Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ماؤیسٹوں سے بات چیت کیلئے آندھرا پولیس کی پیشکش

ماؤیسٹوں سے بات چیت کیلئے آندھرا پولیس کی پیشکش

باغیوں کیلئے پہلے ہتھیار ڈالنے کی شرط ۔ ریاستی ڈی جی پی سامبا شیوا راؤ کا بیان
وجئے واڑہ 7 نومبر ( پی ٹی آئی ) ممنوعہ سی پی آئی ( ماؤیسٹ ) کے 28 ارکان کو آندھرا اوڈیشہ سرحد پر حال میں ایک انکاؤنٹر میں ہلاک کرتے ہوئے کمزور کردینے کے بعد آندھرا پردیش پولیس نے اب باغیوں کیلئے بات چیت کے دروازے کھولدئے ہیں ۔ ماؤیسٹوں سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ ہتھیار ڈالتے ہیں تو ان کے ساتھ بات چیت ہوسکتی ہے ۔ ماضی کے برخلاف جبکہ 2004 میں اس وقت کے متحدہ آندھرا پردیش کی سیاسی قیادت وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے ماؤیسٹوں کے ساتھ بات چیت کی تھی ‘ اس بار یہ پیشکش پولیس کی جانب سے کی گئی ہے ۔ ماضی بات چیت کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔ آندھرا پردیش کے ڈائرکٹر جنرل پولیس ( انچارچ ) این سامباشیوا راؤ نے آج کہا کہ بنیادی طور پر ہم اسے ایک بڑا داخلی سکیوریٹی مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ ایسے میں ہمارا مفاد اس میں ہے کہ ہم ان کے ساتھ بات چیت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کیلئے ہمیشہ ہی تیار ہیں لیکن انہیں پہلے ہتھیار ڈالنے ہونگے ۔ یہ ہمارا مستقل موقف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماؤیسٹ ہتھیار ڈالتے ہیں تو پولیس ان کا خیر مقدم کریگی ۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی جی پی نے کہا کہ اے او بی علاقہ میں فوج کی تلاشی مہم کو 28 اکٹوبر کو بند کردیا گیا ہے ۔ اس سے چار دنقبل انکاؤنٹر ہوا تھا ۔ انہوںنے کہا کہ وہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو دہلی میں اس انکاؤنٹر اور اس کے بعد کے حالات سے واقف کرواچکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ہم ہمیشہ سے کہتے رہے ہیں کہ ماؤیسٹوں کے اعلی رہنما راما کرشنا عرف آر کے ہماری تحویل میں نہیں ہیں اور ان کی اہلیہ نے جو یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ محفوظ ہیں اس سے ہمارے موقف کی توثیق ہوچکی ہے ۔ 3 نومبر کو ایک ڈرامائی اعلان کرتے ہوئے انقلابی مصنفین کی تنظیم نے اعلان کیا تھا کہ اکی راجو ہرگوپال عرف راما کرشنا محفوظ ہیں۔ ماؤیسٹ لیڈر کے تعلق سے کہا گیا تھا کہ وہ 24 اکٹوبر کو ہوئے انکاؤنٹر کے بعد سے لاپتہ تھے۔ ڈی جی پی نے کہا کہ انہوںنے مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ ریاست میں گرے ہاونڈز ٹریننگ سنٹر کے قیام کے تعلق سے بھی بات چیت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پہلے ایسا ادارہ موجود تھا لیکن اب وہ تلنگانہ کو چلا گیا ہے ۔ ایسے میں ہم کو اب نئے ادارہ کے قیام کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT