Thursday , July 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / ماں کی لازوال محبت،ایک دن کی محتاج کیوں؟

ماں کی لازوال محبت،ایک دن کی محتاج کیوں؟

حافظ محمد ہاشم قادری

اللہ رب العزت کے نزدیک بھی ماں اہمیت کی حامل ہے۔ ماں کا روپ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے وہ خوبصورت عطیہ ہے جس میں اللہ نے اپنی رحمت ، فضل و کرم ، برکت، راحت اور عظمت کی آمیزش شامل فرماکرعرش سے فرش پر اتارا اور اس کی عظمتوں کو چارچاند لگا دیا ، قدموں تلے جنت دے کر ماں کو مقدس اور اعلیٰ مرتبہ پر فائز کر دیا ۔ ماں اللہ رب العزت کا ایسا عطیہ ہے جس کا کوئی      نعم البدل نہیں جو اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اولاد کے دل کا حال بہت جلد جان لیتی ہے۔ اللہ نے قرآن کریم میںبہت سی جگہوں پر والدین کاذکر اپنے ذکر کے ساتھ فرمایاہے: ’’اور یاد کرو جب لیا تھا ہم نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے (اس بات کا ) نہ عبادت کرنا بجز اللہ کے اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا‘‘ (سورہ البقرہ)۔دوسری جگہ ارشاد باری ہے: ’’ اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کونہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے بھلائی کرو‘‘۔( سورۂ نساء)  والدین کی عظمت کا ثبوت اس سے بڑا اور کیا ہوسکتا ہے کہ رب نے اپنے اسمِ جلالت کے ذکر کے ساتھ والدین کی خدمت کا حکم دیاہے۔ ماں کی عظمت کا بھی اعلان فرمایا: ’’اور ہم نے آدمی کو حکم کیا کہ اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے۔ اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے اور جنا(پیداکیا) اس کو تکلیف سے اور اسے اٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینہ میں۔(سورہ احقاف ) ۔ماں باپ اگرچہ کافر ہوں مگر ان کی خدمت اولاد پر لازم ہے کیونکہ والدین کا حکم مطلق ہے۔
رب تعالیٰ نے فرمایااور یہ بھی معلوم ہوا حق الخدمت ماں کا زیادہ ہے کیونکہ ماں کی تکلیف کا بیان ہے اور یہ کہ ماں نے بچہ کو خون پلاکر (خون سے ہی دودھ بنتا ہے) پالا اور باپ نے محنت کرکے کمائی کی اور پرورش کی۔ ماں اگر بچہ کی پرورش نہ بھی کرسکے جب بھی حق ِ مادری اس کا بچے پرلازم ہے۔ (جیسے بیماری یا کوئی تکلیف پر)کیونکہ یہاں پیٹ میں نو ماہ رکھنے اور جننے (پیداکرنے) کی تکلیف کووجہ بتایا گیا نیز ماں اگر خاوند سے اجرت لے کر بھی بچے کوپالے جب بھی ماں کا حق اولاد پر قائم رہے گا جیسے موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے فرعون سے اجرت لے کر پالا اور پرورش فرمائی۔ (تفسیر نورالعرفان)
ماں باپ کا یہ ادب ہے کہ ان کی خدمت جان و مال دونوں طرح سے کرے ۔ ایک بار ایک صحابی ِ رسول حضور نبی کریم  ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنی ماںکو اپنے کاندھوں پر بٹھا کر حج کروایا ہے ، کیا میں نے ماں کا حق ادا کردیا؟ آپ  ﷺ  نے فرمایا: نہیں ، تو نے ابھی اپنی ماں کی ایک رات کے دودھ کا حق بھی ادا نہیں کیا ہے۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: عورت پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: شوہر کا۔ میںنے عرض کیا: اور مر د پر سب سے بڑا حق کس کا ہے؟ فرمایا: اس کی ماں کا(حدیث ) حضرت ابو ہریرہ    رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ کون اس کا مستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت (خیر خواہی) کروں؟ فرمایا: تیری ماں ۔عرض کیا پھر؟فرمایا :تیری ماں۔عرض کیا پھر؟ فرمایا: تیری ماں۔عرض کیا پھر؟ فرمایا: تیرا باپ۔ (بخاری و مسلم )
علما ء فرماتے ہیں ،حقِ خدمت ماں کازیادہ ہے اور حقِ اطاعت حکم بجا لانا باپ کا زیادہ ہے۔ اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنت تمہاری ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔اور فرمایا تو اور تیرا مال باپ کا ہے۔ اللہ نے اپنے ساتھ ماں باپ کا ذکر فرمایا کیونکہ وہ ہمارارب ہے اور ماں باپ ہمارے مربی۔ حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نماز پڑھ کر رب کا شکر ادا کرو اور نماز کے بعد ماں باپ کے لئے دعا مانگو۔ (تفسیر نور العرفان)
یوم مادر (Mother’s Day) : ماں کی ممتا کوایک دن میں سمیٹنا ماں کی محبت کی توہین ہے ۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ماں کی لازوال انمول محبت ،خلوص اور شفقت کو ہم کیسے بھول کر سال میں صرف ایک دن اس کے نام کردیں ۔مدرس ڈے تو اغیار کی روایت ہے جہاں نہ رشتوں کا تقدس ہے اور نہ ہی کوئی اہمیت ہے۔ جہاں اولاد صاحبِ حیثیت ہونے کے باوجود اپنے ماں باپ کو بے وقعت سمجھنے لگتے ہیںاور ماں کی قربانیوں اور پر خلوص محبت کو ٹھوکر مار کر ’’اولڈ ہاؤس‘‘میں رکھ دیتی ہے اور سال میں ایک دن اپنی ماں اور باپ کے نام کرکے اپنے فرض سے منھ پھیر لیتے ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہماری یہ روایت نہیں ہے ۔ اللہ و رسول کی طرف سے ماں کی محبت و شفقت کے مجسم روپ کوعزت و تکریم دینے کی تلقین کی گئی ہے۔اور ماں کی محبتوں اور خلوص کی پاسداری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور سب سے بڑھ کر ہمیں ماں باپ کے آگے اُف تک کرنے سے منع کیا گیاہے۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارے لئے اپنی ماں سے پیار کے اظہار کے لئے کوئی ایک دن مخصوص کرنا غلط ہے بلکہ ہر دن اور لمحہ اپنی ماں کی خدمت اور خیال رکھنے کے لئے ہونا چاہئے کیونکہ ماں سے پیار کے لئے کوئی ایک مخصوص دن کسی جذبے کا محتاج نہیں ہے بلکہ ہر دن ہر آن ماں کے لئے ہونا چاہئے ۔ اسی میں دنیا و آخرت میں ہماری کامیابی ہے۔ماں جیسی عظیم نعمت کی ہمیشہ قدر کرنی چاہئے۔اللہ سے دعا ہے کہ والدین کی قدر و عزت اور خدمت کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ آمین ،ثم آمین!!

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT