Friday , September 22 2017
Home / مضامین / ماں پلیز مجھے پیار سے پڑھاؤ نا

ماں پلیز مجھے پیار سے پڑھاؤ نا

 

محمد مصطفیٰ علی سروری
حیا کی عمر صرف تین سال ہے وہ ابھی نرسری کو جارہی ہے ۔ جہاں پر اس کو گنتی سکھائی جارہی ہے اور ابھی وہ ایک سے لیکر پانچ تک ہی پڑھ پائی ہے ۔ جیسا کہ ماں اس کو گھر پر اس کا ہوم ورک پڑھا رہی ہے ۔ حیاء 3 2 1 صحیح طور پر ابھی پہچان نہیں پاتی ہے اور ماں کے پوچھنے پر وہ جواب نہیں دے پارہی ہے اور غلط جواب پر ماں کا ایک زوردار ہاتھ حیاء کے گالوں پر پڑتا ہے اور حیاء اپنی ہی ماں سے رو رو کر اور ہاتھ جوڑ کر درخواست کرتی ہے کہ ماں پلیز مجھے پیار سے پڑھاؤ نا میرے سر میں درد ہورہا ہے ۔ دیڑھ منٹ کا حیاء کا یہ ویڈیو جب ہندوستانی کرکٹ کے اسٹار ویراٹ کوہلی نے Share کیا تو تقریباً ساڑے تین ملین لوگوں نے اس ویڈیو کو دیکھا ۔ یوراج سنگھ نے بھی جب ایک چھوٹی سی بچی پر پڑنے والی ماں کی مار کی مذمت کیاور ویڈیو شیئر کیا تو 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے اس ویڈیو کا مشاہدہ کیا اور والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھانے کے دوران مارپیٹ کا ہرگز نشانہ نہ بنائیں۔
یہ حیاء کون ہے ؟ اس کے متعلق اخبار ہندوستان ٹائمز نے لکھا ہے ۔ حیاء کی عمر تین سال ہے اور وہ بالی ووڈ کے سنگر کمپوزر توشی اور شارب صابری کی بھانجی سے شارب صابری نے اپنی بہن اور بھانجی کے اس ویڈیو کو دیکھ کر لوگوں کی تنقید پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیاایک ماں سے بڑھ کر کسی بچی کا کوئی دوسرا ہمدرد ہوسکتا ہے ؟ ان کے مطابق حیاء کی دیڑھ منٹ کے ویڈیو کو دیکھ کر کوئی ان کی بہن کے متعلق صحیح تجزیہ نہیں کرسکتا ہے ۔ کیا بچے ضد کرنے لگے تو ان کو مارنا ضروری ہے اور خاص کر پڑھائی کیلئے ایسا کیا دباؤ ہے کہ بچے کا پڑھنا ضروری ہے ، چاہے مار کھا کر ہی کیوں نہ پڑھیں ؟ آخر ایسا کونسا آسمان گر جانے والا تھا ۔ بچی گڑگڑا رہی ہے اور ماں اس کو ہی مار رہی ہے ۔ ویڈیو دیکھنے والا ہر دل ہمدردی کے جذبہ سے سرشار ہوکر ماں سے ہی جواب طلب کرنا چاہتا ہے اور لڑ کی کے عزیز ماموں جان شارب صابری کا کہنا ہے کہ اول تو یہ ویڈیو ہماری فیملی کے گروپ کے لئے بنایا گیا تھا ، میری بہن نے اپنے شوہر کو اور مجھے بتلانے کیلئے بچی کتنی شریر ہوگئی ، اس کو بنایا تھا اور ہماری بچی کے بارے میں ہمیں پتہ ہے کہ اس کی فطرت کیسی ہے اور اگر اس کے ساتھ سختی نہیں کی گئی تو وہ پھر پڑھنے والی نہیں اور صرف کھیلنے چلی جائے گی اور بچی کو اسکول میں Counting کا جو ہوم ورک دیا گیا ہے، وہ تو کر ہی نہیں پاتی، وہ جو رو رہی ہے نا وہ صرف پڑھائی سے بچنے کیلئے ہے ۔ اس کو چھوڑدیں تو وہ اگلے ہی لمحے کھیلنے لگے گی۔ ہر گھر میں بچے کی ایک ضد ہوتی ہے ۔ یہ بچی بھی ضدی ہے لیکن ہماری لاڈلی بھی ہے ۔ یہ ماں اور ماموں کی وضاحت ہے جو اخبارات کے ذریعہ ہمارے سامنے آئی ہے۔ آج کے کالم میں مجھے جس اہم موضوع پر قارئین کی توجہ مبذول کروانا ہے وہ بچوں کی تعلیم و تربیت ہے ۔ سب سے اہم سوال کیا پڑھانے کیلئے بچوں کو مارنا درست ہے ؟ اور پڑھائی جب ماں خود کروا رہی ہے تو کیا بچے کو مارنا اس کا حق بنتا ہے ؟ تعلیم ہمارے بچوں پر کس طرح کا اور کس کس طریقہ سے Pressure ڈال رہی ہے۔ اس کا اندازہ تھوڑا بہت تو سب کو ہے مگر شائد ہم لوگ اس موضوع پر غور کرنا نہیں چاہتے ہیں اور جب کسی چیز کو مسئلہ ہی نہیں مانتے تو اس کو حل کرنے کے بارے میں سوچنے کی زحمت کے بارے میں تو کچھ کیا ہی نہیں جاسکتا ہے۔ ایسٹ دہلی کے اسکول میں پڑھنے والے ایک بھائی اور بہن پانچویںاور چھٹی جماعت کے اسٹوڈنٹ ہیں، اسکول میں ان لوگوں کو رپورٹ کارڈ ملی تو پتہ چلا کہ ان کا پرفارمنس کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔ گھر والوں کی پوچھ تاچھ سے ڈر کر ان دونوں بھائی بہن نے گھر میں (PTM) Parent Teacher Meeting کی اطلاع بھی نہیں دی اور پھر اتنا سب کردینے کے بعد پریشان بھائی بہن جن کی عمریں 10 تا 11 برس کی ہیں، ایک بیاگ میں چند کپڑے رکھے اورا پنی پاکٹ منی کی 850 کی رقم لیکر گھر سے نکل گئے ۔ 100 روپئے میں ایک گھڑی خریدی تاکہ وقت کا اندازہ ہوسکے اور پھر آٹوو بس کے ذریعہ سفر کر کے اترکھنڈ پہونچ گئے اوراس ہوٹل میں ٹھہرے جہاں پر دو مہینے پہلے پورے خاندان کے ساتھ چھٹیاں منانے کیلئے ان لوگوں نے قیام کیا تھا ۔ ہوٹل کے مالک کو شک ہوا اس نے رجسٹر سے دو مہینے پہلے کا ریکارڈ نکالا جس میں بچوں کے والد کا فون نمبر تھا اور فون پر والد کواطلاع دی کہ ان کے دو بچے اس کی ہوٹل میں آئے ہوئے ہیں والد نے پولیس کو بتلایا اور پولیس نے ان دو بچوں کو پکڑ کر واپس والدین تک پہونچانے کا انتظام کیا ۔ جب بچوں کے والدین اسکول پہونچے تو معلوم ہوا سارا ماجرا کیا ہے اور کیسے کم مارکس ملنے کے سبب ان کے بچوں نے پہلے تو ان کو PTM کے بارے میں نہیں بتلایا اور پھرڈر کے مارے گھر سے ہی بھاگ گئے ۔(بحوالہ 22 اگست 2017 ء ہندوستان ٹائمز)
بچوں پر تعلیم کیلئے والدین کی طرف سے پڑھنے والا دباؤ ایک سنگین مسئلہ ہے ، اس مسئلہ کو تسلیم کرنا ہی اسکو حل کرنے کی سمت اٹھایا جانے والا صحیح قدم ہوگا۔ کم مارکس ملنے کے ڈر سے بچے اپنے گھر کو چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ یہ بچے اپنے گھروں سے نہیں بلکہ اپنے والدین کے ڈر سے یہ ا قدام کر رہے ہیں۔

اخبار انڈین اکسپریس نے 23 اگست 2017 ء کو ایک دردناک خبر شائع کی ہے ، خبر کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر ستنا کے ایک ہی اسکول اور ایک ہی کلاس میں پڑھنے والی دو سہیلیاں صرف اس بات پر ایک دوسرے سے دشمنی کرنے لگی کہ ایک نے دوسرے سے زیادہ مارکس حاصل کرلئے، بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ گئی ۔
تفصیلات کے مطابق آٹھویں جماعت کی ایک لڑکی نے جب اسکول کے دوران اپنے پانی کے باٹل سے پانی پیا تو اس کی طبیعت خراب ہوگئی کیونکہ پانی میں مچھر مارنے کی دوا کی بو آرہی تھی ۔ اسکول والے پریشانی کے عالم میں لڑکی کو دواخانہ لیکر گئے، بعد میں جب اسکول کے سی سی ٹی وی فوٹیج کا بغور مشاہدہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ آٹھویں جماعت کی ہی ایک دوسری لڑکی نے اپنی ہی سہیلی کے پانی کے باٹل میں مچھر مارنے کی دوا ملاکر اس کو واپس بیاگ میں رکھ دیا اور اس پانی کو پی کر پہلی والی لڑکی کی طبیعت خراب ہوگئی ۔ مذکورہ لڑکی کو جب بلاکر پوچھا گیا آخر اس نے اپنی ہی سہیلی کے پانی میں زہر کیوں ملایا تو اس نے جواب دیا کہ وہ اپنی سہیلی کی جانب سے اچھے مارکس حاصل کرنے پر بڑی ناراض تھی تو اس نے اپنے غصہ کے اظہار کیلئے اپنی ہی سہیلی کو زہر دینے کا منصوبہ بنایا اور پھر مچھر مارنے کی دوا اس کے پانی میں ملادی۔ اخبار نے ان لڑکیوں کی عمر 13 اور 14 برس بتلائی ہے۔ خبر میں مزید لکھا ہے کہ پکڑے جانے اور پولیس کی تفتیش کے ڈر سے خاطی لڑکی نے بھی گھر جا کر مچھر مارنے کی دوا استعمال کرلی ہے ۔ یہ کیسا دباؤ ہے، یہ کیسی تعلیم ہے جہاں اچھے مارکس حاصل کرنے کیلئے طالب علم کچھ بھی کرنے کیلئے آمادہ ہے اور اگر کوئی دوسرا اسٹوڈنٹ اچھے مارکس لائے تو اس سے نفرت اور اس کو نقصان پہنچانے کی ضد ایک بہت ہی بڑے خطرے کی نشاندہی کر رہی ہے ، کیا ہم اپنے بچوں کی صورتحال اور ان پر پڑھنے والے دباؤ اور چیالنجس کے بارے میں واقف ہیں۔ کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ اسکول میں کالج میں ہمارے بچوں کو کس طرح کے ماحول کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مندرجہ بالا واقعے میں دونوں طلباء صنف نازک ہیں۔ اب اندازہ لگایئے کہ اسکول میں پڑھنے والی لڑ کیوں زیادہ مارکس حاصل کرنے پر ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر آمادہ ہیں، کیا ہم نے سوچا ہے ؟ ایسا کیوں؟ یہ ہمیں سوچنا ہوگا۔

شاشات پانڈے کی عمر 26 سال تھی اور وہ دہلی کے سینٹ اسٹیفن ہاسپٹل میں ریڈیالوجی کے ڈپارٹمنٹ میں پی جی اسکالر تھا۔ 26 اگست کی صبح پانڈے کی نعش اسی کے ڈپارٹمنٹ آف ریڈیالوجی میں ملی نعش پر زخموں کے 20 نشان تھے اور اس کا گلا بھی کاٹ دیا گیا تھا ۔ دہلی کے اس ڈاکٹر کے قتل کے لئے اس کے ہی ایک بیاچ میٹ ڈاکٹر سدیش گپتا کو ملزم مانا جارہا ہے ۔ اخبار انڈین اکسپریس نے 26 اگست 2017 ء کو ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ دونوں ڈاکٹرس کے درمیان ایک میڈیکل سمینار میں شرکت کے بعد جھگڑا ہوگیا تھا اور گزشتہ دو برسوں کے دوران یہ جھگڑا بڑھتا ہی گیا اور بالآخر ایک ڈاکٹر نے دوسرے ڈاکٹر کو اس کی ڈیوٹی کے دوران مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔
آخر یہ کیسا پریشر ہے ۔ کیسی تعلیم ہے ، کیسے سمینار ہے کہ ہر کوئی اچھے مارکس لانا چاہتا ہے ، ہر کوئی میرٹ کا طلبگار ہے ، ہر کوئی سمینار میں شریک ہوکر ایوارڈ لینا چاہتا ہے ۔ ہمارا تعلیمی نظام طلبہ پر کس قدر گراں گزر رہا ہے ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ اخبار ہندوستان ٹائمز نے 8 مئی 2017 ء کو ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق ہندوستان میں ہر گھنٹہ میں ایک طالب علم خودکشی کرلیتا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھرمیں خودکشی کی شرح ہندوستان میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ 5 اپریل 2017 ء کا واقعہ ہے جب ممبئی میں ایم بی اے کے ایک طالب علم ارجن بھردواج نے ایک ہوٹل کی 19 ویں منزل سے کود کر خو دکشی کرلی ، اپنے 9 صفحات کے خودکشی نوٹ میں ارجن نے لکھا ہیکہ وہ اپنے امتحانات میں نا کام ہوگیا ہے اور اس وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے اور اپنی زندگی خود ختم کر رہا ہے ۔ (بحوالہ انڈین اکسپریس)
تین سال کی عمر سے لیکر 23 سال کی عمر تک تعلیم کے ہر مرحلے پر طالب علم پریشان ہے ۔ اچھے مارکس کیلئے اچھے رینک کیلئے میرٹ کیلئے اور نتیجہ حسب توقع نہ آنے پر موت کی نیند سوجانا پسند کر رہے ہیں۔ یہ لمحہ فکریہ ہے ۔ چھوٹے بچے ماں کی مار سے پریشان ہے ، بڑے بچے باپ کی پھٹکار سے ۔ آخر کوئی بھی جب بچوں کے مسائل کو سمجھے گا نہیں تو وہ جائیں تو جائیں کہاں ؟ کیا زندگی کا مقصد صرف یہی رہ گیا ہے ! حالانکہ ہمیں تو سکھلایا گیا ہے ۔
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
[email protected]

TOPPOPULARRECENT