Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / ’’مالیگاؤں کیس : این آئی اے موقف میں اچانک قلابازی میں وزیراعظم کا ہاتھ‘‘

’’مالیگاؤں کیس : این آئی اے موقف میں اچانک قلابازی میں وزیراعظم کا ہاتھ‘‘

سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات پر اصرار ، مودی سے دستوری حلف کے مطابق فرائض انجام دینے کا مطالبہ

٭   قومی سلامتی مشیر کے نام کرنل پروہت کے مکتوب پر کارروائی
٭   آنجہانی کرکرے کی قیادت میں باریک بین تحقیقات کو تباہ کرنے کی کوشش
٭   سادھوی پرگیہ کو منسوبہ الزامات سے بری کرنا آنجہانی کرکرے کی عظیم قربانی کی نفی کے مترادف ،پروہت کے مکتوب پر اجیت ڈوول کی کارروائی حیرت انگیز: آنند شرما

نئی دہلی ۔ /15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) مالیگاؤں دھماکہ کیس میں مادھوی پرگیہ اور دیگر ملزمین کے خلاف عائد الزامات سے دستبرداری کے مسئلہ پر اپوزیشن کانگریس نے نریندر مودی حکومت کے خلاف اپنے تنقیدی حملوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ 2008 ء کے مالیگاؤں دھماکہ کیس میں قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) کے موقف میں اچانک قلابازی دراصل وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) کی راست مداخلت کا نتیجہ ہے ۔ کانگریس نے اصرار کے ساتھ مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں دھماکہ کیس کی سپریم کورٹ کے زیرنگرانی تحقیقات کروائی جائیں ورنہ ان تحقیقات کا انجام بھی سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے مقدمہ جیسا ہوگا ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر آنند شرما نے کہا کہ ’’وزیراعظم کے دفتر (پی ایم او) سے راست مداخلت کی جارہی ہے ۔ ان (وزیراعظم) کے دفتر سے ایسا کیا جارہا ہے ۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب سب باتیں ثابت ہوگئی ہیں ۔ ڈرٹی ٹِرکس (پراگندہ جالبازیوں) کا ایک محکمہ چلایا جارہا ہے جس میں یہ حکومت مرکزی کردار کی حیثیت سے مربوط ہے ‘‘۔ آنند شرما نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ کرنل پی ایس پروہت نے جو دھماکہ کیس کا ایک ملزم ہے ، قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول کے نام /6 جنوری اور /8 جنوری کو مکتوب لکھا تھا جو وزارت داخلہ کو پہنچا اور /9 جنوری سے وزارت داخلہ نے اس پر کارروائی شروع کردی ۔ کانگریس کے سینئر قائد نے کہا کہ ’’میں نے کسی حکومت میں اہم فائیلوں پر بھی اس حد تک تیزرفتار کارروائی کبھی نہیں دیکھا ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ واضح ہے ہم وزیراعظم سے اصرار کرتے ہیں کہ جب انہوں نے اس عہدہ کا حلف لیا وہ کسی مخصوص نظریہ یا پارٹی کے نہیں رہتے بلکہ ہندوستان کے وزیراعظم ہوتے ہیں اور انہیں اس حلف کے خطوط کے مطابق فرائض انجام دینا چاہئیے ‘‘ ۔ آنند شرما نے کہا کہ این آئی اے کی طرف سے اس مقدمہ پر داخل کردہ تازہ ترین چارج شیٹ سے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کیلئے ہندوستان کے عزم و عہد پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے ۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ اس مقدمہ کی سپریم کورٹ کے زیرنگرانی تحقیقات کی اجازت دیتے ہوئے وہ دستور پر لئے گئے اپنے حلف کی پاسداری کریں ۔

کانگریس کے ایک سینئر لیڈر آنند شرما نے کہا کہ نیشنل انوسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) اب ’’ نامو انوسٹیگیشن ایجنسی‘‘ بن گئی ہے ۔ انہوں نے استدلال پیش کیا کہ یہ چارج شیٹ آنجہانی ہیمنت کرکرے کی قیادت میں ممبئی اے ٹی ایس کی طرف سے کی گئی بہترین تحقیقات کو درہم برہم اور غلط ثابت کرنے کے مقصد سے پیش کی گئی ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ این آئی اے نے محض اس لئے مکوکا الزامات کو خارج کردیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اے ٹی ایس کی طرف سے ریکارڈ شدہ بیانات بطور ثبوت قابل قبول نہ رہیں ۔ آنند شرما نے بشمول سادھوی پرگیہ چھ ملزمین کو بری کرنے کا سبب بننے والے اس اچانک تبدیل شدہ موقف کو سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ مکوکا اور دیگر قوانین کے تحت عائد دیگر الزامات سے دستبرداری کے سبب ماباقی ملزمین کے خلاف جاری مقدمہ بھی کمزور بنادیا گیا ہے ۔ سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ ’’ان اچانک تبدیلیوں نے ہندوستان کی سالمیت و یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کیلئے اس (ہندوستان) کے عزم و عہد پر سوالیہ نشانات لگادیئے ہیں ۔ ہندوستان کا یہ موقف بھی کمزور ہوا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے منظم دہشت گردی کا شکار ہوتا رہا ہے ۔ ہندوستان ، دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے عہد کا پابند ہے اور ہم دہشت گردی کی تمام اقسام کی مذمت کرتے ہیں ‘‘ ۔آنند شرما نے سوال کیا کہ آیا این آئی اے کے تازہ موقف ’’ آنجہانی کرکرے کی قربانی‘‘ کی نفی تو نہیں کی جارہی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مودی بذات خود اس معاملہ میں مداخلت کریں ۔ آنند شرما نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت اپنے نظریات کی پیروی کرنے والوں کو یا پھر اس کی حلیف و معاون ان تنظیموں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں جنہیں مختلف الزامات کا سامنا ہے ۔ سینئر کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہمارا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ دہشت گردی اور جرائم کا کوئی مذہب یا ذات نہیں ہوتی ۔ کانگریس کے ترجمان آر پی این سنگھ نے جو اس پریس کانفرنس میں موجود تھے ان اطلاعات کا تذکرہ کیا جن کے مطابق مالیگاؤں دھماکہ کیس کے اہم ملزم کرنل پی ایس پروہت نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول کے نام مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تشویشناک مسئلہ ہے ۔ آر پی این سنگھ نے مزید کہا کہ ’’میں جاننا چاہتا ہوں کہ قومی سلامتی کے مشیر کو ایسے دہشت گردوں کے کتنے مکتوب موصول ہوئے ہیں اور آیا کہ انہوں نے کارروائی کے لئے ان مکتوبات کو وزارت داخلہ سے رجوع کیا ۔ اگر یہی اس ملک کی داخلی سلامتی ہے اور اگر دہشت گردی کے مقدمات کو اس طرح سیاسی رنگ دیا جاتا ہے تو یقیناً یہ مسئلہ باعث تشویش ہے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT