Saturday , June 24 2017
Home / اداریہ / مانچسٹر خودکش حملہ

مانچسٹر خودکش حملہ

شہروں شہروں خوف کا عالم گھبرائے گھبرائے لوگ
امن کے لمحے ڈھونڈ رہے ہیں صدیوں کے ٹھکرائے لوگ
مانچسٹر خودکش حملہ
برطانیہ کے دوسرے سب سے بڑے میٹرو پولیٹن شہر مانچسٹر میں امریکی گلوکارہ کے موسیقی پروگرام کے موقع پر خودکش دھماکہ اور 22 افراد کی موت ،پھر ایک بار دہشت گردی کی بدترین تاریخ رقم ہوئی ۔ اسٹیڈیم کے اندر نوخیز بچوں اور نوجوانوں کی کثیرتعداد تھی جو امریکی گلوکارہ کے مدح تھے ۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دورہ کے دوران اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ کااعلان کیا تھا ۔ سنی عرب امریکی مشترکہ جدوجہد کے عہد کے بعد دہشت گرد حملے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب واضح ہے کہ دہشت گردوں کو ناکام بنانے کی کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہورہی ہیں۔ برطانیہ ان دنوں داعش کے نشانہ پر ہے ، لندن لاء انفورسمنٹ ڈپارٹمنٹ برطانوی شہریوں خاص کر شام ، عراق اور افغانستان کا دورہ کرکے آنے والے برطانی مسلم شہریوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے ، اس کے باوجود اگر یہاں دہشت گرد واقعہ ہوتا ہے تو اب جہادی تنظیموں کی کارروائیوں کی وسعت پذیری کا اندیشہ یقینی طورپر قوی ہوجائے گا ۔ جو لوگ شام ، عراق اور افغانستان کا دورہ کرکے آتے ہیں ان برطانوی مسلم نوجوانوں کے تعلق سے ایک رائے قائم کی جارہی ہے جو غلط واقعات اور شبہات کو جنم دے سکتی ہے ۔ تاہم برطانوی پولیس نے ان نوجوانوں کی برطانیہ واپسی کو جہادی تربیت کے حصول کے بعد واپسی تصور کیا ہے تو ان کا یہ خیال مانچسٹر دھماکہ کے بعد مضبوط ہوجائے گا ۔ برطانیہ کو واپس ہونے والے جہادی کارکن اب یوروپ کے کونے کونے میں یعنی فرانس ، جرمنی اور یوروپی ممالک کے دیگر حصوں تک پہونچ جائیں گے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے عراق اور شام میں داعش کو کمزور کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن اب یہ داعش شام اور عراق سے زیادہ یوروپی ممالک میں سرگرم دکھائی دے رہا ہے جو خود یوروپی یونین اور دیگر گروپ کے لئے تشویش کاباعث ہوگی ۔ لندن میں امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی بھی کام کررہی ہے اور اسے امریکہ میں اس طرح کے خطرات کا اندازہ کرنے کیلئے ہی تعینات کیا گیا ہے ۔ نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ کے انسداد دہشت گرد گروپ نے 1000 خفیہ پولیس آفیسرس کو تعینات کیا ہے لیکن اس طرح کی تیاری کے باوجود سکیورٹی والے علاقوں میں دھماکے ہونا سکیورٹی انتظامات کے منہ پر طمانچہ ہے ۔ شام اور عراق میں اپنی جنگ ہارنے والے داعش نے یوروپ کے شہروں میں حکمراں کی نیندیں حرام کردی ہیں تو یہ عراق اور شام کی خون ریزی کا تسلسل سمجھا جائے گا ۔ یوروپ میں دھماکوں کے واقعات میں اضافہ کے بعد سکیورٹی انتظامات اور سرحدی تحفظ کیلئے تعینات آفیسرس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھایا جارہا ہے جبکہ یوروپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا طریقہ کار کچھ اس طرح کا اختیار کیا ہے جس سے نفرت کو ہوا دے کر شہریوں میں بدامنی کی کیفیت پیدا ہورہی ہے جس کا نتیجہ یوں ہی نکلتا رہے گا تو پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیاب بنانے کا خواب پورا نہیں ہوگا ۔ یوروپی ممالک میں ترکی سب سے زیادہ دہشت گردی سے متاثرہ ملک رہا ہے ۔ فرانس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جس طرح کی پالیسی وضع کی تھی اس کے خلاف بھی نفرت کا ماحول پیدا کرتے ہوئے صرف ایک طبقہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ لندن میں گزشتہ چنددن قبل ہی پارلیمنٹ کے باہر حملہ ہوا تھا اس مرتبہ حملہ آور نے امریکی گلوکارہ کے نوجوان مداحوں کو نشانہ بنایا ۔ یہ پولیس اور حکومت دونوں کیلئے ایک چیلنج ہے ۔ بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر ہمیشہ تشویش اور صدمہ کا اظہار کرنے والی طاقتوں نے اپنے حصہ کے طورپر جو کارروائیاں کی ہیں اس کے نتائج مثبت نکلنے کے بجائے اس طرح دہشت گردانہ واقعات کی شکل میں ہی سامنے آتے ہیں تو انھیں اپنے منصوبوں اور پالیسیوں پر ازسرنو غور کرنا ہوگا ۔ برطانیہ کے شہریوں میں سے نکل کر اگر کوئی دہشت گردی کی راہ اختیار کررہا ہے تو اس کو روکنا حکومت ، پولیس اور سماج کاکام ہے ۔ نفرت ، دشمنی ، مظالم اور ناانصافیوں کو ختم کرنے کے بعد ہی دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں کامیابی ملے گی ۔ جو طاقتیں ان کے درمیان رہنے والے انسانوں کے ساتھ تعصب پسندانہ رویہ رکھتے ہیں تو اس رویہ کو دور کرنا ہوگا ۔ جو گروپ اسلام کے نام پر دہشت گردی کو فروغ دے رہے ہیں یہ لوگ بہرحال اسلام اور مسلمانوں کیلئے ایک خراب فضاء کو جنم دے رہے ہیں جن کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی جاتی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT