن کو پیر تک روانہ کردی جائیں گی اور وہ ان کا جائزہ لینے کے بعد جلد از جلد حلف نامہ داخل کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کے تحت موجود دیگر اوقافی اراضیات کا بھی سروے کیا جارہا ہے تاکہ حال ہی میں تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کی جانب سے فروخت کی گئی اراضی کے وقف ہونے کا پتہ چلایا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT