Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / مالیگائوں بم دھماکہ میں ملوث دو ملزمین ’’زندہ‘‘ نہیں ہیں

مالیگائوں بم دھماکہ میں ملوث دو ملزمین ’’زندہ‘‘ نہیں ہیں

غلط طور پر زندہ بتایا گیا، شولاپور کی عدالت میں معطل شدہ اے ٹی ایس آفیسر محمود مجاور کا بیان

ممبئی۔30 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک سنسنی خیز دعوی کرتے ہوئے معطل شدہ مہاراشٹرا اے ٹی ایس آفیسر نے شولاپور کی عدالت کو بتایا کہ 2008ء کے مالیگائوں بم دھماکوں کے کیس میں مفرور 2 ملزمین ’’زندہ‘‘ نہیں ہیں۔ انہیں غلط طور پر اعلی پولیس عہدیداروں نے ’’زندہ‘‘ بتایا تھا۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس نے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے سابق انسپکٹر محمود مجاور کے الزامات کو نہایت ہی ’’سنگین‘‘ قرار دیا اور کہا کہ حکومت اس معاملہ کی جانچ کرے گی۔ شولاپور میں ایک مجسٹریٹ عدالت کے سامنے اگست میں درخواست داخل کی گئی تھی جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ سندیپ ڈینگے اور رامچندرا کالسنگرا جو مالیگائوں بم دھماکہ کیس میں ملزمین ہیں اب زندہ نہیں رہے۔ اس درخواست کی تفصیلات کل ہی منظرعام پر آئی ہیں۔ واضح رہے کہ محمود مجاور کو شولاپور کی عدالت میں ان کے خلاف داخل کردہ فوجداری درخواست اور آرمس ایکٹ کے تحت ایک کیس رجسٹر ہونے کے بعد معطل کردیا گیا تھا۔ مجاور نے الزام عائد کیا کہ سندیپ ڈینگے اور رام جی کالسنگرا درحقیقت اب زندہ نہیں رہے بلکہ انہیں مالیگائوں بم دھماکہ کیس میں اعلی مرتبہ  کے حامل پولیس عہدیداروں نے زندہ بتایا ہے۔

مجاور کی جانب سے یہ درخواست اس سال 9 اگست کو داخل کی گئی تھی جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھیکہ  وہ اس کیس کی جلد سے جلد یکسوئی کرے ان کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔ مجاور نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ ایک سازش کے تحت ان کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے اور یہ ایک دبائو ڈالنے کا حربہ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کیس کے تعلق سے سچائی کو آشکار کریں اور یہ بتائیں کہ سندیپ ڈینگے اور کالسنگرا کی موت ہوچکی ہے۔ جب مجاور کے دعوی کے بارے میں پوچھا گیا تو اے ٹی ایس کے سابق سربراہ کے پی راگھونشی نے اس دعوی کو بکواس قرار دیا اور کہا کہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آخر یہ مجاور کون ہے آیا وہ اس کیس کی تحقیقاتی ٹیم کا حصہ تھے۔ کم از کم اے ٹی ایس میں میرے دور میں ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔ شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک ریٹائرڈ پولیس عہدیدار جس نے اے ٹی ایس میں کام کیا ہے مجاور کے دعوی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ آخر 8 سال بعد اب یہ الزامات کیوں لگائے جارہے ہیں۔ آخر اس عہدیدار کو اتنے اہم حقائق کو منکشف کرنے سے کس نے روک دیا تھا۔ ہم کو ان کے دعوئوں پر یقین نہیں کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT