Wednesday , June 28 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مادر شکم میں جنس کا پتہ لگانے سے گریز کا مشورہ

مادر شکم میں جنس کا پتہ لگانے سے گریز کا مشورہ

گمبھی راؤ پیٹ میں بین الاقوامی یوم خواتین سے ضلع کلکٹر کا خطاب
گمبھی راؤ پیٹ ۔7 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) پیشہ طب سے وابستہ بعض افراد چند روپیوں کی خاطر حاملہ خواتین کے شکم میں جنس کا پتہ لگاکر افراد خاندان کو آگاہ کررہے ہیں جس کی وجہ ہمارے یہاں لڑکیوں کی پیدائش کی شرح کم ہورہی ہے اور لڑکوں کی پیدائش کی شرح میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس کی ہم سب کو مل کر فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار ضلع کلکٹر سرسلہ ڈی کرشنا بھاسکر نے کیا۔ یہاں گمبھی راؤ پیٹ کے گائتری فنکشن ہال میں بین الاقوامی یوم خواتین کے ایک پروگرام کو مخاطب کررہے تھے۔ انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ مادر شکم میں جنس کا پتہ لگانے سے گریز کریں جوکہ قانونی جرم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی پیدائش کو بوجھ سمجھنا ترک کریں۔ حکومت خواتین کی فلاح و بہبود کے کئی منفرد اسکیمات کو روبہ عمل لاکر انہیں خود مکتفی بنا رہی ہے۔ ضلع کلکٹر نے خواتین پر زور دیا اور کہا کہ آئندہ دنوں لڑکوں کو لڑکیوں کا ملنا دشوار کن ہوجائے گا اور ایک ایسا وقت آئے گا کہ شادی بیاہ کیلئے خود لڑکے والے لڑکی والوں کو لین دین یا روپیہ پیسہ دے کر شادی رچائیں گے۔ انہوں نے خواتین کی ملک میں بڑھتے ہوئے ترقیاتی قدموں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ آج سماج میں خواتین مردوں کی بہ نسبت آگے آچکے ہیں۔ چاہے وہ تعلیمی میدان ہوکہ ملازمت، اس بین الاقوامی یوم خواتین پروگرام میں منڈل سطح کے آنگن واڑی ورکرس، اے این ایمس، مہیلا گروپس خوتاین کی ہزارہا تعداد موجود تھی۔ تقریب کے دوران مختلف مدارس کے لڑکیوں نے کلچرل پروگرام پیش کئے۔ اس موقع پر DRO شیام پرساد، زیڈ پی ٹی سی ملو گاری پدما، ایم پی پی گنگا سایوا کے علاوہ ملوگاری نرسا گوڑ، محبوب علی، ڈاکٹر راجہ رام، ستاری سمپورنا، دیاکر راؤ، کملاکر ریڈی وغیرہ موجود تھے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT