Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / مالیگاؤں دھماکہ مقدمہ: دو پولیس اہلکاروں کو عبوری راحت

مالیگاؤں دھماکہ مقدمہ: دو پولیس اہلکاروں کو عبوری راحت

اندور کورٹ سے رجوع ہونے کی ہدایت ،عینی گواہ کی گمشدگی میں ملوث ہونے کا الزام
ممبئی ۔ 5 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بمبئی ہائیکورٹ نے 2008ء مالیگاؤں بم دھماکہ مقدمہ میں دو پولیس ملازمین کو گرفتاری سے عبوری تحفظ فراہم کیا ہے۔ ان پر عینی گواہان کے لاپتہ ہونے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ عدالت نے ان دونوں سے کہا ہیکہ وہ مدھیہ پردیش کورٹ سے رجوع ہوں جس نے ان کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے ہیں۔ انسپکٹر رمیش مورے اور ریٹائرڈ اسسٹنٹ کمشنر پولیس راجندر گھولے نے ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت قبل از گرفتاری داخل کی جبکہ اندور میں مجسٹریٹ کورٹ نے جاریہ سال 30 مئی کو ان دونوں کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔ سی بی آئی نے مورے اور گھولے پر اندور کے ساکن دلیپ پٹہ دار کے لاپتہ ہونے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ وہ 2008ء مالیگاؤں دھماکوں مقدمہ کا عینی گواہ تھا۔ جسٹس ریوتی موہیتے نے ان دونوں کو 3 ہفتہ کیلئے گرفتاری سے تحفظ فراہم کیا۔ اس دوران وہ اندور میں عدالت سے رجوع ہوکر ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ منسوخ کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں۔

ایڈوکیٹ نرنجن مندرگی نے مورے اور گھولے کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے عدالت کو بتایا ہیکہ سی بی آئی نے2014 ء میں اپنی قطعی رپورٹ پیش کی جس میں ان دونوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو منظوری نہیں دی گئی تھی لیکن اندور کورٹ نے سی بی آئی کی دلیل کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے وارنٹ جاری کیا۔ سی بی آئی کے وکیل ہتن وینی گوانکر نے کہا کہ ایجنسی درخواست ضمانت کی مخالفت کررہی تھی۔ تاہم ہائیکورٹ نے یہ جاننا چاہا کہ سی بی آئی درخواست ضمانت کی مخالفت کیوں کررہی تھی جبکہ وہ پہلے ہی اس مقدمہ میں اپنی قطعی رپورٹ پیش کرچکی تھی۔ دلیپ پٹہ دار کو مہاراشٹرا اے ٹی ایس ٹیم نے 10 ستمبر 2008ء کو اندور سے حراست میں لیا تھا۔ اس سے دو ماہ قبل مالیگاؤں میں ہوئے دو بم دھماکوں میں 7 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دلیپ پٹہ دار کو کلاچوکی پولیس اسٹیشن لایا گیا جہاں اے ٹی ایس نے ان دونوں بھولے گھولے سے تفتیش شروع کی۔ پٹہ دار اس جائیداد کا مالک ہے جہاں مالیگاؤں دھماکوں کا کلیدی ملزم رجمی کلسنگرا نے اپنا کچھ وقت گذارا تھا۔ اے ٹی ایس کو یہ یقین تھا کہ پٹہ دار کا حلفیہ بیان اس مقدمہ میں کلسنگرا کے خلاف ایک ٹھوس ثبوت ہوگا جو مفرور ہے۔ 17 نومبر 2008ء کو پٹہ دار نے آخری مرتبہ اپنے ارکان خاندان سے بات کی۔ اس نے فون پر اپنی بیوی کو بتایا کہ اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اور پولیس تحویل میں اسے ہراساں کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد ارکان خاندان مدھیہ پردیش ہائیکورٹ سے رجوع ہوئے۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ دلیپ پٹہ دار لاپتہ ہے جس پر عدالت نے یہ معاملہ سی بی آئی کے سپرد کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT