Thursday , August 17 2017
Home / دنیا / لی پین کی شکست سے مایوس ٹرمپ کی میکرون کو مبارکباد

لی پین کی شکست سے مایوس ٹرمپ کی میکرون کو مبارکباد

فرانسیسی عوام اور جمہوریت کی جیت، میکرون فرانس کے سب سے کم عمر صدر
واشنگٹن ۔ 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی بالآخر نومنتخبہ فرانسیسی صدر ایمانیول میکرون کو مبارکباد دی حالانکہ ٹرمپ شروع سے ہی میکرون کے مخالف رہے ہیں لیکن انتخابی جیت پر مبارکباد دینے کی رسم تو ہر سربراہ مملکت کو پوری کرنی پڑتی ہے۔ صدر نے انہیں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی اور خواہش ظاہر کی کہ امریکہ بھی فرانس کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔ یاد رہیکہ رائے دہی سے قبل تک ڈونالڈ ٹرمپ میکرون کی حریف میرین لی پین کے سب سے بڑے حامی تھے۔ انتخابات کے نتائج جیسے ہی سامنے آئے ٹرمپ نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے میکرون کو مبارکباد دی۔ بعدازاں سرکاری رسم پوری کرتے ہوئے وائیٹ ہاؤس کی جانب سے بھی مبارکبادی کا پیغام جاری کیا گیا۔ میکرون اس وقت فرانس کے سب سے کم عمر صدر یعنی 39 سال کے ہیں، جہاں انہوں نے اپنی حریف میری لی پین کو شکست دی۔ ٹرمپ کو حالانکہ لی پین کی کامیابی کی پوری امید تھی لیکن نتائج نے ان کو تھوڑا سا کھسیانا کردیا کیونکہ جس امیدوار کی وہ مخالفت کرتے آئے تھے انہیں اسی امیدوار (میکرون) کو مبارکباد پیش کرنا پڑا۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ حالیہ دنوں میں فرانس میں جو بھی دہشت گردانہ حملے ہوئے اس نے عوام کو خوفزدہ کردیا ہے اور ایسی صورت میں کسی خاتون امیدوار کو اس کا بہت بڑا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھاکہ فرانس میں ایک پولیس عہدیدار کے خلاف قاتلانہ حملہ کا اثر فرانس کے صدارتی انتخابات پر راست طور پر اثرانداز ہوگا۔ ایسے حالات میں صدارتی انتخابات لڑنے کا جو حوصلہ میرین لی پین نے دکھایا ہے وہ اس کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ایجنسی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’حملہ‘‘ یقینی طور پر لی پین کی امیدواری کیلئے مددگار ثابت ہوگا جبکہ ٹرمپ کے پیشرو سابق صدر بارک اوباما نے بھی میکرون کی حمایت میں گذشتہ ہفتہ ایک ویڈیو جاری کیا ہے۔ دوسری طرف وائیٹ ہاؤس کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے امریکی قانون سازوں نے بھی میکرون کو مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جو ایک سابق انویسٹمنٹ بینکر ہیں جن کی جیت کو لبرل، مقبول ترین قائد اور نیشنلسٹ لہر کا مرہون منت سمجھا جارہا ہے جیسا کہ گذشتہ سال نومبر میں اسی لہر نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو کامیابی کا مزہ چکھایا تھا۔ وائیٹ ہاؤس کے ڈیموکریٹک وہپ اسٹینی ہوئر نے کہا کہ فرانسیسی عوام نے ڈر اور خوف پر امید کو ترجیح دی ہے۔ فرانسیسی عوام اب پیچھے مڑ کر دیکھنا نہیں چاہتے بلکہ آگے بڑھتے رہنے پر ایقان رکھتے ہیں۔ انہوں نے تقسیم کرنے والی سیاست کو یکسر مسترد کردیا ہے جس کو جھوٹی خبروں روسی ہیکس سے کافی تقویت ملی تھی جس کے تحت یہ کہا جارہا تھا کہ روس نے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کی جیت میں اہم رول ادا کیا۔ تاہم فرانسیسی عوام نے جذباتی انداز نہیں اپنایا بلکہ انہوں نے بیرونی افراد سے نفرت اور انتہاء پسندی کی اس لہر میں جمہوریت اور رواداری کو برقرار رکھا۔ سینئیر بین کارڈین نے بھی فرانسیسی عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ ایک ایسے یوروپ کی توقع کرتے ہیں جو پرامن ہو۔ مسٹر کارڈین نے کہاکہ فرانسیسی انتخابات سے ایک بات خود صدر روس ولادیمیر پوٹن کو سمجھ لینا چاہئے کیونکہ یہ ان کیلئے ایک ’’پیغام‘‘ ہے اور وہ یہ کہ صدر پوٹن کو اپنے ’’عالمی نظریئے‘‘ پر بڑا فخر ہے لیکن یوروپی ووٹرس نے ایک بار پھر ان کے اس نظریئے کو جھوٹا ثابت کردیا۔ اس کے باوجود کہ گذشتہ سال امریکہ میں جس طرح یہ کہا جارہا تھا کہ انتخابات میں روس نے مداخلت کی تھی اور فرانسیسی انتخابات میں بھی ایسا ہی ہوا ہے، فرانس میں جمہوریت کی جیت ہوئی ہے جس کا سہرا فرانسیسی عوم کے سر بندھنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT