Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / مالیگاؤں: بے قصور مسلم نوجوانوں کے 10 سال ضائع

مالیگاؤں: بے قصور مسلم نوجوانوں کے 10 سال ضائع

دہشت گردی کے الزام میں بری ہونے والے نوجوانوں کی زندگیاں تباہ
نئی دہلی ۔ /8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مالیگاؤں بم دھماکوں میں گرفتار کردہ 9 مسلمانوں کی زندگی کے قیمتی 10 سال ضائع ہوگئے ۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے گرفتار شدہ ان نوجوانوں کے خلاف ثبوت نہ ہونے کی رپورٹ داخل کی تھی جس پر سیشن کورٹ نے ان تمام کو دہشت گردی کے الزام سے بری کردیا تھا ۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کی لاپرواہی اور کوتاہیوں نے مسلم نوجوانوں کی نہ صرف زندگیاں تبارہ کردی ہیں بلکہ معاشرہ میں ان کے لئے مشکلات بھی پیدا کردی تھیں ۔ 9 بری ہونے والے مسلم نوجوانوں کے منجملہ 6 نوجوان نورالہدیٰ ، محمد زاہد ، رئیس احمد ، ڈاکٹر فاروق مخدومی ، ڈاکٹر سلمان فارسی اور ابرار احمد نے اپنی زندگیوں پر گزرنے والے مصائب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے الزام میں انہیں پھانس کر ہندوستان میں مسلمانوں کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ 35 سالہ عمر زاہد نے بتایا کہ میں مالیگاؤں سے 450 کیلو میٹر دور تھا اور میری بے گناہی کیلئے 75 ہندوؤں کے بشمول 300 افراد گواہی دی تھی لیکن کسی نے نہیں سنا ۔ محروسی کے دنوں میں دی جانے والی اذیت کے بارے میں رئیس احمد 43 سال ایمیٹیشن جویلری شاپ مالک نے بتایا کہ محروسی کے دنوں میں ناقابل برداشت اذیتیں دی گیئں ۔ عدالت میں پیشی کی تاریخ سے قبل یا میڈیکل چیک اپ سے قبل ہی زدوکوبی روک دی جاتی تھی ۔ یونانی ڈاکٹر 42 سالہ ڈاکٹر فاروق مخدومی نے بتایا کہ اگر بی جے پی اور آر ایس ایس کو ہنوز ہماری بے گناہی پر شبہ ہے تو میں ان کے ساتھ بیٹھ کر یا ان لوگوں کے ساتھ جو مسلم دشمنی میں بیانات دیتے ہیں خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کریں گے ۔جج وی وی پاٹل نے /25 اپریل کو ان تمام مسلمانوں پر سے دہشت گردی کا لیبل ہٹادیا ہے لیکن یہ 10 سال کے اذیت ناک دن رات تاحیات ان کا تعاقب کرتے رہیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT