Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / ماہ انوار رمضان المبارک کی آمد آمد ہے

ماہ انوار رمضان المبارک کی آمد آمد ہے

محمد قاسم علی انجینیر
ماہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ، چند ہی روز بعداس ماہ مبارک کی انوار و تجلیات سایہ فگن ہوگئی ، ایمان و عمل کی بہار آئے گی ، ماہ مبارک ہزاروں برکتوں اور سعادتوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہم پر سایہ فگن ہو رہا ہے ۔ ہر بندۂ مؤمن اپنی اپنی استعداد اور قوت کے مطابق اس مبارک مہینہ کی برکتوں سے فائدہ اٹھائے ۔
رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے سب سے اہم اور ضروری کام یہ ہے کہ گزشتہ زندگی کی ساری کوتاہیوں ، لغزشوں ، گناہوں سے توبہ کرلی جائے ، ظاہر و باطن کو خوب پاک و صاف کرکے رمضان المبارک کا استقبال کیا جائے ۔
اللہ تعالی نے سورہ بقرہ میں ارشاد فرمایا ’’اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں ، جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے ، تاکہ تم پرہیزگار بنو (تقوی اختیار کرو) ‘‘ ۔ روزہ ہر مسلمان عاقل بالغ پر فرض ہے ، اس لئے اس مبارک مہینہ کا نہایت ذوق و شوق سے اہتمام کیا جائے ۔ بغیر عذر صحیح کے کسی حال میں روزہ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اسی طرح تراویح بھی رمضان المبارک کا خاص تحفہ ہے ، اس کا بھی اہتمام کیا جائے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’رمضان المبارک کی آمد پر آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے بھی کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازوں کو بند کرکے شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور ندا کرنے والا کہتا ہے اے نیک بختو اور خوش نصیبو ! اعمال صالحہ کے لئے بارگاہ خداوندی کی طرف آؤ ، مساجد کی طرف آؤ ۔ یہی وہ ماہ مقدس ہے جس میں عمل قلیل پر بھی جزائے جلیل عطا کی جاتی ہے ۔
خدا کا شکر ہے کہ ہم ایمان والے ہیں اور ایمان والوں پر ہی روزہ فرض کیا گیا ہے ۔ اب جب کہ ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہونے والا ہے ، اگر ہمیں اس مہینہ کے روزوں سے تقوی حاصل کرنا ہے تو چند ضروری چیزوں کا اہتمام کرنا ضروری ہے ۔ بندہ رمضان میں ایک ماہ تک بھوک و پیاس برداشت کرتا ہے تو اس کو احساس ہوتا ہے کہ فاقہ ، بھوک اور پیاس کسے کہتے ہیں اور غریب و نادار لوگوں پر کیا گزرتی ہے اور ان کا بھوک سے کیا حال ہوتا ہے ، اس طرح ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔ روزہ میں مؤمن بندہ کو اللہ تعالی کی رضا کے لئے بھوک و پیاس برداشت کرنی پڑتی ہے ۔ روزہ قوت صبر پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔ رمضان میں ایک اہم عبادت تلاوت قرآن بھی ہے ۔ رمضان نیکیوں کا مہینہ ہے ۔ اس مبارک مہینہ میں اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے ۔ اس مبارک ماہ میں اپنے نفس پر مکمل قابو رکھنا ، یعنی غصہ اور غیر صحیح الفاظ زبان سے نہ نکالنا ، اگر کوئی شخص جھگڑا کرتا ہے تو اس سے کہہ دینا کہ میں روزہ سے ہوں یا میرا روزہ ہے ، اسی طرح غیر شرعی اعمال  سے دور رہنا ضروری ہے ۔

حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’میں چاہتا ہوں کہ روزہ دار رمضان المبارک میں زیادہ سے زیادہ اللہ کے راستے میں خرچ کرے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مبارک مہینہ میں بہت زیادہ سخاوت فرماتے ۔ اس میں یہ حکمت بھی ہے کہ اس مہینہ میں انسان کی ضروریات زندگی زیادہ ہو جاتی ہیں ، ہر شخص زیادہ سے زیادہ عبادت کرلینا چاہتا ہے ، جس کی وجہ سے کمائی کے مواقع کچھ کم ہو جاتے ہیں اور غریبوں کے لئے تو اور بھی زیادہ ، اس لئے مالدار کو چاہئے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اپنی دولت کا کچھ حصہ اس مہینہ میں اللہ کے راستے میں خرچ کریں ، تاکہ غریبوں کی ضروریات پوری ہو جائیں ۔

حضرت عوف بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے کہا ’’آپ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں ، روزہ رکھنے سے اور بھی کمزور ہو جائیں گے (لہذا روزے مت رکھئے) ۔ آپ نے فرمایا میں ایک طویل سفر کے لئے زادراہ تیار کر رہا ہوں ، کیونکہ اللہ تعالی کی اطاعت و فرماں برداری پر صبر کرنا زیادہ آسان ہے ، اس کے عذاب پر صبر کرنے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنے سے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے ، یعنی گناہ دھلتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’اے ایمان والو ! اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو‘‘ ۔(سورہ شوری)
قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کریں ۔ چوں کہ قرآن پاک رمضان المبارک میں نازل ہوا ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں قرآن پاک کا دور فرماتے تھے ۔ صدقات و خیرات کی کثرت کریں ، کیونکہ اس ماہ میں ہر عمل کا ثواب ستر گنا زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے ۔ اس مبارک ماہ میں نمازیں باجماعت پابندی سے ادا کریں ۔ ایک نماز سے دوسری نماز ، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ اور ایک رمضان المبارک سے دوسرے رمضان المبارک تک کے گناہوں کو اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے ۔ ساتھ ہی نماز تہجد کا اہتمام بھی کریں اور دعاؤں کا بھی اہتمام کریں ، کیونکہ روزہ دار کی دعاء افطار سے قبل رد نہیں ہوتی ۔ اپنے بھائیوں کو اس ماہ میں نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکناچاہئے ۔
مالک حقیقی کی عبادت کے لئے انسان میں تقوی پیدا ہو تو خدا کی عبادت ، اطاعت اور فرماں برداری میں لذت محسوس ہوتی ہے ۔ تقوی یہ ہے کہ انسان حرام چیزوں سے اجتناب کرے اور روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ کوئی دوسری عبادت اس کا بدل نہیں ہو سکتا (روزہ ایک خاموش عبادت ہے) ۔

TOPPOPULARRECENT