Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / مالی بحران سے دوچار داعش اپنے ہی جنگجوؤں کے اعضاء بیچنے پر مجبور

مالی بحران سے دوچار داعش اپنے ہی جنگجوؤں کے اعضاء بیچنے پر مجبور

جہادیوںکے دل اور گردوں کی بھاری قیمتوں پر بلیک مارکٹ میں فروخت کا انکشاف

قاہرہ ۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دہشت گرد گروپ اسلامک اسٹیٹ (داعش) نقد رقومات کی قلت اور بدترین مالی بحران سے دوچار ہوجانے کے سبب اب اپنے زخمی جنگجوؤں کو ہلاک کرنے لگا ہے تاکہ ان کے جسم سے اجزاء نکال کر بیرونی ملکوں کے بلیک مارکٹ میں فروخت کئے جاسکیں۔ عربی اخبار الصباح نے عراقی شہر موصل میں گمنام ذرائع کے حوالے سے خبر شائع کی ہیکہ ’’ڈاکٹروں کو دھمکی دی گئی ہیکہ داعش کے زخمی عسکریت پسندوں کے جسموں سے اعضاء نکال لئے جائیں‘‘۔ داعش کے دہشت گردوں کو موصل کے جنوبی علاقوں میں حالیہ ہزیمت و پسپائی کے بعد مالیہ کی شدید قلت کا سامنا ہے اور شاید اسی وجہ سے وہ (داعش) خود اپنے ہی ان مجاہدین کو ہلاک کرنے لگی ہے جو جنوبی موصل کی لڑائی میں زخمی ہوگئے تھے۔ ان عسکریت پسندوں کے جسموں سے دل، گردے اور دیگر اعضاء رئیسہ نکال لئے جارہے ہیں تاکہ انہیں انسانی اعضاء کے بلیک مارکٹ میں بھاری قیمتوں پر فروخت کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں اسپین کے روزنامہ ابل مونڈو کے حوالہ سے کہا گیا ہیکہ شام فوج اور اپوزیشن فورسیس کے حملوں میں اپنے زخمی ارکان کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اپنے یرغمالیوں کے اعضاء نکالتے ہوئے پیوندکاری کیلئے استعمال کررہی ہے۔ اسپین کے اخبار کے مطابق آئی ایس آئی ایس نے موصل کی جیلوں میں موجود قیدیوں کو خون کا عطیہ دینے کیلئے مجبور کررہی ہے اور ان کی سزاء موت منسوخ کرتے ہوئے جب تک ممکن ہوسکے ان کے جسموں سے زیادہ سے زیادہ خون نکال لیا جاسکے۔ میڈیکل ذرائع کے حوالہ سے کہا گیا ہیکہ موصل کے ایک دواخانہ میں طبی عملہ نے کم سے کم 183 نعشوں کو دیکھا ہے جن سے اکثر اعضاء رئیسہ غائب تھے۔ اقوام متحدہ میں عراق کے سفیر محمد اللحکیم نے گذشتہ سال ایسا ہی الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ داعش انسانی اعضاء کی اسمگلنگ کررہی ہے اور اس پروگرام پر عمل آوری سے انکار کرنے والے کم سے کم ایک درجن ڈاکٹر کو مار دیا گیا۔ داعش کے موجودہ طاقتور گڑھ شہر موصل کے قریب دریافت اتل اجتماعی قبروں سے برآمد ہونے والی نعشوں کی بنیاد پر الحکیم نے اپنا دعویٰ پیش کیا تھا۔

کالا جادو کے شبہ پر زامبیا میں بیرونی افراد پر حملے
لوساکا۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) افریقی ملک زامبیا میں کالا جادو کے عمل کیلئے سلسلہ وار ہلاکتوں میں بیرونی افراد ملوث ہونے کے الزامات پر بھڑک اُٹھنے والے فسادات کے دوران کم ازکم 2 افراد کو زندہ جلا دیا گیا اور روانڈا کے شہریوں کی دوکانات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ دارالحکومت لوساکا کے سلم علاقوں میں اس ہفتہ کے اوائل میں ہولناک تشدد پھوٹ پڑا تھا جب حالیہ عرصہ کے دوران 7افراد کی پُراسرار اموات ہوئی تھیں اور ان کی نعشوں سے کان، دل اور عضو تناسل غائب تھے۔ سینکڑوں برہم شہریوں نے بیرونی افراد کے گھروں و دکانات کو شدید سنگباری کا نشانہ بنایا۔

TOPPOPULARRECENT