Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / مالیگاوں بم دھماکوں کا مقدمہ ‘ 8 مسلم نوجوان الزامات منسوبہ سے بری

مالیگاوں بم دھماکوں کا مقدمہ ‘ 8 مسلم نوجوان الزامات منسوبہ سے بری

نوجوانوں کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ ۔ عدالتی فیصلہ پر بری نوجوانوں کی آنکھیں چھلک پڑیں
ممبئی 25 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) مالیگاوں میں ہوئے بم دھماکوں کے دس سال بعد آج ایک خصوصی عدالت نے آٹھ مسلم نوجوانوں کو ثبوتوں کے فقدان کی وجہ سے تمام الزامات منسوبہ سے بری کردیا ۔ ان دھماکوں میں 37 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ ملزمین میں دو ڈاکٹرس بھی شامل تھے ۔ انہیں نامزد جج جسٹس وی وی پاٹل نے مہاراشٹرا انسداد منظم جرائم قانون ( مکوکا ) کے تحت الزامات منسوبہ سے بری کردیا ۔ سلسلہ وار بم دھماکے 8 ستمبر 2006 کو ناسک کے قریب مالیگاوں کی حمیدیہ مسجد کے قریب ایک قبرستان میں ہوئے تھے ۔ ان دھماکوں میں 100 افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ بم سائیکلوں پر رکھے گئے تھے جو قبرستان کے قریب پارک کی ہوئی تھیں ۔ جمعہ کے دن شب برات کے موقع پر یہ دھماکے کئے گئے تھے ۔ ابتداء میں اس کیس میں نو ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی دستہ نے چارچ شیٹ داخل کی تھی ۔ بعد ازاں سی بی آئی نے اس مقدمہ کی تحقیقات قبول کی تھیں اور اس نے بھی ان نو ملزمین کے خلاف چارچ شیٹ کی توثیق کردی تھی ۔ بعد ازاں این آئی اے کو اس کیس کی تحقیقات سونپی گئی تھی جس نے بعد میں مزید افراد کو جو اکثریتی برادری سے تعلق رکھتے تھے گرفتار کیا تھا ۔ یہ افراد ہنوز اس کیس میں ملزم ہیں۔ خصوصی جج نے کہا کہ وہ آٹھ ملزمین کی جانب سے الزامات منسوبہ سے بری کرنے کی درخواست کو قبول کر رہے ہیںکیونکہ ان تمام کے خلاف ثبوت موجود نہیں ہیں ۔ تمام آٹھ ملزمین اس کیس میں ضمانت پر تھے اور وہ آج فیصلے کی سماعت کیلئے عدالت میں حاضر ہوئے تھے ۔ جیسے ہی جج نے اپنا فیصلہ سنایا ان تمام کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور ان کے چہرے مسرت سے کھل اٹھے ۔ یہ لوگ فیصلہ سن کر ان کے ساتھ آئے ہوئے رشتہ داروں سے بغلگیر ہوگئے ۔ این آئی اے نے عدالت سے کہا کہ اس نے جو ثبوت و شواہد جمع کئے ہیں وہ سابق میں اے ٹی ایس اور سی بی آئی کی جانب سے جمع کردہ ثبوت و شواہد سے میل نہیں کھاتے ۔ این آئی اے نے عدالت سے کہا کہ اے ٹی ایس نے جو قطعی رپورٹ پیش کی تھی اور اس کے بعد سی بی آئی نے جو ضمنی رپورٹ پیش کی تھی اس میں بھی ان نوجوانوں کے خلاف کوئی ثبوت موجود نہیں ہے ۔ نو ملزمین میں سے آٹھ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں الزامات منسوبہ سے بری کردیا جائے کیونکہ عدالت کو ان کے خلاف الزامات وضع کئے جانے سے قبل ہی برے کرنے کا اختیار ہے ۔ تمام ملزمین کا مالیگاوں سے تعلق ہے ۔ آٹھ ملزمین میں دو ڈاکٹرس ہیں۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران ایک ملزم کا انتقال ہوگیا تھا ۔ چار دوسرے ملزمین ریاض احمد رفویع احمد ‘ اشتیاق احمد محمد اسحاق ‘ منور احمد محمد امین اور مزمل کا پاکستان سے تعلق ہے اور وہ مفرور بتائے گئے ہیں۔ پبلک پراسکیوٹر نے کہا کہ یہ ملزمین جب گرفتار ہونگے انکے خلاف مقدمہ چلایا جائیگا ۔ آج جن کو بری کیا گیا ان میں نور الہدی شمس الضحی ‘ رئیس احمد رجب علی منصوری ‘ ڈاکٹرس سلمان فارسی عبدال اور فاروق اقبال احمد مخدومی ‘ شیخ محمد علی عالم امانت علی شیخ ‘ آصف خان بشیر خان ‘ محمد زاہد عبدالمجید انصاری اور ابرار احمد غلام احمد شامل ہیں۔ اس کیس میں این آئی اے نے تحقیقات کا ذمہ سنبھالنے کے بعد اکثریتی برادری سے تعلق رکھنے والے ملزمین منوہر ناری والا عرف سومیر ٹھاکر ‘ راجیندر چودھری عرف دسرت ‘ دھان سنگھ اور لوکیش شرما کو گرفتار کیا ہے ۔ ان کے خلاف این آئی اے نے چارچ شیٹ داخل کردی ہے اور وہ جیل میں ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT