Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مالیگاؤں دھماکہ کیس کے ملازمین کو کلین چٹ کی مذمت

مالیگاؤں دھماکہ کیس کے ملازمین کو کلین چٹ کی مذمت

آر ایس ایس کے دباؤ پر مرکزی حکومت کا انعام، صدر تلنگانہ پی سی سی اقلیت ڈپارٹمنٹ کا ردعمل

حیدرآباد ۔ 14 مئی (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین نے مالیگاؤں دھماکے کیس میں سادھوی پرگیہ اور دیگر 5 ملزمین کو کلین چٹ دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے دباؤ کو قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی تحقیقات میں مداخلت کرتے ہوئے ہندو دہشت گردوں کو سخت سزاء دینے کے بجائے رہا ہونے کا موقع فراہم کرتے ہوئے انعام دیا ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ یہ رجحان ہندوستان کی سالمیت کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ 2008ء کے دوران ہوئے مالیگاؤں بم دھماکے میں نماز پڑھ کر لوٹنے والے 7 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کیس میں کرنل سریکانت پروہت، راکیش دھاواڑے، میجر رمیش اپادھیائے، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور سدھاکر دیویدی عرف دیانند پانڈے کے علاوہ دیگر کے خلاف مکوکا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ این آئی اے نے ان کے خلاف کئی ثبوت بھی اکٹھا کرلئے تھے۔ تاہم بی جے پی کی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کی تشکیل اور نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد ہندو دہشت گردوں کے مقدمہ میں نرمی پیدا کردی گئی۔ آر ایس ایس کے دباؤ کو قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے ان کے خلاف عائد کردہ تمام مقدمات سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے انہیں کلین چٹ دے دیا ہے۔ مسٹر محمد خواجہ فخرالدین الدین نے کہا کہ قومی تحقیقاتی ادارہ این آئی اے پر بھی آر ایس ایس کا کنٹرول ہوگیا ہے۔ پانچوں مجرمین کو دی گئی کلین چٹ اس کا ثبوت ہے۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس نے اپنی ابتدائی تحقیق میں یہ ثابت کردیا تھا کہ مالیگاؤں بم دھماکوں میں ان پانچوں دہشت گردوں کا اہم رول رہا ہے۔ تاہم مرکزی حکومت نے این آئی اے پر دباؤ ڈالتے ہوئے انہیں بے قصور ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا ہے۔ یہ فیصلہ ملک کے اتحاد و سالمیت کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہے۔ چند ماہ قبل سرکاری وکیل روہنی سالیان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی حکومت ہندو دہشت گردوں کے تعلق سے نرمی برتنے کیلئے این آئی اے پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ تب مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے اس کی تردید کی تھی۔ اے آئی ایس کے سربراہ آنجہانی کرکرے کی تفتیش پر بھی انگلیاں اٹھائی گئیں تھیں۔ اس میں خامیاں تلاش کی گئی تھیں۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ ہندوستانی نظام قانون انتہائی مضبوط، فعال اور غیرجانبدار ہے جس کی وجہ سے جن مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزامات میں پھنسایا جارہا ہے انہیں عدالتوں سے انصاف مل رہا ہے۔ مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد سرکاری اداروں کا سیاسی استعمال ہورہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT