Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مانو کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری شاہ رخ خاں کو ہی کیوں ؟

مانو کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری شاہ رخ خاں کو ہی کیوں ؟

مفتی محمد ندیم الدین صدیقی ترجمان کل ہند تنظیم ائمہ و مساجد کی سخت تنقید
کریم نگر ۔ 24 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : ہندوستان کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے دانشوروں مایہ ناز علمی و ادبی شخصیتوں بالخصوص حیدرآبادیوں کے لیے یہ غور طلب بات ہے کہ ناچ گانے سے تعلق رکھنے والے ایک فلمی اداکار شاہ رخ خاں کو (مانو ) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے زیر اہتمام چھٹویں جلسہ تقسیم اسناد میں 26 دسمبر کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی جارہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی محمد ندیم الدین صدیقی کل ہند تنظیم ائمہ مساجد ترجمان نے کیا ۔ انہوں نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ذمہ داران کا فیصلہ مضحکہ خیز ہے ۔ کیا حیدرآباد شہر میں نامور شعراء ادیب ، صحافی ، مذہبی دینی اور علمی شعبوں میں سند کا درجہ رکھنے والے سیاسی بصیرت کے حامل ، سائنسی عصری علوم کے ماہرین موجود نہیں ہیں ۔ ان سب کو نظر انداز کر کے شاہ رخ خاں کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دی جانا مقامی فنکاروں کی تذلیل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد شعبہ صحافت اور دینی علوم میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے ۔ یونیورسٹی کے ذمہ داران کو حیدرآباد کی مشہور شخصیتوں میں سے کسی کا بھی انتخاب کرنا تھا ۔ شعبہ طب حکمت ڈاکٹرس میں ایک سے ایک قابل شخصیتیں موجود ہیں ۔ جن کی کافی مقبولیت ہے ۔ اس کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی ، مشہور مصنف تبصرہ نگار قدیر زماں اور آئی اے ایس اور آئی پی ایس حیدرآباد میں موجود ہیں ۔ فلم انڈسٹری میں اعزازی ڈاکٹریٹ قادر خاں ، رضا علی مراد اور سلیم خاں کو دی جاسکتی تھی کیوں کہ انہوں نے اردو کی خدمت کی ۔ لیکن اردو کی ترقی میں شاہ رخ خاں کا حصہ نہیں کے برابر ہے ۔ ایسی شخصیت کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دینا کہاں تک درست ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT