Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / ماہر معاشیات سے ’چائے والا ‘ بہتر : امیت شاہ

ماہر معاشیات سے ’چائے والا ‘ بہتر : امیت شاہ

منموہن سنگھ کے دور میں شرح ترقی 4 فیصد تھی جسے مودی نے 7.6 فیصد تک پہونچایا
نئی دہلی ۔6 ڈسمبر۔(سیاست ڈاٹ کام) کرنسی بندی نے تمام سیاسی جماعتوں کے لائحہ عمل کو بدل کر رکھ دیا ہے کیونکہ کالا دھن اب انتخابات میں استعمال نہیں ہوپائے گا ۔ صدر بی جے پی امیت شاہ نے آج یہ بات کہی اور اُنھوں نے بتایا کہ مجوزہ اُترپردیش اسمبلی انتخابات میں ذات پات اور اقرباء پروری کی سیاست پر نہیں بلکہ کارکردگی کی بنیاد پر مقابلہ ہوگا ۔ امیت شاہ نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ پر بھی تنقید کی جنھوں نے نوٹ بندی پر نکتہ چینی کی تھی ۔ امیت شاہ نے کہاکہ ایک ماہر معاشیات ہونے کے باوجود انھوں نے شرح ترقی کو 8 فیصد سے 4 فیصد تک پہونچادیا تھا جبکہ ایک ’’چائے والا ‘‘وزیراعظم نے دوبارہ اسے 7.6 فیصد تک پہونچایا ہے ۔ امیت شاہ نے ’’ایجنڈہ آج تک ‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام مرکز کے نوٹ بندی اقدام کی تائید کررہے ہیں اور اس کی وجہ سے کالا دھن کو جو دھکہ پہونچا اُس نے حالات کو بدل کر رکھ دیا ہے ۔ یہ کالا دھن انتخابات میں استعمال کیا جاتا تھا۔ انھوں نے کہاکہ اگر اس سے مسائل کھڑے ہورہے ہیں تو تمام سیاسی جماعتوں کیلئے مسائل ہوں گے ۔ یہاں سب کے لئے ایک ہی میدان ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ کالا دھن اس نظام سے بالکل ہٹادیا جائے ۔

بی ایس پی سربراہ مایاوتی کی جانب سے نوٹ بندی کو ’’مالی ایمرجنسی‘‘ قرار دیئے جانے کے سوال پر امیت شاہ نے کہا کہ یقینا اُن کی پارٹی کے حق میں ایسا ہی ہوا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مجوزہ اُترپردیش انتخابات میں ذات پات کی سیاست اور اقرباء پروری کی سیاست ختم ہوجائے گی ۔ کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کو مرکزی اہمیت حاصل رہے گی ۔ انھوں نے سیاسی حریف جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ 8 نومبر تک وہ ہم سے پوچھ رہے تھے کہ کالا دھن کے سلسلے میں حکومت نے کیا قدم اُٹھائے اور اب یہی جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ کالا دھن کے خلاف ایسی کارروائی کیوں کی گئی ؟ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کرنسی بندی کے بعد کالا دھن کی بقاء ممکن نہیں، کیونکہ اگر اسے گھر میں رکھا بھی جائے تو یہ صرف ردی ہوگی اور اگر اسے بینکوں میں لایا جائے تو مقررہ نظام کا ایک حصہ بن جائے گی جس پر ٹیکس بھی عائد ہوگا ۔ انھوں نے منموہن سنگھ کے بارے میں کہاکہ اُنھیں دیکھنے کے بعد وہ ( امیت شاہ ) کبھی ماہر معاشیات بننا نہیں چاہیں گے۔ منموہن سنگھ کو تنقید کے بجائے اس صورتحال پر وضاحت کرنی چاہئے تھی۔

TOPPOPULARRECENT