Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / ماحولیاتی دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہو ؟

ماحولیاتی دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ہو ؟

محمد ریاض احمد
اللہ عزو جل نے انسان کو دنیا کی بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں ۔ کھیتی باڑی کے ذریعہ ان میں اپنے لئے اناج پیدا کرنے کا ہنر پیدا کیا ، سرسبز و شاداب درختوں و پودوں ، بہتی دریاؤں ، حد نظر تک دکھائی دینے والے سمندروں ، پروقار انداز میں اپنے خالق کی حمد و ثنا کرتی جھیلوں ، مخلوق کی آبی ضروریات پوری کرنے والے تالابوں ، ندیوں ، کنٹوں ، آبشاروں ، جھرنوں ، آسمان کو چھوتے بلند و بالا پہاڑوں ، انسانیت کی بقا کو یقینی بنانے والے وسیع و عریض جنگلات ان میں پائے جانے والے حیوانات ، گھونسلوں میں رہنے والے چڑیوں ، آسمانوں میں اڑان بھرنے والے پرندوں ، غرض ہر ہر چیز کو زمین پر اپنے خلیفہ انسان کیلئے پیدا کیا ۔ تاکہ وہ اللہ عز و جل کی ان تمام نعمتوں سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اس کا شکر بجالائے لیکن افسوس صد افسوس کہ انسان نے ان نعمتوں کو استعمال تو کیا لیکن اللہ کی دی ہوئی عقل سلیم پر وہ اس قدر متکبر ہوگیا کہ اپنی قابلیت کے زعم میں اس نے قدرت سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی ۔ انسانی بہبود کیلئے کام کرنے کی بجائے اس نے اپنی ہی برادری کیلئے تباہی و بربادی کا سامان کیا ۔ قبیلوں سے اقوام میں تقسیم ہوا اور پھر قوموں کے نام پر سرحدوں کی بنیادیں ڈال دیں ، اس طرح حضرت انسان نے ہی اللہ کی عطا کردہ زمین اس کے پیٹ میں پائے جانے والے پانی ، قدرتی وسائل وغیرہ کی بھی تقسیم عمل میں لائی ۔ اچھا ہوا کہ ہوا اس کے اختیار میں نہیں ورنہ وہ ساری دنیا پر حکمرانی کیلئے دوسری اقوام یا ملکوں کے لئے ہوا ہی بند کردیتا ۔ ہم بات کررہے تھے انسان کیلئے عطا کردہ قدرت کی نعمتیں اور انسان کی احسان فراموشی کی ، انسانوں کی خود غرضی اور قدرت سے بغاوت کے نتیجہ میں ہی آج دنیا میں تباہی و بربادی کا سلسلہ جاری ہے ۔ جنگلات میں اچانک آگ کا بھڑکنا ، طوفان و سیلاب کی زد میں آکر شہروں و قصبات کا نام و نشان مٹ جانا ، اسلحہ کی دوڑ میں آگے نکلنے کیلئے مختلف ملکوں و اقوام کا ایک دوسرے کا قتل عام کرنا ، زلزلہ کی شکل میں زمین کا پھٹ کر وقت واحد میں ہزاروں انسانوں کو نگل لینا ، فضا کا آلودہ ہونا ، بے شمار ممالک میں قحط کا پڑنا یہ سب کچھ انسانی گناہوں ،

غلطیوں اور قدرتی معاملت میں مداخلت کا ہی نتیجہ ہے ۔ ماحولیاتی تبدیلی ، عالمی حدت انسانیت کی بقا کیلئے سب سے بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں اسی کے باعث فضائی الودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے ۔ فی الوقت دنیا کے تقریباً 195 ممالک پیرس میں بیٹھے اس خطرناک مسئلہ کا حل نکالنے کی جان توڑ کوشش کررہے ہیں (یہ سطور پڑھنے تک پیرس میں ماحولیاتی کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہوگی اور اس میں دنیا میں کاربن کے  اخراج کو کم سے کم کرنے سے اتفاق بھی کیا جاچکا ہوگا کیونکہ کسی نتیجہ پر نہ پہنچنے کے باعث کانفرنس کے دورانیہ میں ہفتہ تک توسیع کی گئی تھی) ۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے کہ دنیا ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے باعث بڑی تیزی کے ساتھ اپنی ہلاکت کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ یہ کوئی مذاق نہیں بلکہ حقیقت ہے ۔ اس کا ثبوت عالمی ادارہ صحت کی حال ہی میں جاری کردہ وہ رپورٹ ہے جس میں یہ دل کو دہلانے والا انکشاف کیا گیا کہ فضائی آلودگی کے باعث دنیا میں ہر سال 70 لاکھ یعنی ماہانہ 5.83 لاکھ افراد فوت ہوتے ہیں ۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں ہونے والی 8 اموات میں سے ایک فضائی آلودگی کے نتیجہ میں واقع ہوتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کا یہ بھی کہنا ہے کہ سال 2012 میں گھروں اور فیکٹریوں میں پیدا ہوئی فضائی آلودگی کے نتیجہ میں 43 لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ ان میں سے اکثریت ایشیائی ممالک بشمول ہندوستان ، پاکستان ، سری لنکا ، بنگلہ دیش ، مائنمار اور چین کے ایسے لوگوں کی تھی جو گھروں میں مٹی کے چولہوں میں لکڑی اور کوئلہ جلا کر اس پر پکوان کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس سال 2012 میں ہی 37 لاکھ افراد گھروں اور فیکٹریوں کی نہیں بلکہ گاڑیوں ، مشینوں وغیرہ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کا نشانہ بن کر اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے ۔ اگر انسان ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کی تباہی اور فضائی آلودگی سے ہونے والی بربادی پر غور کرے تو اسے یقیناً اندازہ ہوگا کہ یہ سب کچھ ٹکنالوجی ، صنعتی ترقی ، شہروں کے پھیلاؤ ، جنگلات کے کٹاؤ ، پٹرول ، ڈیزل اور کوئلہ کے بے تحاشہ استعمال کے ثمرات ہیں ۔ کیونکہ 1750 میں صنعتی انقلاب برپا ہونے سے قبل دنیا انتہائی پرسکون تھی ۔ پاک و صاف ماحول سے انسانیت مستفید ہورہی تھی لیکن کارخانوں ، فیکٹریوں میں جب مشینیں چلنے کا آغاز ہوا ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیداوار میں 38 تا 40 فیصد اضافہ ہوا ۔ حضرت انسان نے صنعتی انقلاب کے زعم میں آگر قدرت سے چھیڑ چھاڑ شروع کردی ۔

سب سے پہلے کوئلہ کی نکاسی اور شہروں کو بسانے کی خاطر جنگلات کا کٹاؤ شروع کیا جو ماحولیاتی عدم توازن کا نقطہ آغاز ثابت ہوا ۔ اگر دیکھا جائے تو ہندوستان ، آسٹریلیا ، انڈونیشیا ، کناڈا ، کولمبیا ، چین ، امریکہ غرض دنیا کے بیشتر ممالک میں ماحولیاتی تبدیلی کے بھیانک نتائج برآمد ہونے کے باوجود جنگلات کے کٹاؤ کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس کا سبب دریافت کیا جاتا ہے تو یہی جواب ملتا ہے کہ ان جنگلات کا کوئلہ کی کانکنی کیلئے کٹاؤ کیا جارہا ہے جس سے عوام کو بجلی فراہم کی جائے گی اور صنعتوں میں پیداوار کو بڑھایا جائے گا لیکن ایسی پیداوار جس سے انسانی بقا ہی خطرہ میں پڑجائے کس کام کی؟ پیرس ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کانفرنس کے پس منظر میں جو اعداد و شمار منظر عام پر آئے اس کے مطابق دنیا میں تقریباً 12 ملین ہیکٹر اراضی پر پھیلے جنگلات کو کٹاؤ کا جوکھم ہے ۔ مثال کے طور پر ہندوستان اور کولمبیا میں 250000 ہیکٹر اراضی پر پھیلے جنگلات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ اسی طرح انڈونیشیا میں 86 لاکھ ، آسٹریلیا میں 13 لاکھ ، کناڈا میں 11 لاکھ ، امریکہ میں 21100 ہیکٹر اراضی پر پھیلے جنگلات کو کٹاؤ کا خطرہ درپیش ہے ۔ ماہرین کے مطابق13 لاکھ ہیکٹر اراضی فٹبال کے21 لاکھ میدانوں کے برابر ہوتی ہے ۔ آج ماحول میں ڈیزل ، پٹرول (ایندھن) جنگلات کے کٹاؤ اور درختوں کی کٹائی سے 3 ملین ٹن کاربن ڈالی آکسائیڈ کا ذخیرہ جمع ہورہا ہے اس کیلئے دولت مند اور ترقی یافتہ ممالک ہی زیادہ ذمہ دار ہیں۔ باالفاظ دیگر وہ ماحولیاتی دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہوئے دنیا کی تباہی و بربادی کا سامان کررہے ہیں ۔ ماحول میں کاربن ڈائی آکسائیڈ ، میتھین اور دیگر زہریلی گیسس بڑی تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔ دنیا میں فضائی آلودگی میں چین کا رول بڑا بھیانک ہے ۔ وہ ان دس ملکوں میں سرفہرست ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسس (کاربن ڈائی آکسائی) خارج کرتے ہیں ۔ یہ ایسے ملک ہے جو دنیا میں خارج ہونے والی 70 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا باعث بنتے ہیں ۔ صرف ہمارا پڑوسی ملک چین جہاں صنعتی پیداوار نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے ، ماحول میں دنیا کی 24 فیصد کاربن خارج کرتا ہے ۔ دوسرے نمبر پر امریکہ ہے جس کی فیکٹریوں کی چمنیوں اور گاڑیوں کے سائلنسروں ، گھروں کے ہیٹروں سے 12 فیصد کاربن کا اخراج عمل میں آتا ہے ۔ یوروپی یونین 9 فیصد اخراج کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے ۔ ہندوستان اور برازیل دونوں ملک چھ ، چھ فیصد کاربن کے اخراج کا باعث بنے ہوئے ہیں ۔ روس 5 فیصد ، جاپان کینڈا بالترتیب 3 اور 2 فیصد کاربن خارج کرتے ہیں ۔

انڈونیشیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج 1.5 فیصد ہے ۔ کانگو جیسا ملک بھی 1.6 فیصد کاربن کے اخراج کے ساتھ اس کے شانہ بشانہ چل رہا ہے ۔ اگر مذکورہ دس ملکوں میں کاربن کے اخراج پر 50 فیصد بھی کمی لانے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس سے انسانیت کو بہت بڑی راحت مل سکتی ہے ۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق کرہ ارض کی سطح کے درجہ حرارت میں پچھلے سو برس میں 0.85 ڈگری سلسیس کا اضافہ ہوا ہے اور ان سو برسوں میں 2015 بہت گرم رہا اور ہوسکتا ہے کہ آنے والے برس درجہ حرارت کے لحاظ سے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔ انسان کی حرص و لالچ اور اس کے ذہن پر ہر حال میں ترقی کرنے کا جو جنون سوار ہے اس کے تحت صنعتی پیداوار میں اضافہ کیلئے جانے انجانے میں کاربن کا اخراج تیزی سے کیا جارہا ہے ۔ نتیجہ میں زمین کا کرہ ہوائی سورج سے آنے والی توانائی کو قید کرکے اسے باہر نکلنے نہیں دے رہا ہے ، اس کے علاوہ جنگلات کو کاٹ کر انسان خود اپنے پیر پر کلہاڑی چلا رہا ہے کیونکہ جنگلات کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنے اور ہوا کو زہریلے ذرات سے پاک کرنے کا کام انجام دیتے ہیں ۔ کاربن کے اخراج میں اضافہ سے گلیشیرس تیزی سے پگھل رہے ہیں ، سمندروں کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے (اس اضافہ سے شہروں بلکہ ملکوں کے ڈوب جانے کا خطرہ رہتا ہے) ۔ موسمی حالات سنگین رخ اختیار کرتے جارہے ہیں ۔ یہ سب درجہ حرارت میں اضافہ کی وجوہات ہیں ۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس سے سیلاب و طوفان شدید گرمی اور خشک سالی سے انسانیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اس ضمن میں ہمارے سامنے  چینائی ہے جہاں قدرت سے انسانی چھیڑ چھاڑ کے باعث چند دنوں کے سیلاب نے سارے شہر کو ڈبودیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف مدراس (چینائی) آئی آئی ٹی کی تعمیر کیلئے 52 ایکڑ اراضی پر پھیلے جنگلات کاٹے گئے اور کیمپس میں نئی عمارتوں کی تعمیر کیلئے 8000 سے زائد درختوں کو ٹھکانے لگایا گیا ۔
جہاں تک ہندوستان کا سوال ہے فضائی آلودگی کے نتیجہ میں ہر سال 13 لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ 5 برسوں کے دوران فضائی آلودگی کے باعث تنفس عارضوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ دارالحکومت دہلی کو دنیا کی سب سے آلودہ شہر قرار دیا گیا ہے ۔ ویسے بھی فضائی آلودگی کے لحاظ سے دنیا کے 20 بدترین شہروں میں ہندوستان کے 13 شہر شامل ہیں ۔ حال ہی میں دہلی ہائیکورٹ نے اس تاریخی شہر کو ’’گیس چیمبر‘‘ سے تعبیر کیا جس سے دہلی میں آلودگی کی سنگینی کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔ اس کے باوجود دہلی کی سڑکوں پر ہر روز 1400 نئی گاڑیاں دوڑتی ہیں جبکہ پہلے ہی سے وہاں 90 لاکھ گاڑیاں آلودگی پھیلانے میں مصروف ہیں ۔ دہلی میں لوگ خاص کر بچے دمہ ، پھیپھڑوں و شش کی بیماریوں  ، امراض قلب اور پیدائشی نقائص سے متاثر ہیں ۔ دہلی اور ہندوستان کے دیگر شہروں میں آلودگی پیدا کرنے والے ذرات PM 2.5  کی تعداد کی حد فضا میں 25 مائیکروگرام فی کیبوک میٹر ہونی چاہئے لیکن اس سے کئی سو گنا زیادہ پائی جاتی ہے ۔ ہندوستان میں آلودگی کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں 300 ملین لوگوں کی بجلی تک رسائی نہیں ہے جبکہ 800 ملین ہندوستانی گیس سلنڈرس کی بجائے لڑکی ، گوبر کی اوپلیوں وغیرہ کو جلا کر پکوان کرتے ہیں ۔ بہرحال اگر دنیا بالخصوص ہندوسستان کو فضائی آلودگی سے بچنا ہو تو سب سے پہلے جنگلات کا کٹاؤ بند کرنا ہوگا ، زیادہ سے زیادہ شجرکاری کرنی ہوگی ۔ ایندھن کے احتیاط سے استعمال کو یقینی بنانا ہوگا اور سب سے بڑھ کر ترقی یافتہ و متمول ملکوں کی جانب سے ترقی پذیر اور غریب ملکوں کو فضائی آلودگی پر قابو پانے میں بھرپور مالی مدد کی جانی ہوگی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسانی ذہنوں کو بھی فرقہ پرستی ، تعصب ، جانبداری ، تشدد ، عدم رواداری ، بے شرمی و بے حیائی کی آلودگی سے پاک رکھنا ضروری ہے ۔ تب ہی وہ ماحول کو پاک و صاف رکھ سکتا ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT