Thursday , June 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مانسون کی آمد سے قبل سڑکوں کو بہتر بنانے کے اعلانات زبانی جمع خرچ

مانسون کی آمد سے قبل سڑکوں کو بہتر بنانے کے اعلانات زبانی جمع خرچ

جگہ جگہ کھڈ ، پانی ٹھہرنے سے حادثات ، عدم مرمت سے سڑکیں مزید ناکارہ ، جی ایچ ایم سی کی لاپرواہی
حیدرآباد۔13جون(سیاست نیوز) مانسون کی آمد کے بعد دونوں شہروں میں ہلکی و تیز بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور شہر کی بیشتر اہم سڑکیں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی کارکردگی کی منہ بولتی تصویر بنی ہوئی ہیں جنہیں مانسون کی آمد سے قبل بہتر بنانے کے اعلانات کئے گئے تھے اور یہ دعوے کئے گئے تھے کہ مانسون کی آمد سے قبل شہر کی تمام اہم سڑکوں کی تعمیر و مرمت کرلی گئی ہے اسی لئے مانسون کی آمد کے ساتھ ہی سڑکوں کی کھدوائی پر پابندی عائد کی جا رہی ہے لیکن دونوں شہروں کی سڑکوں کی دو بارش میں جو حالت ہوئی ہے اس کا اندازہ لگانے کیلئے جامباغ سے معظم جاہی مارکٹ جانے والی سڑک‘ لکڑی کا پل‘ خیریت آبات اور سوماجی گوڑہ کے علاوہ سائبرآباد کی سڑکوں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے جو صرف دو بارشوں میں بہہ گئی ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد اور خود ریاستی حکومت نے سڑکوں کی ناقص تعمیرات کا اعتراف کرتے ہوئے غیر معیاری تعمیری اشیاء استعمال کرنے والے کنٹراکٹرس کے خلاف کاروائی کا اعلان کیا تھا اور جو عہدیدار ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں ان کے خلاف بھی محکمہ جاتی کاروائی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود اب تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی بلکہ گذشتہ 6ماہ کے دوران جن سڑکوں کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے ان علاقو ں کی سڑکیں بھی اب بہہ رہی ہیں جس کے سبب جی ایچ ایم سی کے اعلی عہدیداروں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ دونوں شہرو ںکی کئی اہم سڑکوں کی تعمیر گذشتہ 6ماہ کے دوران کی گئی لیکن ان تعمیرا ت کے دوران بھی معیار سے متعلق غفلت اختیار کرنا نا قابل فہم ہے۔ گذشتہ غیر موسمی بارش کے بعد بہہ جانے والی سڑکوں کے متعلق کمشنر جی ایچ ایم سی ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے راست جائزہ لیا اور اس کے بعد کی جانے والی تعمیرات کے اچانک معائنہ بھی کیا گیا لیکن دوبارہ وہی صورتحال پیدا ہونے کے سبب عوام کو مشکلات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے کنٹراکٹرس کا کہنا ہے کہ عہدیداروں کی ہراسانی کا سلسلہ بند ہو جائے اور کمیشن کا کاروبار ختم کردیا جائے توب ایسی صورت میں کنٹراکٹرس بھی سڑک کی تعمیر سے قبل پرانے سڑک کو مکمل طور پر اکھاڑ کر نئی سڑک کی تعمیر کروائیں گے لیکن عہدیدار خود نہیں چاہتے کہ کام مضبوط ہو کیونکہ اگر ایک مرتبہ کام مستحکم ہو جاتاہے تو ایسی صور ت میں برسہا برس تک سڑک جو ںکی توں برقرار رہتی ہے ۔ کنٹراکٹرس کی جانب سے عائد کئے جانے والے اس الزام کے برخلاف سڑک کی تعمیر کے دوران معیار کی جانچ کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ تعمیر کے معیارات کے سلسلہ میں کنٹراکٹرس اور اعلی عہدیداروں کے درمیان سانٹھ گانٹھ ہوتا ہے جس کے سبب وہ خود کچھ نہیں کر سکتے جبکہ کسی بھی سڑک کی تعمیر کیلئے اتنی کھدوائی کرنی ہوتی ہے جتنی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے لیکن ایسا نہیں کیا جاتا جس کے سبب سڑکیں بہہ جاتی ہیں اور کئی مقامات پر مکانات و دکانات سڑک سے نیچے چلے جاتے ہیں جو کہ مقامی عوام کے لئے کئی مشکلات کا سبب بنتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT