Monday , June 26 2017
Home / ہندوستان / مائونوازوں کے خلاف لڑائی میں فنڈس کی فراہمی روکنا ضروری

مائونوازوں کے خلاف لڑائی میں فنڈس کی فراہمی روکنا ضروری

اصل دھارے سے ہٹ جانے والوں کیلئے معاشی وسائل تمام برائیوں کی جڑ، جائزہ اجلاس سے راجناتھ کا خطاب
نئی دہلی۔8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ مائونوازوں کے خلاف لڑائی میں ان کے مالی وسائل پر ضرب لگانا بہت اہم اور بنیادی چیز ہوگی اور تمام متاثرہ ریاستوں سے اپیل کی کہ مخالف نکسلائٹ آپریشن کی ذمہ داریاں لیں۔10 مائوسٹ سے متاثرہ ریاستوں کے چیف منسٹروں اور اعلی عہدیداروں کی میٹنگ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ان گریلا جنگجوئوں سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی وسائل کسی بھی جنگ میں اہم رول ادا کرتے ہیں اور جب رقم دستیاب ہوجائے تو ہی کھانے پینے کے اشیاء خریدنا اور اسلحہ و دیگر ہتھیار قبضے میں رکھنا ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے بائیں بازو کے انتہاپسندوں کے مالی وسائل پر ضرب لگانا اہم ہے۔ یہ میٹنگ چھتیس گڑھ کے ضلع سکما میں دو ہفتے قبل گھات لگاکر کیئے گئے حملے میں 25 نیم فوجی ملازمین کی ہلاکت کے پس منظر میں منعقد کی جارہی ہے۔ راجناتھ نے انتہاپسندوں کے خلاف بھرپور جنگ کا اعلان کرتے ہوئے زور دیا کہ تمام متعلقہ ریاستوں میں مربوط حکمت عملی ہونا چاہئے۔ ایک یونیفائڈ کمانڈ کی ضرورت ہے جو ہر سطح پر کام کرے اور تمام ریاستوں میں رابطہ بھی قائم رکھے۔ راجناتھ نے کہا کہ ہمیں اپنی پالیسی میں جارحانہ پن لانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بہت زیادہ دفاعی انداز سے فائدہ نہیں ہوگا۔ ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ جہاں کہیں سنٹرل آرمڈ پولیس فورس کام کرے گی وہاں مخالف نکسلائٹ آپریشنس کی ذمہ داری متعلقہ ریاستوں کو نبھانی پڑے گی۔ انہوں نے دہرایا کہ نکسلائٹ مسئلہ کا حل کوئی خاص گولی یا لڑائی کے ذریعہ نہیں ہوسکتا بلکہ اس مسئلہ کے تمام پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اسے حل کرنے کی کوشش ضروری ہے۔ 9/11 دہشت گردانہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے یقینی بنایا کہ اس کا اعادہ نہ ہونے پائے۔ 9/11 کمیشن نے بیان کیا تھا کہ یہ واقعہ انٹلیجنس کی ناکامی نہیں بلکہ بروقت صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا۔ اس لیے ہم نے آج جن باتوں پر غور و خوص کیا اس میں ہم نے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا۔ راج ناتھ نے اس لڑائی کو سب کی لڑائی اور مربوط جدوجہد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ تمام سے زیادہ موزوں اور اہل کون ہوسکتا ہے جو بائیں بازو کی انتہاپسندی سے نمٹ سکے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT