Friday , June 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / ماہِ رمضان مومنین کے قلوب کیلئے سامانِ فرحت

ماہِ رمضان مومنین کے قلوب کیلئے سامانِ فرحت

مولانا حبیب سہیل بن سعید العیدروس
سال بھر کے انتظار اور تمناؤں کا ثمر بن کر رمضان المبارک کا مہینہ مومنین کے قلوب کیلئے سامانِ فرحت لئے تمام کے سروں پر سایہ فگن ہونے والا ہے۔ یہی وہ ماہ مبین ہے جس میں حق ہمیشہ باطل پر غلبہ پایا ہے اور مسلمانوں کو امداد ظاہری و باطنی طورپر فراہم کی گئی ۔ اسی ماہ میں اﷲ رب العزت نے اس عظیم کتاب کا نزول فرمایا جوکہ ہر اعتبار سے علوم و معانی کا بحرذخّار ہے ، اور حق و باطل میں فرق کرکے لوگوں کو ہدایت کے راستے کا رہبر بناتی ہے ۔ جیسا کہ اﷲ جل مجدہ کا ارشاد مبارک ہے :
’’رمضان کا مہینہ ( وہ ہے ) جس میں قرآن اُتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور ( جس میں) رہنمائی کرنے والی اور ( حق و باطل میں ) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں…‘‘ ( سورۃ البقرہ ، آیت : ۱۸۵)
امام مجاہد کا فرمان ہے کہ رمضان اﷲ تعالیٰ کا نام ہے اور رمضان اﷲ کا مہینہ ہے اور حضور اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ یہ نہ کہو کہ رمضان آیا اور رمضان گیا ، بلکہ یہ کہو کہ رمضان کا مہینہ آیا اور رمضان کا مہینہ گیا، کیونکہ رمضان اﷲ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے ۔ ( امام رازی ، تفسیر الکبیر)
اس ماہِ مبارک سے متعلق ایک قول یہ ہے کہ رمضان ، رمضاء سے بنا ہے اور رمضاء خریف کی اس بارش کو کہتے ہیں جو زمین سے گرد و غبار کو دھو ڈالتی ہے، اسی طرح ماہِ رمضان بھی اس اُمت کے گناہوں کو دھو ڈالتا ہے اور ان کے دلوں کو گناہوں سے پاک کردیتا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ رمضان رمض سے بنا ہے اور رمض سورج کی تیز دھوپ کو کہتے ہیں اور اس مہینہ میں روزہ داروں پر بھوک اور پیاس کی شدت بھی تیز دھوپ کی طرح سخت ہوتی ہے یا جس طرح تیز دھوپ میں بدن جلتا ہے اسی طرح رمضان میں گناہ جل جاتے ہیں اور روایت ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم نے فرمایا رمضان اﷲ کے بندوں کے گناہ جلادیتا ہے ۔ رمضان کے مہینہ میں نزولِ قرآن کی ابتداء اس وجہ سے کی گئی کہ قرآن اﷲ عزوجل کا کلام ہے اور انوارِ الٰہیہ ہمیشہ متجلیٰ اور منکشف رہتے ہیں البتہ ارواحِ بشریہ میں ان انوار کے ظہور سے حجاباتِ بشریہ مانع ہوتے ہیں اورحجاباتِ بشریہ کے زوال کا سب سے قوی سبب روزہ ہے ، اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کشف کے حصول کا سب سے قوی ذریعہ روزہ ہے اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر بنی آدم کے قلوب میں شیطان نہ گھومتے تو وہ آسمانوں کی نشانیوں کو دیکھ لیتے اس سے معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید میں اور رمضان میں عظیم مناسبت ہے ۔ اس لئے نزولِ قرآن کی ابتداء کے لئے اس مہینہ کو خاص کرلیا گیا ۔ (تفسیر کبیر)

پھر اس ماہِ مبارک میں کارہائے خیر کے تمام راستے بلا رکاوٹ کے فراہم کردیئے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑدیا جاتا ہے اور دوزخ کے دروازوں کو تالے ڈال دیئے جاتے ہیں اور صرف جنت و انعاماتِ الہیہ کے دروازے لوگوں پر کھول دیئے جاتے ہیں۔ (مسلم )
جب بھی ماہِ رمضان کی آمد ہوجاتی تو حضور تاجدارِ کائنات ﷺ صدقات میں کثرت فرمایا کرتے اور عام دنوں سے زیادہ سخاوت فرماتے تھے ۔ عبادات کی انتہاء نہ ہوتی اور شب و روز قرآن کی تلاوت میں مصروف رہتے کیونکہ یہی وہ ماہِ مبارک ہے جس میںقرآن کریم نازل ہوا اور اسی کے نزول کی نسبت سے شب قدر ، قدر والی کہلائی ۔ اس رات اﷲ تعالیٰ نے اپنی قدر والی کتاب کو قدر والے رسول پر، قدر والے مہینہ میں ، قدر والی رات میں ، قدر والے فرشتے کے ذریعہ نازل فرمایا اور اس کتاب عظیم کے نزول ہی کا سبب ہے کہ شب ِ نزول کی برکت سے تمام مہینہ کو برکت بخش دی گئی اور یہ اس لئے کہ قرآن مجید کو حضور ﷺ کی نسبت و رسالت کا رہتی دنیا تک زندہ معجزہ بننا تھا ۔ جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس طرح جمعہ تمام ایام کا سردار ہے ، اسی طرح ماہِ رمضان تمام مہینوں کا سردار ہے کیونکہ اس میں قرآن نازل کیا گیا ۔ قرآن ہی کے سبب ہرچیز کو فضیلت عطا کی جائیگی ، جو اس کتاب سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ، اس کو یاد کرتے ہیں ، خوش الحانی سے تلاوت کرتے ہیں اور اس کی خدمت کرتے ہیں تو وہ بھی فضیلتوں اور بزرگیوں کے حقدار ہوجاتے ہیں جیسا کہ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن     قاریٔ قرآن سے فرمائے گا کہ ائے قاریٔ قرآن ! آج کے دن قرآن پڑھ اور ہر آیت کے عوض ایک ایک درجہ جنت میں تیرا بلند کیا جائیگا ۔
قرآنِ مجید دنیا و آخرت میں ہماری سربلندی کا راز ہے ۔ اس سے امساک ہی سے تمام خزانوں تک رسائی ہے ۔ فاران کی وادیوں سے قرآن کا چشمۂ فیض کیا پھوٹا کہ اس سے علوم و فنون کے دریا بہہ نکلے ، جس نے علم کے متلاشیوں اور پیاسوں کو سیراب کیا اور انھیں حکمت و دانش کی جلوہ گاہ بنایا ۔ اس کتاب نے جہاں پچھلے علوم کو حیاتِ نو بخشی وہاں اس نے بے شمار جدید علوم کی تشکیل کا سامان فراہم کردیا ۔ ہر عہد میں ملت اسلامیہ کے ذہین و فطین افراد نے جو روشن دماغ بھی تھے اور روشن ضمیر بھی اپنی ذاتی استطاعت ، ذاتی صلاحیت و استعداد اور اپنے مخصوص ماحول کی ضروریات اور تقاضوں کے پیشِ نظر قرآن مجید کے ان علوم میں سے کسی ایک کو اپنے لئے منتخب کیا اور اپنے اپنے موضوع پر ایسی نادر و نایاب تصنیفات و تالیفات کا گراں قدر ذخیرہ چھوڑا جن کی روشنی سے دنیا بھر کے کتب خانے اور دانش گاہیں آج بھی چمک رہی ہیں۔ لیکن اس ناچیز کے نزدیک قرآن کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ وہ کتاب ہدایت ہے ۔ اس کے نازل فرمانے والے نے بارہا اس کا تعارف اس قسم کے کلمات سے کرایا :

’’قرآن لوگوں کے لئے واضح بیان ہے اور ہدایت ہے اور پرہیزگاروں کیلئے نصیحت ہے ‘‘ ۔ (سورہ ال عمران :۱۳۸)
قرآن مجید کا مقصدِ اولین انسان کی اصلاح ہے ۔ یہ اپنے تربیتِ پیہم سے ، انسان کے نفسِ امّارہ کو نفسِ مطمئنہ بناتا ہے ۔ ہوا و ہوس کے غبار سے آئینۂ دل کو صاف کرکے انوارِ ربانی کی جلوہ گاہ بناتا ہے ۔ انانیت و غرور کو دور کرکے انسان کو اپنے خالق حقیقی کی اطاعت کا خُوگر کرتا ہے ۔ قرآن مجید نے اسی اہم ترین اور مشکل ترین کام کو سرانجام دیا اور اس حُسن و خوبی سے کہ دنیا کا نقشہ بدل گیا ۔ یہ تمام آیات آج بھی نظروں کو ٹھنڈک اور دلوں کو راحت بخشتے ہوئے منظر عالم پر عملی جوہر دکھاسکتے ہیں ، ہمارے ظلمت خانۂ حیات کو آج بھی منور کرسکتے ہیں ۔ یہ سب کچھ ہوسکتا ہے بشرطیکہ ہم قرآن کی ہدایت کو قبول کرنے کیلئے تیار ہوں اور ہمارا کاروانِ حیات اس شاہراہِ ہدایت پر گامزن ہوجائے جو قرآن نے ہمارے لئے تجویز کیا ہے۔ قرآن آج بھی ہمیں عظمت و عزت کی بلندیوں کی طرف لے جاسکتا ہے بشرطیکہ ہم اس کی قیادت کو قبول کریں۔ دنیا کی امامت ہماری متاعِ گم گشتہ ہے اور یہ ہمیں واپس مل سکتی ہے اگر ہم اس کی واپسی کی تڑپ رکھیں۔ یہ تمام اسی وقت واپس مل جائیں گی جب ہم اس کا حکم ماننے لگیں گے ۔ یہ ایک بڑی دلخراش اور روح فرسا حقیقت ہے کہ مُرورِ زمانہ سے اس اُمت میں افتراق ، انتشار کا دروازہ بھی کھل گیا ،جس قوم کو اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ : ’’اور تم سب مل کر اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو…‘‘(سورۃ آل عمران)
یہ اُمت بھی بعض خودغرض اور بدخواہ لوگوں کی بدنیتی کے سبب متنازعہ گروہوں میں بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی ۔ اُمت مسلمہ کو یکجا کرنے کا یہی طریقہ ہوسکتا ہے کہ انھیں قرآن حکیم کی طرف بلایا جائے اور اس کی تعلیمات کو نہایت شائستہ اور دلنشیں پیرائے میں پیش کیا جائے ۔ پھر ان کی عقلِ سلیم کو اس میں غوروفکر کی دعوت دی جائے ۔ ہمارا اتنا ہی فرض ہے اور ہمیں یہ فرض بڑی دلسوزی سے ادا کرنا چاہئے ۔ اس کے بعد معاملہ خدائے برتر کے سپرد کردیں۔ ماہ صیام میں قرآن مجید کی تلاوت عام دنوں سے زیادہ کی جاتی ہے تو اﷲ رب العزت کی ذات سے قوی اُمید ہے کہ اس کے ذریعہ اس اُمت کے گمراہوں کی جانب بڑھتے قدم ، قرآنی تشبیہات اور ہدایت کے سبب لوٹ آئیں اور رضائے الٰہی و اطاعت الہی میں مصروف ہوجائیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں اس ماہِ رمضان المبارک کی برکتوں اور سعادتوں اور قرآنی ہدایتوں سے مستفیض فرمائے اور کماحقہ عبادات کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
بجاہ سیدالمرسلین و آلہٖ الطیبین

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT