Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / مابعد ڈسمبر کرنسی جمع کرانے کی سہولت صرف این آر آئیز کو کیوں؟

مابعد ڈسمبر کرنسی جمع کرانے کی سہولت صرف این آر آئیز کو کیوں؟

معقول مشکلات والے افراد کیلئے گنجائش کا جائزہ لیا جائے : سپریم کورٹ
نئی دہلی ، 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج مرکز سے دریافت کیا کہ کیوں اس نے ایسے لوگوں کیلئے علحدہ زمرہ نہیں بنایا جو چلن سے ہٹا لئے گئے کرنسی نوٹوں کو 30 ڈسمبر 2016ء تک جمع نہیں کرا سکے، حالانکہ وہ این آر آئیز اور بیرون ملک مقیم افراد نہیں ہیں۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ وزیراعظم نے 8 نومبر کے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ واجبی وجوہات کے حامل افراد نوٹ بندی والی کرنسی 30 ڈسمبر 2016ء کے بعد بھی 31 مارچ 2017ء تک جمع کرا سکتے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ڈسمبر کے بعد والی مدت میں آر بی آئی برانچس میں کرنسی جمع کرانے کی بات کہی گئی تھی۔ ’’ہمیں وجوہات بتائیں کہ کیوں قانون کے تحت اختیارات حاصل ہونے کے باوجود آپ نے ان افراد کیلئے کوئی زمرہ تشکیل نہیں دیا جو نوٹ بندی والی کرنسی 30 ڈسمبر 2016ء سے قبل جمع نہیں کرا سکے۔‘‘ فاضل عدالت کی بنچ نے جو میں جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایس کے کول بھی شامل ہیں، کہا کہ حکومت کو 11 اپریل تک حلفنامہ داخل کرتے ہوئے وجہ پیش کرنا چاہئے کہ کیوں کچھ مشکل رکھنے والے افراد کیلئے سہولت نہیں دی گئی اور یہ موقع صرف این آر آئیز اور بیرون ملک سفر کرنے والے شہریوں کو دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے مرکز سے یہ بھی استفسار کیا ہے کہ آیا وہ معقول وجوہات رکھنے والے اس زمرہ کے لوگوں کو نوٹ بندی والی کرنسی جمع کرانے کا موقع دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT