Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ماسکو میں یورپ کی بڑی جامع مسجد کا افتتاح

ماسکو میں یورپ کی بڑی جامع مسجد کا افتتاح

People listen to Russian President Vladimir Putin as he delivers a speech at a ceremony to open the Moscow Grand Mosque in Moscow, Russia, September 23, 2015. The new mosque, which was erected on the site of the city's original mosque built in 1904 and which has been under reconstruction since 2005, will be able to accommodate up to 10,000 people simultaneously, according to local media. REUTERS/Maxim Zmeyev

20 ہزارمربع میٹر رقبے پر محیط مسجد میں 10 ہزار افراد نماز ادا کرسکیں گے
ماسکو۔ 23 ۔ ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)روسی صدر ولادی میر پوتین نے ماسکو میں ایک بہت بڑی جامع مسجد کا افتتاح کردیا ہے۔یہ یورپ کی چند بڑی مساجد میں سے ایک ہے۔ اس موقع پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور فلسطینی صدر محمود عباس مہمانانِ خصوصی تھے۔روسی دارالحکومت میں تعمیر کردہ اس مسجد کا رقبہ بیس ہزار مربع میٹر ہے اور اس میں بیک وقت دس ہزار افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔اس موقع پر صدر پوتین نے تقریرکرتے ہوئے کہا کہ ”یہ مسجد ماسکو کے علاوہ روس بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک اہم روحانی مرکز بنے گی۔یہ تعلیم ،انسانی نظریات اور اسلام کی حقیقی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنے گی”۔مسجد کی تعمیر پر سترہ کروڑ ڈالرز لاگت آئی ہے اور اس کی تکمیل میں ایک عشرہ لگ گیا ہے۔اسی جگہ پر پہلے ایک قدیم مسجد واقع تھی اور اس کو شہید کرکے یہ نئی بڑی مسجد تعمیر کی گئی ہے۔پرانی مسجد کی شہادت کے معاملے پر مسلمانوں اور روسی حکام کے درمیان تنازعہ بھی پیدا ہوا تھا۔ولادی میر پوتین نے سرکاری ٹیلی ویڑن سے نشر کی گئی تقریر میں جہادی گروپوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو ان کے بہ قول سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذہبی جذبات واحساسات کا استحصال کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ”مشرق وسطیٰ میں جو کچھ رونما ہورہا ہے،ہم وہ دیکھ رہے ہیں،وہاں داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد دنیا کے ایک عظیم دین اسلام کو نفرت کے بیج بونے کے لیے استعمال کررہے ہیں”۔واضح رہے کہ روس کے علاقے شمالی قفقاز سے تعلق رکھنے والے جہادیوں کی ایک بڑی تعداد بھی اس وقت شام اور عراق میں داعش یا دوسرے گروپوں کی صفوں میں شامل ہوکر لڑرہی ہے اور وہ اپنے آبائی علاقے میں بھی وقفے وقفے سے حملے کرتے رہتے ہیں۔روسی وزیرداخلہ ولادی میرکولوکولتسیف نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ قریباً اٹھارہ سو روسی شہری داعش میں شامل ہو چکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT