Tuesday , May 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ل1.21 لاکھ جائیدادوں کا کئی سال سے ٹیکس ادا نہیں کیا جارہا ہے

ل1.21 لاکھ جائیدادوں کا کئی سال سے ٹیکس ادا نہیں کیا جارہا ہے

جی ایچ ایم سی کو سالانہ 50 کروڑ کا نقصان ، ضروری کارروائی کے لیے حکومت سے رجوع
حیدرآباد ۔ 27 ۔ دسمبر : ( ایجنسیز ) : اس بات پر یقین کریں یا نہ کریں کہ 1,21,640 جائیدادوں کے مالکین کی جانب سے ، جنہیں اجازت کے بغیر رجسٹریشن کے بغیر ( نوٹری کرواتے ہوئے ) تعمیر کیا گیا اور انڈومنٹ ، وقف اور اربن لینڈ سیلنگ ( یو ایل سی ) اراضیات پر تعمیر کیا گیا ہے کئی سال سے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو جائیداد ٹیکس ادا کرنے سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے ۔ اس قدر بڑی تعداد میں جائیدادوں کے ٹیکس کی عدم ادائیگی کی وجہ جی ایچ ایم سی کی آمدنی میں سالانہ 50 کروڑ روپئے کا نقصان ہورہا ہے ۔ مالی بحران سے دوچار اس ادارہ نے حکومت تلنگانہ سے رجوع ہو کر ان 1.21 لاکھ جائیدادوں سے جائیداد ٹیکس وصول کرنے کی اجازت دینے اور اس کے لیے احکام جاری کرنے کی درخواست کی ۔ جی ایچ ایم سی سرکلس کے ڈپٹی کمشنرس سے حکومت کی اراضی ، انڈومنٹ ، وقف اراضیات ، جھیلوں تالابوں وغیرہ پر تعمیر کیے گئے جائیدادوں کی فہرست تیار کرنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ ان پر جائیداد ٹیکس عائد کیا جائے ۔ جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے کہا کہ محض جائیداد ٹیکس ادا کرنے سے نوٹیفائیڈ لینڈس اور ذخائر آب پر غیر قانونی طور پر مکانات تعمیر کرنے والے افراد کے لیے جائیداد کے مالکانہ حقوق کی کوئی گیارنٹی نہیں ہوتی ہے ۔ انہوں نے یہ وضاحت کی اور کہا کہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے صرف تعمیر کردہ حصہ پر ٹیکس عائد کیا جارہا ہے اور زمین پر نہیں ۔۔
ناجائز قبضے :
جی ایچ ایم سی اسٹاف کی جانب سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق تمام پانچ زونس میں تقریبا 49,240 بلڈنگس سرکاری اراضیات پر تعمیر کئے گئے ہیں اور اگر ان پر ٹیکس عائد کیا جائے تو یہ تقریبا 12.26 کروڑ روپئے ہوگا اور 788 جائیدادیں یو ایل سی اراضیات پر تعمیر کئے گئے ہیں اور ان سے 35.50 لاکھ روپئے کا جائیداد ٹیکس حاصل ہوسکتاہے ۔ 52,934 خانگی اراضیات نوٹرائزڈ پراپرٹیز کے طور پر رجسٹرڈ ہیں جن سے 16.50 کروڑ روپئے کا ریونیو حاصل ہوسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ انڈومنٹ اراضیات پر تعمیر کئے گئے 1,338 اسٹرکچرس ہیں جن سے 6.64 کروڑ روپیئے کا جائیداد ٹیکس حاصل ہوسکتا ہے ۔ اسی طرح وقف اراضیات پر 8111 عمارتیں تعمیر کی گئیں جن میں زیادہ تر ساوتھ زون کے علاقوں میں ہیں اور ان کے ٹیکس بقایہ جات 1.21 کروڑ روپئے تک ہونے کا اندازہ ہے ۔ اسی طرح 3,036 تعمیرات قبضہ کیے گئے واٹر باڈیز کے فل ٹینک لیول پر کئے گئے ہیں جن سے تقریبا 86 لاکھ روپئے کا جائیداد ٹیکس حاصل ہوسکتاہے اور مزید 1500 عمارتوں کو نالوں پر قبضہ کر کے تعمیر کیا گیا ہے اور ان سے 1.25 کروڑ روپئے جائیداد ٹیکس حاصل ہوسکتاہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT