Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / مارکو روبیو صدارتی عہدہ کے مضبوط دعویدار تین ری پبلکنس دستبردار

مارکو روبیو صدارتی عہدہ کے مضبوط دعویدار تین ری پبلکنس دستبردار

واشنگٹن ۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) آئیوا پرائمریز میں مستحکم موقف کا مظاہرہ کرنے والے فلوریڈا سینیٹر مارکو روبیو جنہیں ایک ’’مضبوط دعویدار‘‘ بھی تصور کیا جارہا ہے، ان کا موقف ری پبلکن کے تین امیدواروں کے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے دستبردار ہونے اور ان میں سے ایک کے ذریعہ مارکو روبیو کی زبردست تائید کے اعلان نے انتہائی مستحکم ہوگیا ہے۔ آئیوا پرائمریز کے نتائج سامنے آنے کے بعد ری پبلکن امیدواروں (جن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ ان کی وجہ سے انتخابی دوڑ میں بھیڑبھاڑ ہوگئی ہے) کی تعداد میں کمی کے بعد اب مقابلہ سہ رخی ہوچکا ہے جن میں روبیو کا نمبر ٹیکساس سینیٹر ٹیڈکروز اور متنازعہ امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے بعد تیسرا ہے۔

صدر بارک اوباما پر امریکہ کو منقسم کرنے کا الزام
مسجد کا دورہ کرنے کے بعد اوباما پر ڈونالڈ ٹرمپ اور مارکو روبیو کی تنقید
واشنگٹن۔ 4 فروری (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے ری پبلیکن پارٹی کے دو صدارتی امیدواروں ڈونالڈ ٹرمپ اور مارکو روبیو نے صدر بارک اوباما کو دورۂ مسجد اور مسلمانوں سے بات چیت پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ نے ’’فاکس نیوز‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہمارے پاس کئی مسائل ہیں اور کئی ایسے مقامات ہیں جہاں پر اوباما جاسکتے ہیں اور انہیں جانا بھی چاہئے تھا لیکن انہوں نے صرف مسجد کو جانا پسند کیا‘‘۔ نیو ہیمسپائر ٹاؤن ہال میں ری پبلیکن کے ایک اور اُمیدوار مارکو روبیو نے کہا کہ مسجد کا دورہ کرتے ہوئے اوباما نے امریکہ کو تقسیم کرنے کی ایک اور مثال پیش کی ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے کئی مرتبہ ایسی حرکتیں کرکے امریکہ کے اندر رہنے والوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا تھا۔ مَیں سیاسی وجوہات کی بناء ایک دوسرے کے خلاف اظہارِ خیال سے بیزار ہوچکا ہے لیکن صدر امریکہ مسلسل یہی کررہے ہیں۔ ہمیشہ امریکی عوام کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کررہے ہیں۔ مسجد میں اوباما نے جو تقریر کی ہے، دراصل وہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کرنے کا امریکیوں پر الزام تھوپ رہے ہیں۔ بلاشبہ امریکہ میں ہر قسم کا امتیازی سلوک ہورہا ہے، لیکن سب سے بڑا مسئلہ ’’ریاڈیکل اسلام ‘‘ ہے، تاہم ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار بینرے سینڈرس نے اوباما کے دورۂ مسجد کی ستائش کی اور کہا کہ مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک اہم کام تھا۔ اگر یہ ملک اپنے اندر کچھ اہمیت رکھتا ہے تو وہ یہاں کی مذہبی آزادی ہے۔ مذہبی رواداری بھی پائی جاتی ہے۔ مجھے یہ واضح کرنے دیجئے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ان جیسے دیگر لوگوں نے جو کچھ کہا ہے ، وہ دراصل مسلمانوں کے مذہب کی مذمت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں آنے والے دنوں میں ہمیں مسلمانوں سے واسطہ نہیں رکھنا چاہئے اور انہیں برداشت نہیں کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ صدر اوباما نے کل بالٹیمور کی مسجد کا دورہ کرتے ہوئے مقامی مسلمانوں سے ملاقات کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT