Sunday , October 22 2017
Home / ہندوستان / ماچھل فرضی انکاونٹر، کرنل اور 5فوجی سپاہیوں کو عمرقید مقامی افراد کو روزگار کا لالچ دیکر سرحد کے قریب لے جاکر بلاوجہ گولی مار دی گئی تھی

ماچھل فرضی انکاونٹر، کرنل اور 5فوجی سپاہیوں کو عمرقید مقامی افراد کو روزگار کا لالچ دیکر سرحد کے قریب لے جاکر بلاوجہ گولی مار دی گئی تھی

رقمی انعام کی لالچ نے چھ فوجیوں کو جیل پہنچا دیا
جموں ۔ 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) فوجی شمالی کمانڈ جی او سی نے گذشتہ روز چھ فوجی اہلکاروں کو 2012ء کے ماچھل فرضی انکاونٹر کے ضمن میں ایک جنرل کورٹ مارشل کے ذریعہ دی گئی سزائے عمر قید کی توثیق کردی ہے۔ سزاء پانے والوں میں کرنل رتبہ کا ایک فوجی افسر بھی شامل ہے۔ فوج کی ادھم پور میں واقع شمالی کمانڈ کے ترجمان کرنل ایس ڈی گوسوامی نے کہا کہ ’’جنرل آفیسر کمانڈنگ انچیف (جی او سی ان سی) شمالی کمانڈ لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا نے کورٹ مارشل کے بعد ان سزاؤں کی توثیق کی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’کرنل دنیش پٹھانیہ، کیپٹن اوپیندرا، حوالدار دیویندر کمار اور رائفل مین عباس حسین کو عمر قید کی سزاء دی گئی ہے‘‘۔ اپریل 2012ء میں فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ ضلع کپوارہ میں لائن آف کنٹرول کے ماچھل سیکٹر سے دراندازی کی کوشش کرنے والے تین جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا لیکن مبینہ انکاونٹر میں ہلاک ہونے والوں کی تصاویر کی اشاعت کے بعد مقامی عوام نے سخت برہمی اور احتجاج کا اظہار کیا تھا کیونکہ مہلوکین کے پڑوسیوں نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تینوں سیویلین تھے جنہیں غلط طور پر پھانستے ہوئے فرضی انکاونٹر کردیا۔ درحقیقت کسی بھی قسم کی عسکریت پسندی سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ بعدازاں پولیس تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ان فوجی ذمہ داروں نے عسکریت پسندوں کی ہلاکت پر رقمی انعام کی لالچ میں ان نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دیتے ہوئے سرحد کے قریب لیجاکر فرضی انکاونٹر میں ہلاک کردیا تھا۔ ان حقائق کے منظرعام پر آنے کے بعد فوج نے ان کا کورٹ مارشل کیا تھا اور توثیق کی گئی تھی کہ یہ چھ فوجی اہلکار تین بے قصور سویلین کی فرضی انکاونٹر میں ہلاکت کے مجرم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT