Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ماہانہ 3لاکھ روپئے تنخواہ دینے تلنگانہ ارکان اسمبلی کامطالبہ

ماہانہ 3لاکھ روپئے تنخواہ دینے تلنگانہ ارکان اسمبلی کامطالبہ

چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ پر دباؤ،حکومت تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے، مختلف گوشوں سے تنقید

حیدرآباد۔/10فبروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ارکان اسمبلی اپنی تنخواہوں میں تقریباً 200فیصد اضافہ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ پر زور دیا کہ وہ ان کی تنخواہوں میں ماہانہ 95ہزار روپئے سے بڑھا کر 3لاکھ روپئے کردیں۔ ٹی آر ایس حکومت اس مطالبہ پر غور کررہی ہے جبکہ ارکان اسمبلی کے مطالبہ پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سوال اٹھایا ہے اور اس مطالبہ کو شرمناک قراردیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کسانوں کی بڑی تعداد خودکشی کررہی ہے ایسے میں حکومت ترغیبات اور مراعات دینے میں مصروف ہے۔ کانگریس کے سینئر ایم پی وی ہنمنت راؤ نے کہا کہ ارکان اسمبلی اور ارکان کونسل نے اپنے مطالبہ کے ذریعہ پے پیاکیج کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی تنخواہوں میں 200فیصد اضافہ ہوجائے۔ 119رکنی تلنگانہ اسمبلی میں ٹی آر ایس کے 76ارکان اسمبلی ہیں جبکہ کانگریس کے صرف 15ارکان اسمبلی ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے ارکان اسمبلی کے اس مطالبہ کی حمایت کی اور کہا کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں گزشتہ کئی برسوں سے اضافہ نہیں ہوا ہے۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی ایک عرصہ سے تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کررہی ہیں۔ سرکاری بیان کے مطابق حکومت ارکان اسمبلی اور ارکان کونسل کی تنخواہوں میں اضافہ کے مسئلہ کا جائزہ لے رہی ہے۔ ٹی آر ایس ایم پی بی ونود کمار نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی جانب سے اٹھائی جانے والی موجودہ تنخواہ ناکافی ہے اس تنخواہ سے ان کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔ ایک رکن اسمبلی روزانہ 100کلو میٹر سے زائد فاصلہ کا سفر کرتا ہے اور ایک رکن اسمبلی کی تنخواہ 15ہزار 500روپئے ہے جبکہ رکن پارلیمنٹ کی تنخواہ اخراجات کے ماسواء 45ہزارروپئے ہے۔ ایک رکن اسمبلی روزانہ کئی افراد سے ملاقات کرتا ہے اور شادیوں، اموات یا افتتاحی تقاریب میں شرکت کیلئے جانا پڑتا ہے۔ ہر ایک رکن اسمبلی کو تلنگانہ کے 100اضلاع کا سفر کرنے پڑیگا جس کے لئے ڈیزل اور دیگر عملے کے اخراجات کی پابجائی مشکل ہے۔جب آپ ایک رکن اسمبلی کی تنخواہ کا تقابل دنیا بھر کے ارکان پارلیمنٹ سے کریں گے تو ہندوستان میں سب سے کم تنخواہ دی جارہی ہے۔

تنخواہوں میں اضافہ کیلئے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ سے کئی ارکان اسمبلی اور ارکان کونسل نے نمائندگی کی ہے۔ ارکان اسمبلی کو اس وقت ماہانہ 95ہزار روپئے دیئے جارہے ہیں جس سے سرکاری خزانہ پر سالانہ 14.94کروڑ روپئے کا بوجھ پڑ رہا ہے۔ تخمینہ کے مطابق ہر ایک رکن اسمبلی ماہانہ تقریباً 3لاکھ روپئے خرچ کررہا ہے۔ اپنے عملے کے طعام کیلئے خرچ کے علاوہ مختلف افراد کو مالی امداد کی فراہمی اور اس کے حلقہ میں مختلف پروگراموں میں شرکت کیلئے اخراجات ہوتے ہیں۔ تنخواہوں میں اضافہ کے مسئلہ پر مزید بحث چھڑے گی، اس تعلق سے قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ بعض گوشوں نے ارکان اسمبلی کے مطالبہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں اس وقت خشک سالی کی صورتحال پائی جاتی ہے، ہر روز  کسان خودکشی کررہے ہیں، بیروزگاری کا مسئلہ دن بہ دن سنگین ہوتا جارہا ہے اور اس گرما کے موسم میں پانی کی قلت بھی پائی جاتی ہے۔ کیا ایسے وقت میں ارکان اسمبلی اور ارکان کونسل کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا درست ہوگا۔ ہنمنت راؤ کے ساتھی ایم پی مدھو گوڑ یشکی نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ نہایت سنگین، غیر حساس اور شرمناک ہے۔ ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ جتیندر ریڈی نے ارکان اسمبلی کے مطالبہ کی مدافعت کی اور کہا کہ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ عوامی نمائندوں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ہندوستان کی سب سے نوخیز ریاست تلنگانہ میں خشک سالی پائی جاتی ہے اور یہاں کا اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اخراجات میں اضافہ کرے۔ گزشتہ سال چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے چین کا سفر کیا تھا جس پر 2کروڑ روپئے خرچ آیا تھا۔ اپوزیشن نے اس شاہ خرچی پر کڑی تنقید کی تھی۔ چیف منسٹر نے ڈسمبر میں بھی کسانوں کیلئے بھگوان کو خوش کرنے مختلف مذہبی تقاریب کا اہتمام عمل میں لایا تھا جس پر سرکاری خزانہ سے 7 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے تھے۔ ارکان اسمبلی کی تنخواہو ں میں اضافہ کے تعلق سے چیف منسٹر نے کل منعقدہ اجلاس میں غور کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT