Thursday , September 21 2017
Home / مضامین / ماں سے مودی کی محبت کاش دوسروں کی ماؤں کا بھی خیال ہوتا

ماں سے مودی کی محبت کاش دوسروں کی ماؤں کا بھی خیال ہوتا

محمد ریاض احمد
وزیر اعظم نریندر مودی کی ماں ہیرا بین نے اپنے بیٹے کے عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے دو سال بعد پہلی مرتبہ ان کی سرکاری رہائش گاہ 7 ریس کورس میں کچھ دن گذارے۔ ہیرا بین کی گجرات واپسی کے بعد مودی نے جو سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں ٹوئٹر پر اپنی ماں کے 7 ریس کورس میں قیام کی تصاویر پوسٹ کی۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹوئٹر پر پیام کے ذریعہ اپنے بہی خواہوں کو بتایا کہ ان کی ماں گجرات واپس ہوچکی ہیں۔ انہوں نے اپنی ماں کے ساتھ کافی عرصہ کے بعد ایک قیمتی وقت گذارا اور اہم بات یہ ہے کہ 7 ریس کورس میں پہلی مرتبہ ان کی آمد ہوئی تھی۔ تصاویر میں مودی اپنی 96 سالہ ماں کے ساتھ پرسکون نظر آرہے ہیں۔ کسی تصویر میں مودی ہیرا بین کو گلاس میں پانی پیش کررہے ہیں کسی تصویر میں ٹی شرٹ اور آسمانی رنگ کا پتلون زیب تن کئے ہوئے مودی وہیل چیر پر بیٹھی اپنی ماں کو اپنی سرکاری رہائش گاہ  کے باغ کی گشت کرواتے ہوئے وہاں موجود قسم قسم کے پھولوں پودوں  و درختوں کے بارے میں واقف کروارہے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہیرابین شمالی گجرات کے ضلع مہسنا کے ایک چھوٹے سے ٹاؤن وادنگر میں واقع اپنے آبائی مکان میں مقیم ہیں۔ 7 ریس کورس میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنے ماں کی میزبانی کی تصاویر دیکھ کر ہر اس شخص کو ضرور خوشی ہوئی ہوگی جس کے دل میں اپنے والدین کے لئے محبت و احترام کا سمندر ٹھاٹیں مارتا ہو۔ 65 سالہ مودی نے اپنی 96 سالہ ماں کی خدمت کرتے ہوئے والدین سے غفلت برتنے والے بیٹوں کو ایک اچھا پیغام دیا ہے۔ ویسے بھی سال 2001ء تا 2014ء ریاست گجرات کے عہدہ چیف منسٹری پر فائز رہنے کے دوران بھی وہ اپنے خاندان اور اپنی ماں سے زیادہ تر دور ہی رہے۔ اس کی زیادہ تشہیر بھی نہیں ہوئی لیکن عہدہ دوزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے ساتھ ہی مودی کی ماں سے متعلق خبریں بھی آنے لگی ہیں۔ مودی کی اپنی ضعیف العمر ماں سے محبت بہت اچھی بات ہے کیونکہ ہر ماں کے لئے اس کا بیٹا اور ہر بیٹے کے لئے اس کی ماں کافی اہمیت رکھتی ہے، لیکن اس خبر کے ساتھ مودی اور ہیرابین کی تصاویر دیکھ کر ہمیں وہ مائیں بھی یاد آگئیں جن کی جوان بیٹیوں کو گجرات میں مسلمانو ں کے قتل عام کے دوران فرقہ پرست درندوں نے کھیتوں، گلیوں، میدانوں، سڑکوں اور سنسان مقامات پر اپنی اجتماعی ہوس کا نشانہ بنایا ان کی عصمتیں تار تار کردیں۔ مودی اور ان کی ماں کی تصاویر دیکھنے کے بعد ہمیں گجرات فسادات میں شہید ان نوجوان بیٹوں کی غمزدہ مائیں یاد آگئیں جنہیں ماؤں کی نظروں کے سامنے انتہائی بہیمانہ انداز میں موت کی نیند سلادیا گیا، مودی کی اپنی ماں سے محبت کی تصاویر نے ہمارے ذہن میں اس بے بس ماں کو بھی لادیا بابو بجرنگی جیسے شیطان صفت درندہ نے انتہائی صفاکی کا  مظاہرہ کرتے ہوئے جس کا پیٹ پھاڑ کر اس میں پرورش پا رہے بیٹے کے وجود کو تلوار کی نوک پر چڑھادیا تھا۔ مودی کی اپنی ماں سے محبت کی تصاویر سے ہمیں ممبئی کی طالبہ عشرت جہاں کی والدہ بھی یاد آگئی جس کے جسم کو گجرات پولیس کے بہادر اعلیٰ عہدہ داروں نے گاندھی نگر کی سنسان سڑک پر گولیوں سے چھلنی کردیا تھا، اس طرح کے بہیمانہ انداز میں قتل کے بعد گجرات پولیس کے عہدہ داروں نے یہ دعویٰ کیا کہ عشرت جہاں اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی کو قتل کرنے کے مشن پر تھی اور اس کے ساتھ دوسرے چار دہشت گرد بھی اس مشن میں شامل تھے لیکن گجرات پولیس کے قاتل ٹولے کے ہاتھوں اپنی بیٹی کے قتل پر اس کی ماں شمیمہ کوثر ہر روز مرمر کر جی رہی ہیں۔ اس ماں کے غم کا یہ حال ہے کہ اب اس کی آنکھوں میں آنسو بھی اُسی طرح سوکھ گئے ہیں جس طرح گجرات فسادات کے حقیقی مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہمارا سبز و شاداب نظام فرقہ پرستی کی وباء کی زد میں آکر خشک ہوگیا۔ 7 ریس کورس کے باغ کی اپنی ماں کو سیر کراتے نریندر مودی کی تصاویر دیکھ کر ہمارے ذہن میں سہراب الدین شیخ کوثر بانو اور تلسی رام پرجا پتی کی مائیں  آگئیں جن کے بچوں (مذکورہ تینوں) کو گجرات آندھرا پردیش اور راجستھان کی پولیس نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت بہت ہی بھیانک انداز میں موت کے گھاٹ آتار دیا۔ مودی کی اپنی ماں سے محبت قابل تعریف ہے لیکن مودی اور ہیرا بین کی تصاویر دیکھ کر ہمارے کانوں میں ان ماؤں کی چیخیں اور فریادیں گونج رہی ہیں جن کے نوجوان بیٹوں کو گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان، اترپردیش، مہاراشٹرا، آندھرا پردیش، تلنگانہ اور ملک کی دوسری ریاستوں میں دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں پھنساکر برسوں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور کردیا گیا۔ مودی اور ہیرا بین کی تصاویر دیکھنے کے بعد ہمارے ذہن میں دہلی، اترپردیش۔ مالیگاؤں (مہاراشٹرا) اور حیدرآباد کے ان نوجوانوں کی ماؤں کے آنسو بہاتے چہرے بھی عود کر آرہے ہیں جن کی زندگیوں کو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے جھوٹے مقدمات میں ماخود کرکے تباہ کردیا۔ یہ ایسے نوجوان ہیں جنہیں اپنے ناکردہ گناہوں کی سزاؤں کے طور پر 10 تا 14 برسوں تک جیلوں میں گذارنے پڑے اور بالآخر عدالتوں نے انہیں باعزت بری کردیا۔ مودی اور ان کی ماں ہیرا بین کی تصاویر دیکھ کر ہمارے ذہن میں وہ نوجوان بھی آگئے جنہیں نکسلائٹس یا نکسلائٹس کے ہمدرد قرار دے کر قانون کے رکھوالے موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں یا پھر انہیں مرمر کر جینے پر مجبور کررہے ہیں۔ مودی اور ہیرابین کی تصویر نے ہمیں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے دلت اسکالر روہت ویمولا چکرورتی کی ماں رادھیکا کی یاد دلادی جو آج بھی اپنے بیٹے کی موت کے لئے اعلیٰ ذات کے ہندوؤں اور آر ایس ایس سے ملحقہ بی جے پی کی طلبہ ونگ اے بی وی پی کو ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔ مودی کی اپنی ماں کے ساتھ تصویر نے ہمارے ذہن میں جواہر لال یونیورسٹی دہلی کے کنہیا کمار، عمر خالد اور دوسرے طلبہ کی ماؤں کی تصاویر ابھاردیں جو اپنے بیٹوں اور بیٹیوں سے حکام کی جاری ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھارہی ہیں۔ کاش مودی جی کو اپنی ماں کے ساتھ دوسروں کی ماؤں کا بھی خیال ہوتا تو کتنا بہتر ہوتا۔
7 ریس کورس میں مودی کو بڑے ہی پرسکون انداز میں گھومتے دیکھ کر ہمارے ذہن میں وہ ہزاروں مائیں آگئیں جو مہنگائی کی چکی میں پسی جارہی ہیں اور اپنے بچوں کی  بیروزگاری نے ان کا ذہنی و قلبی سکون چھین لیا ہے،کروڑہا ایسی بھی مائیں ہیں جنہیں کسی باغ کی سیر تو دور کی بات ہے، گھر میں بیت الخلاء تک کی سہولت نصیب نہیں ہے۔ مودی جی نے ٹوئٹر پر جاری کردہ ایک تصویر میں یہ بھی دکھایا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں میں پانی سے لبریز گلاس لئے اپنی ماں کو پلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس تصویر نے ہمیں مہاراشٹرا، تلنگانہ، کرناٹک کے بشمول ملک کے ان علاقوں  کی جانب متوجہ کردیا جہاں شدید گرمی اور قحط کے باعث مائیں بوند بوند پانی کے لئے ترس رہی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی پیاس بجھانے کے لئے میلوں دور بھاگ دوڑ کررہی ہیں۔ ان کی بے چینی کا حال یہ ہے کہ وہ ایک گھڑا پانی حاصل کرنے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بڑی بے بسی کے ساتھ اپنے کمزور قدم اٹھا رہی ہیں، ان علاقوں میں کوئی ماں ہیرا بین کی طرح خوش قسمت نہیں کہ اسے اس کا بیٹا صاف ستھری گلاس میں اپنے ہاتھوں سے پانی پلاسکے۔
ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی جی کو یہ جان لینا چاہئے کہ کوئی ماں ہندو کوئی ماں مسلم کوئی سکھ کوئی عیسائی ہوسکتی ہے وہ مختلف مذاہب کی ماننے والی ہوسکتی ہیں لیکن جہاں تک اولاد سے ماں کی محبت کا تعلق ہے اس محبت اس ممتا کا کوئی مذہب نہیں ہوتا کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ماں تو ماں ہوتی ہے جو اپنی اولاد کی تڑپ پر تڑپ اٹھتی ہے اور خوشی پر پھولے نہیں سماتی۔ کاش ہیرا بین اور آنجہانی دامود داس مولچنند کی 6 اولادوں میں شامل مودی اور قانون نافذ کرنے والے ایجنسیوں کے عہدہ دار دوسروں کی ماؤں کے درد ان کی محبت اور مامتا کو سمجھ پاتے تو ہندوستان کی جیلوں میں کوئی بے قصور نوجوان اپنے ناکردہ گنا کی سزا نہیں کاٹتا۔ دہلی، گجرات، اترپردیش، تلنگانہ میں کسی عشرت جہاں، وقار الدین، سید امجد محمد ذاکر، اظہار خاں اور ڈاکٹر محمد حنیف و دیگر نوجوانوں کے فرضی انکاؤنٹرس نہیں ہوتے۔ کسی کی ماں کی گود نہیں اجڑتی، جھارکھنڈ میں کمسن لڑکے امتیاز اور مظلوم انصاری کی مائیں نہیں تڑپتی۔ ہمارے وزیر اعظم مودی کو دوسروں کی ماؤں کے جذبات و احساسات سمجھنے کے لئے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ضرور سبق لینا چاہئے جنہوں نے آسٹریلیا میں دہشت گردی کے جھوٹے کیس میں پھنسائے گئے ہندوستان کے ڈاکٹر حنیف کی رہائی کو صرف اور صرف ان کی ماں کی آہوں اور آنسوؤں کو دیکھ کر ہی یقینی بنایا تھا۔ ڈاکٹر حنیف کی والدہ جب اپنے بیٹے پر دہشت گردی کے الزامات اور گرفتاری پر آنسو بہارہی تھیں تب منموہن سنگھ نے دیکھ لیا کہ ماں اور اس کے آنسو کبھی جھوٹ نہیں بولتے ان میں صرف سچائی ہی سچائی ہوتی ہے۔ بہرحال سارے ہندوستانیوں کو وزیر اعظم نریندر مودی کی اپنی ماں سے محبت دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور وہ یہی چاہتے ہیں کہ ہر ہندوستانی کی ماں مودی کی ماں کی طرح خوش رہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT