Tuesday , June 27 2017
Home / ہندوستان / مانیسر میں شیرخوار بیٹی کے قتل کے بعد ماں کی اجتماعی عصمت ریزی

مانیسر میں شیرخوار بیٹی کے قتل کے بعد ماں کی اجتماعی عصمت ریزی

قومی دارالحکومت کے قریبی علاقہ میں افسوسناک واقعہ، انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ طلبی
نئی دہلی۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے صنعتی علاقہ مانیسر میں ایک 23 سالہ عورت کی مبینہ اجتماعی عصمت ریزی کے مسئلہ پر ہریانہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس اور گڑگاؤں پولیس کمشنر کو نوٹس جاری کی ہے۔ آج اس تاثر کا اظہار کیا کہ اس واقعہ نے واضح کردیا ہے کہ اس سڑک پر رات کے وقت پولیس کی گشت نہیں کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ روشنیوں سے چکاچوند اور مصروف ترین علاقہ گڑگاؤں سے انتہائی قلیل فاصلہ پر مانیسر میں 3 افراد نے 29 مئی کی رات ایک عورت کی اجتماعی عصمت ریزی کی تھی اور اس گھناؤنے جرم کے ارتکاب سے قبل شیطان صفت افراد نے اس عورت کی 9 ماہ کی شیر خوار بیٹی کو زمین پر پٹک کر ہلاک کردیا تھا۔ ہریانہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیس بی ایس سندھو کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہریوں بالخصوص خواتین کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کئے گئے اقدامات سے قومی انسانی حقوق کمیشن کو باخبر کیا جائے۔ ڈی جی پی کے علاوہ گڑگاؤں کے پولیس کمشنر سندیپ کھیروار سے اندرون چار ہفتہ نوٹس کا جواب دینے کیلئے کہا گیا ہے۔ اس واقعہ میں اگرچہ تاحال کسی سرکاری ملازم کے راست ملوث ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے، لیکن کمیشن نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے افسوسناک مواد سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ قومی دارالحکومت کے اطراف کے علاقہ بالخصوص نوئیڈا، فریدآباد میں خوف، عدم تحفظ اور غیریقینی کا ماحول برقرار ہے‘‘۔ کمیشن نے کہا کہ تمام شہریوں بالخصوص خواتین اور بچوں کے تحفظ و سلامتی کو یقینی بنانے ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ ہونے سے روکنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے فوری اقدامات درکار ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT