Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ماؤنواز حملہ میں سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم

ماؤنواز حملہ میں سی آر پی ایف اہلکاروں کی ہلاکت کی تحقیقات کا حکم

خامیوں اور کوتاہیوں کا پتہ چلانے پر زور، شہیدوں کے خاندانوں کو بھاری معاوضہ : راج ناتھ

نئی دہلی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے چھتیس گڑھ میں نکسلائٹس کی جانب سے گھات لگاکر کئے گئے حملے میں سی آر پی ایف کے 12 اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اس واقعہ کا سبب بننے والے عوامل کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ اس کے پس پردہ خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کے لئے وہ تحقیقات کے آغاز کا حکم دے چکے ہیں۔ انھوں نے لوک سبھا میں کہاکہ سکما کی جنگلات میں سکیوریٹی اہلکاروں پر کیا گیا حملہ دراصل بائیں بازو کے انتہا پسندوں میں پیدا شدہ مایوسی کا نتیجہ ہے کیوں کہ گزشتہ سال اُنھیں بھاری نقصانات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ ’’تاہم اس واقعہ کے اسباب و عوامل کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ سی آر پی ایف کے ڈارئرکٹر جنرل کو میں اس واقعہ کی تفصیلی تحقیقات کرنے کا حکم دے چکا ہوں تاکہ خامیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کی جاسکے۔ علاوہ ازیں ان کا پتہ چلانے سے مستقبل میں اس قسم کے واقعات کا اعادہ ہونے کے امکانات کو کم کیا جاسکتا ہے‘‘۔ اُنھوں نے ارکان پارلیمنٹ سے کہاکہ ’’سکیوریٹی فورسیس کو ملنے والی مثالی کامیابیوں سے بائیں بازو کے انتہا پسند گروپوں میں مایوسی پیدا ہوگئی تھی۔ حالیہ حملہ ان کی اس مایوسی کا ثبوت ہے‘‘۔ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ’’بائیں بازو کی انتہا پسندی سے متاثرہ تمام ریاستوں میں سکیوریٹی فورسیس نے 2016 ء میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی تھی۔ بالخصوص چھتیس گڑھ میں بائیں بازو کے 135 انتہا پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ دیگر 779 گرفتار کئے گئے تھے اور 1198 ماؤنواز انتہا پسندوں نے خودسپردگی اختیار کی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ 2016 ء کے دوران سکیوریٹی فورسیس کے صرف تین اہلکار ہلاک ہوئے تھے جبکہ 2015 ء میں ماؤنواز حملوں میں ہلاک ہونے والے سکیوریٹی اہلکاروں کی تعداد 15 تھی۔ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ماؤنوازوں نے 11 مارچ کو گھات لگاکر کئے جانے والے ایک حملے میں سی آر پی ایف کے 9 اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔ علاوہ ازیں ان کے 13 اسلحہ اور 2 وائرلیس سیٹس لے کر فرار ہوگئے تھے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ شہید سی آر پی ایف اہلکاروں کے خاندانوں کو مرکزی حکومت کی طرف سے بطور ایکس گریشیاء فی کس 35 لاکھ روپئے، سی آر پی ایف فنڈ سے فی خاندان 20 لاکھ روپئے اور سی آر پی ایف ویلفیر فنڈ سے فی کس ایک لاکھ روپئے فراہم کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں انشورنس فوائد کے طور پر فی خاندان 25 لاکھ روپئے دیئے جائیں گے۔ حکومت چھتیس گڑھ متاثرہ خاندانوں کو فی کس تین لاکھ روپئے ایکس گریشیاء دے گی۔ شہید اہلکاروں کے خاندانوں کو ان کی وظیفہ پر سبکدوشی کی عمر تک مکمل ماہانہ تنخواہ دی جاتی رہے گی۔
ماؤیسٹوں نے ایک شخص کو گولی مارکر ہلاک کردیا
گیا 14 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ماؤیسٹوں نے بہار کے نکسلائیٹس سے متاثرہ گیا ضلع میں ایک شخص کو گولی ماردی ۔ ایک پولیس عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ ایس پی
سٹی اوکاش کمار کے بموجب یہ واقعہ کل رات جنگل کے علاقہ میں پیش آیا جہاں نکسلائیٹس نے موٹر سیکل پر جارہے شخص 30 سالہ کوشل پاسوان کو روکا اور اسے قریبی فاصلہ سے گولی مار کر ہلاک کردیا ۔ پاسوان کی نگولیوں سے چھلنی نعش آج صبح پائی گئی جسے پوسٹ مارٹم کیلئے روانہ کردیا گیا ہے ۔ پاسوان پشیوا گاؤں سے تعلق رکھتا تھا اور سمجھا جاتا ہے کہ وہ مخالف ماؤیسٹ تنظیم بھکتا سنگھرش سمیتی سے تعلق رکھتا تھا  جو گذشتہ سال قائم کی گئی تھی ۔ پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT