Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ل 2 لاکھ کروڑ گنوا کر 80 ہزار کروڑ گھر لائے

ل 2 لاکھ کروڑ گنوا کر 80 ہزار کروڑ گھر لائے

نوٹ بندی …
2 لاکھ کروڑ گنوا کر 80 ہزار کروڑ گھر لائے
حیدرآباد ۔ 9 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : نوٹ بندی سے کالا دھن برآمد ہونے کی تمام امیدیں مانند پڑ گئی ہیں ۔ سارے عمل کو پورا کرنے کے لیے 2 لاکھ کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ صرف 80 ہزار کروڑ روپئے کا فائدہ ہونے کا امکان ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر کو 500 اور 1000 روپئے کے نوٹ منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کالا دھن ، کرپشن اور دہشت گردی پر قابو پانے کا دعویٰ کیا تھا اور اس عمل سے 3 تا 5 لاکھ کروڑ روپئے حکومت کو آمدنی ہونے کی امید کی جارہی تھی ۔ تاہم جس تیزی سے منسوخ شدہ کرنسی بینکوں میں جمع ہورہی ہے ۔ اس سے وزیراعظم اور مرکزی حکومت حیرت زدہ ہے ۔ آر بی آئی گورنر نے 12 لاکھ کروڑ سے زائد منسوخ شدہ نوٹ بینکوں میں جمع ہوجانے کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن انہوں نے کونسی تاریخ تک کتنی رقم بینکوں میں جمع ہوئی ہے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے ۔ تاہم ماہرین معاشیات کی رائے ہے کہ ابھی تک 13 لاکھ کروڑ سے زائد رقم بینکوں میں جمع ہوگئی ہے ۔ آئندہ مزید 20 دن میں مزید ایک تا دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے بینکوں میں جمع ہوجانے کی امید کی جارہی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب منسوخ شدہ ساری رقم بینکوں میں جمع ہورہی ہے تو کالا دھن ہے کہاں ؟ وزیراعظم کو نوٹ بندی کا مشورہ دینے والوں نے بتایا تھا کہ بڑی نوٹوں کی منسوخ سے حکومت کو 3 تا 5 لاکھ کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی ۔ اتنی بھاری رقم سے مرکزی حکومت خصوصی فنڈ تشکیل دیتے ہوئے دیہی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی مختلف فلاحی اسکیمات کو متعارف کراتے ہوئے غریب عوام کا دل جیت سکتی ہے ۔ تاہم حکومت کی ہر تدبیر الٹی ہوگئی ۔ نوٹ بندی کے باعث تقریبا دیڑھ لاکھ کروڑ روپئے کا کالا دھن مختلف طریقوں سے سفید ہوگیا ہے ۔ جن دھن بینک کھاتوں میں کروڑہا روپئے جمع ہوچکے ہیں ۔ غیر محسوب دولت کی رضاکارانہ طور پر انکشاف کرنے کے لیے دی گئی مہلت میں بلیک منی رکھنے والوں نے دیڑھ تا 2 لاکھ کروڑ روپئے کا اعلان کرتے ہوئے بلیک منی کو وائیٹ میں تبدیل کردیا ہے ۔ نوٹ بندی کا اعلان ہونے کے اندرون 3 دن میں 15 کنٹل سونا فروخت ہونے کی اطلاعات وصول ہوئی ہے ۔ حکومت نے بلیک منی سے غریب عوام کو فائدہ پہونچانے کے لیے غریب کلیان یوجنا اسکیم بھی تیار کرلی تھی ۔ آئی ڈی ایس اسکیم کے تحت انکشاف کردہ دولت میں 50 فیصد رقم حکومت کے کھاتے میں جائے گی اور 25 فیصد رقم بینکوں میں محفوظ رہے گی ۔ 50 فیصد رقم حکومت کے قبضے میں آجانے سے حکومت کو فوری طور پر 75 ہزار کروڑ روپئے کا فائدہ ہوگا ۔ بینکوں میں اس اسکیم کے تحت ڈپازٹ کردہ رقم پر سود کی عدم ادائیگی سے پہلے سال ہی 2500 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوگی اس طرح حکومت کو صرف 80 ہزار کروڑ روپئے کی ہی آمدنی ہوگی ۔ تاہم نوٹ بندی سے حکومت کو بہت بڑا نقصان ہوگا بلکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ’ آمدنی اٹھنّی اور خرچ روپیہ ‘ سنٹر فار مانیٹرنگ ری اکنامی ( سی ایم آئی ای ) کے اندازے کے مطابق نوٹ بندی سے 8 تا 30 نومبر تک ملک کی مجموعی پیداوار پر 1.5 لاکھ کروڑ روپئے تک نقصان ہوا ہے ۔ بڑی نوٹوں کی منسوخی کے بعد نئی کرنسی کی طباعت اور اس کو ملک کے مختلف حصوں تک منتقل کرنے کے لیے تمام اخراجات 20 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ ہیں ۔ آر بی آئی نے 6 لاکھ کروڑ روپئے ( ایم ایس ایس ) بونڈس جاری کرنے کی منظوری دی ہے ۔ جس پر سالانہ 6.5 فیصد شرح سود مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ 9 ماہ کے دوران تمام کارروائی مکمل ہونے کی توقع کی جارہی ہے ۔ جس کے لیے آر بی آئی کو 30 تا 35 ہزار کروڑ روپئے ادا کرنا ہوگا ۔ اس طرح نوٹ بندی کے جملہ اخراجات 2 لاکھ کروڑ روپئے کے ہیں مگر آمدنی صرف 80 ہزار کروڑ روپئے کی ہورہی ہے ۔ ساتھ میں کرنسی بحران کا سارا ملک شکار ہوا ہے ۔ عوام گھر اور نوکری چھوڑ کر بینکوں اور اے ٹی ایم کی قطاروں میں ٹھہرنے کے لیے مجبور ہوئے ہیں اور ابھی تک 90 سے زائد افراد کی اموات واقع ہوئی ہے ۔ غریب عوام اپنے بچوں کی شادی بیاہ و دیگر تقاریب ملتوی کرچکے ہیں ۔ مگر دولت مندوں کی تقاریب مقررہ وقت پر ہوئی ہے اور کالا دھن رکھنے والوں نے بڑی آسانی سے 30 تا 40 فیصد کمیشن پر اپنی بلیک منی کو وائیٹ کرلیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT