Friday , October 20 2017
Home / ہندوستان / مالیگاوں بم دھماکے ‘ ہندو کارکنوں کو کلین چٹ کا خیر مقدم

مالیگاوں بم دھماکے ‘ ہندو کارکنوں کو کلین چٹ کا خیر مقدم

ہندو راشٹر میں یقین رکھنے سے کوئی دہشت گرد نہیں ہوجاتا ۔ شیوسینا ترجمان کا اداریہ
ممبئی 16 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا نے 2008 کے مالیگاوں بم دھماکوں کے مقدمہ میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور دوسروں کے خلاف الزامات سے دستبرداری کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ اے ٹی ایس نے ہندو تنظیموں کو جھوٹے مقدمہ میں پھانسا تھا ۔ پارٹی نے کہا کہ ہندو راشٹر کے قیام میں یقین کرنا زعفرانی دہشت گردی کے زمرہ میں نہیں آتا ۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ اے ٹی ایس نے بوگس تحقیقات کیں اور مختلف ہندو تنظیموں کو مالیگاوں بم دھماکوں کے جھوٹے مقدمہ میں پھانسا تھا ۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور لیفٹننٹ کرنل پروہت اور دوسروں کو اس مقدمہ میں پھانسا گیا تھا اور انہیں شدید جذباتی و جسمانی اذیتوں کا شکار بنایا گیا ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ ہندو راشٹر میں یقین کرنے والے ہوں لیکن اس یہ یہ مطلب نہیں کہ یہ زعفرانی دہشت گرد ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ کچھ لوگ مسلم تخریب کاروں کی جانب سے پاکستان کی مدد سے ہوا دی جانے والی دہشت گردی کو ختم کرنے کی بجائے ملک میں زعفرانی دہشت گردی کا ماحول پیدا کر رہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ مرکز کی سابقہ یو پی اے حکومت اور مہاراشٹرا کی این سی پی ۔ کانگریس حکومت نے اس بات کو نہیں سمجھا کہ ایسا کرتے ہوئے ہم صرف پاکستان کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ ہم نے جب کبھی پاکستان سے وہاں پناہ لینے والے دہشت گردوں کو حوالے کرنے کی بات کی اس نے لیفٹننٹ کرنل پروہت کا سوال کردیا ۔ پارٹی نے سوال کیا کہ ہندو خود اپنے ہی ملک میں کیوں دہشت پھیلائیں گے ۔ یو پی اے حکومت نے سیاسی مفادات کیلئے تحقیقاتی ایجنسی پر دباؤ ڈالا تھا اور پھر ان سب کو مقدمہ میں پھانس لیا گیا ۔ یہ ایک گناہ تھا ۔ واضح رہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے اپنے موقف میں اچانک تبدیلی پیدا کرتے ہوئے مالیگاوں بم دھماکوں کے مقدمہ میں پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور دوسرے پانچ ملزمین کو کلین چٹ دیدی تھی ۔ مالیگاوں میں ہوئے ان دھماکوں میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT