Thursday , May 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / ماہِ صفر کی نحوست لغو خیال

ماہِ صفر کی نحوست لغو خیال

محمد ہاشم قادری مصباحی
اللہ رب العزت نے ہر چیز پیدا فرمائی ہے ۔اس میں دن، ہفتہ، مہینہ ،سال سب شامل ہیں اور سب کا ذکر اپنی کتاب قرآن مجید میں فرمایا، سال کا ذکر اور مہینوں کی تعداد کا ذکر بھی فرمایا ۔ترجمہ: بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ ہیں(سورہ توبہ ) ۔ اللہ کی کتاب میں اس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا۔(کنزالایمان) اس آیت کریمہ میں اللہ نے قمری سال کے مہینوں کا ذکر فرمایا ہے اور آگے یہ بھی فرمایا ۔ ترجمہ:یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو۔ یعنی پورے سال اللہ کے بتائے راستوں پر چلو ۔ طرح طرح کے رسم و خرافات میں پڑ کر اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ آج مسلم معاشرے میں ان گنت خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔
صفرالمظفر اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ بعض لوگ کا گمان ہے کہ اس ماہ میں بکثرت مصیبتیں اور آفتیں نازل ہوتی ہیںجبکہ حقیقت یہ ہے کہ شریعت مصطفویہ نے نزولِ آفات سے انکار کیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ماہِ صفر میں بیماری ، نحوست اور بھوت پریت کا نزول نہیں ہوتا۔ (مسلم) دوسری حدیث پاک یوں ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:چھوت لگنا، بد شگونی لینا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں۔ البتہ جذامی(کوڑھی)شخص سے ایسا بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے۔ (بخاری شریف )بخاری شریف میں یہ حدیث بھی مذکور ہے کہ نبی  ﷺ نے فرمایا:چھوت(بیماری) لگ جانا ،بدشگونی، شیطانی گرفت(بھوت چڑھنا) یا صفر کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ (بخاری)
ّّّآخری چہار شنبہ (بد ھ) کیاہے؟صفرکے آخری بدھ کے متعلق لوگوں میں مشہور ہے کہ اس روز حضور  ﷺ نے مرض سے صحت پائی اور آپ ﷺ نے غسل صحت فرمایا اور مدینہ سے باہر تشریف لے گئے تھے۔ یہ سب باتیں بے اصل ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ وہ مرض جس میں آپ نے وفات پائی اس کی شروعات اس دن سے ہی بتائی جاتی ہے۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے ماہ صفر کے آخری بدھ سے آپ ؐکا مرض شروع ہوا ۔حضرت عبد اللہ بن عمرواورحضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی  ﷺ نے مجھے صفر سے رنگے ہوئے دو کپڑوں کو پہنے دیکھا تو فرمایا: تجھے تیری ماں نے یہ کپڑے پہننے کا حکم دیا ہے۔ میں نے عرض کیا میں اس رنگ کو دھو ڈالوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا(نہیں) بلکہ اسے جلا ڈالو (مسلم ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مرض کے متعدی ہونے اور صفر کی نحوست اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں تو ایک دیہاتی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیاوجہ ہے کہ اونٹ ریت میں ہرنوں کی طرح صاف ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارش (کھجلی) زدہ اونٹ آتا ہے جو ان اونٹوں کوبھی خارش زدہ کر دیتا ہے آپ ﷺ نے فرمایاپہلے ا ونٹ کو بیماری لگانے والا کون ہے؟ (مسلم )

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT