Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مائناریٹی ریزیڈنشیل کے طلبہ کی دل آزاری، جبراً وندے ماترم پڑھایا جارہا ہے

مائناریٹی ریزیڈنشیل کے طلبہ کی دل آزاری، جبراً وندے ماترم پڑھایا جارہا ہے

ضلع میدک کے نرساپور اسکول میں پرنسپل و اساتذہ کا متعصبانہ رویہ، کئی طلبہ کی ترک تعلیم
زعفرانی تہذیب کو فروغ دینے کی کوشش
اعلیٰ عہدیداروں سے شکایت اکارت ثابت
حیدرآباد۔/23جولائی، ( سیاست نیوز) حکومت نے اقلیتوں کیلئے 71 اقامتی اسکولس کے قیام کے ذریعہ ان کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اسکولوں میں متعین بعض متعصب پرنسپالس اور ٹیچرس طلبہ پر مخصوص مذہب کی تہذیب کو مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسکولوں میں اخلاقیات اور دینیات کی تعلیم کا اقلیتوں سے وعدہ کیا گیا لیکن افسوس کہ بعض اسکولوں میں طلبہ کو وندے ماترم پڑھنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے جو سراسر غیر اسلامی ہے۔ مسلم طلبہ کو وندے ماترم پڑھنے کیلئے مجبور کرنے کی اگرچہ کئی شکایات ہیں لیکن میدک کے نرسا پور میں طلبہ اور اولیائے طلبہ نے اس سلسلہ میں اعلیٰ عہدیداروں سے شکایت درج کی لیکن افسوس کہ ارباب مجاز نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اسکولوں سے متعلق سوسائٹی میں شامل عہدیداروں کی اکثریت ریٹائرڈ عہدیداروں اور رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندوں پر مشتمل ہے جنہیں اسکولوں کے معیار اور وہاں درپردہ جاری متعصب ٹیچرس اور پرنسپالس کی سرگرمیوں سے کوئی دلچسپی نہیں وہ تو صرف حکومت کے بجٹ کے بیجا خرچ کے ذریعہ اپنی سہولتوں اور تعیشات کا انتظام کررہے ہیں۔ سوسائٹی میں شامل ریٹائرڈ عہدیداروں نے کرایہ پر کاریں حاصل کرلی ہیں اور وہ اسکولوں کے معائنہ کے نام پر ان کا استعمال کررہے ہیں۔ ان افراد کیلئے بھاری تنخواہیں متعین کی گئیں جبکہ محکمہ فینانس نے حال ہی میں سرکاری اداروں میں ریٹائرڈ عہدیداروں کے تقرر کے خلاف احکامات جاری کئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اساتذہ اور پرنسپالس کے تقرر میں بے قاعدگیوں کے سبب کئی اسکولوں میں غیر اقلیتی پرنسپالس اور اساتذہ کا تقرر کیا گیا جن میں اکثر ایسے ہیں جو ریٹائرڈ ہیں۔ مبینہ طور پر رقومات حاصل کرتے ہوئے کئے گئے تقررات کا نتیجہ مسلم طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ متعصب قسم کے یہ افراد خاموشی سے مسلم طلباء و طالبات پر مخصوص تہذیب کو مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ صبح کے اوقات میں اسکولوں میں یہ اساتذہ طلبہ کو وندے ماترم پڑھنے کیلئے ترغیب دے رہے ہیں اور بعض مقامات پر جبر کیا جارہا ہے۔ ان اساتذہ نے طلبہ کو صبح سرسوتی وندنا اور دیگر ہندو رسومات سے وابستہ کرنے کی بھی کوشش کی ہے جس کے نتیجہ میں کئی طلبہ نے اسکولوں سے علحدگی اختیار کرلی۔ اطلاعات کے مطابق نرسا پور کے متعصب ٹیچر نے یہاں تک کہہ دیا کہ کوئی بھی اس کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا۔ متعصب ذہن کے یہ اساتذہ اور پرنسپالس حکومت کے اقامتی اسکولس کے منصوبہ کو دراصل ناکام بنانے کے درپے ہیں تاکہ اقامتی اسکولس بہت جلد زوال سے دوچار ہوجائیں۔ ان کی حرکتوں سے نہ صرف مسلم طلبہ کی دل آزاری ہورہی ہے بلکہ سرپرستوں نے سوسائٹی کے عہدیداروں کی مجرمانہ خاموشی پر تنقید کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں میں موجود اسکولوں میں متعصب اساتذہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور ان پر کوئی نگرانکار نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اقلیتی اسکولوں کے پرنسپالس اور اساتذہ کا تعلق اقلیتی فرقہ سے ہوتا تاکہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ دینیات اور اخلاقیات کی تعلیم پر توجہ دے پاتے۔ اسکولوں میں دینیات اور اخلاقیات بحیثیت مضمون تو شامل ہے لیکن جب متعصب عہدیدار زعفرانی تہذیب کو مسلط کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر طلبہ پر کیا اثر پڑے گا۔ ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو اے کے خاں جو سوسائٹی کے نائب صدر نشین ہیں انہیں فوری اس جانب توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT