Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / ماہ شوال المکرم اور ہمارا معاشرہ

ماہ شوال المکرم اور ہمارا معاشرہ

اﷲ تبارک و تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہم سب کو ماہِ رمضان المبارک عطافرما یا تھا ۔ اب ہم میں سے خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے گزشتہ متبرک مہینہ کی قدر کیا ہے، پھر اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں عید الفطر کے موقع پر خوشی منانے کا بھی بھرپور موقع عنایت فرمایا ہے۔ یقینا اس نعمت عظمیٰ پر جتنا شکر بجالائیں، کم ہے، کیونکہ ایسی نعمت ہر ایک کو بار بار حاصل نہیں ہوتی ، جیسے ہی عید الفطر کی خوشی مکمل ہوئی تو ہمارے بعض بھائی یہ سمجھتے ہیں کہ اب ہمیں کوئی عبادت نہیں کرنی چاہئے ، کیونکہ ہم نے ماہ رمضان المبارک میں عبادتوں، ریاضتوں، مجاہدات اور ثواب حاصل کرنے والی اشیاء کو اختیار کیا ہے۔اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سوچ بالکل غلط ہے ۔ یاد رکھئے ! جب تک ہمیں اس دنیا میں زندگی گزارنے کا موقع ملتارہے گا تب تک ہم بندوںپراﷲتعالیٰ کی عبادت اور رسول اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت واجب ولازم ہے۔ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔
اب ماہِ شوال المکرم شروع ہوچکا ہے۔ اس مبارک مہینے کے تعلق سے حدیث پاک میں ہے کہ حـضورنبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’جس کسی نے ماہِ رمضان المبارک کے روزوں کے ساتھ ساتھ اگر ماہِ شوال المکرم میں چھ روزے رکھے ،چاہے وہ تسلسل کے ساتھ ہو یا بغیر تسلسل کے، تو وہ شخص ایساہے کہ اس نے تمام زمانے کے روزے رکھا‘‘۔ سبحان اﷲ۔ تو پتہ چلاکہ روزوں کی کتنی عظمت و فضیلت ہے ، ہم تمام مسلمانان عالم پر یہ ذمہ داری ہے کہ اس طرح کی چیزوں کو اختیار کرنے کے لئے پیش پیش رہیںتاکہ اﷲتعالیٰ ہمیں اپنے مقبول بندوں کی فہرست میں شامل فرمالے۔

طالبِ دنیا ’’ کلب ‘‘کی طرح
جیسا کہ ہمارے ذہن میں یہ بات داخل ہوچکی ہے کہ ہمیں دنیا کی ہر چیز حاصل ہوجائے، عیش و عشرت، نفسانی خواہشات وغیرہ، تو یاد رکھ لیجئے کہ صرف دنیا کو حاصل کرنا ایک مسلمان کی عادت نہیں ہے بلکہ یہ عادت کسی اور مذہب کے ماننے والے کی ہوتی ہے ۔جیسا ایک حدیث پاک میں حضورنبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام نے دنیا اور دنیا دار کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایاہے کہ  ترجمہ : ’’دنیا ایک حقیر یعنی معمولی چیز ہے اور اس دنیا کا طلب کرنے والا ایک کلب (یعنی کتے) کی طرح ہے‘‘ (الحدیث) اور یہ بات بالکل عیاں ہے کہ جتنے لوگ صرف دنیا کو طلب کرنے میں لگے رہتے ہیں وہ یقینا ایک حریص یعنی لالچی ہوتے ہیں ۔ اور اس کیلئے کچھ بھی کرنے تیارہوجاتے ہیں۔
ائے مسلمانو  !  ہماری یہ عادت ہونی چاہئے کہ دنیوی زندگی کو ہی سب کچھ نہ سمجھ بیٹھیں، بلکہ یہ دنیا ہم مسلمانوں کیلئے ایک امتحان کامقام ہے جس طریقہ سے ہم جب کبھی کوئی امتحان دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تو پہلے امتحان کی تیاری کرتے ہیں اس کے بعد امتحان دینے کے لئے مستعد رہتے ہیں۔ٹھیک اسی طرح ہمیں اس دنیا میں آخرت کی تیاری کرنا چاہئے تاکہ وہاں کامیابی وسرفرازی حاصل ہوجائے ۔

معاشرہ اور ہماری کوتاہیاں
ہمارامسلم معاشرہ (سوسائٹی) جو دیگر تمام معاشروں میں بہتر اور ممتاز ہے لیکن ہم میں سے کچھ لوگوں نے کوتاہیوں کے ذریعہ اس معاشرہ کوبدنام کرناشروع کیا ہے۔ نہ انہیں شریعت کا لحاظ، نہ لباس کا ، نہ ظاہرکا، نہ باطن کا،نہ سماعت درست ، نہ بصارت ،نہ گویائی ، نہ کسی کا ادب ، نہ کسی کا خیال، بس کسی سے کچھ بات کریں تو غیبت ، چغلخوری ، فسق وفجور، فحش باتیں، فحش مناظر، فحش مطالعات، بُری صحبت ، شریعت کی منع کردہ بُری اشیاء کا استعمال کرنا، ہرکسی کو تکلیف دینا، نامناسب مقامات کا دورہ کرنا۔ یہ سب ایسی چیزیں ہیں جس کے ذریعہ نہ صرف اس کواختیار کرنے والا انسان بُر ا ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی بدنام ہوتاہے ۔ آج یہی سب کچھ ہورہاہے ۔ جس سے بچنا ہرمسلمان کے لئے بہت ضروری ہے ۔

ضرورتِ زندگی اور مقصدِ زندگی
اگر ہم ہماری زندگی کاجائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ ہماری زندگی کیسے آگے بڑھ رہی ہے ، جب کہ ہمیں کیسے گزارنا چاہئے تھا۔چنانچہ بتلایا گیا ہے کہ زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں  (۱)  ضرورتِ زندگی (۲)  مقصدِ زندگی ۔ یہ دونوں چیزیں قابل غور ہیں تاکہ ہمیں بہتر طور پر زندگی گزارنے کا موقع ملے۔ ضرورتِ زندگی : دنیا کا علم حاصل کرنا۔ مقصدِ زندگی:دین کا علم حاصل کرنا۔ ضرورتِ زندگی کواسلئے ہمیں اختیار کرنا چاہئے تاکہ اس کو دنیامیں روزی روٹی کے لئے ذریعہ بنایاجائے، اور مقصدِ زندگی کو اس لئے اختیارکرنا ہے کہ اس سے دارین میں کامیابی نصیب ہوجائے ۔ لیکن آج ہمارا مسلم نوجوان صرف اور صرف ضرورتِ زندگی کے پیچھے پڑا ہے اور اسی کو سب کچھ سمجھ بیٹھاہے، جو کہ سراسر غلطی ہے ، اور مقصدِ زندگی کو تو حاصل کرنا اس کو معلو م ہی نہیں ہے ،اس لئے کہ موجودہ ماحول کے حساب سے اگر کوئی زبان یا علم حاصل کرے تو اس کو کسی شخص کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، یہ سمجھ کر حاصل کیاجائے تو درست ہے ،اور علم دین کو اختیار کرنامثلا حافظِ قرآن بننا ، عالمِ دین با عمل بننا ، اس سے آمدنی کیا حاصل ہوگی اور اس سے ہماری زندگی کیسے گزرے گی تویہ سمجھنا بالکل نااہل کی علامت ہے۔ ایک سمجھدار انسان کی علامت ہرگزنہیں ہوسکتی۔ اﷲتعالی ہم سب کو ہرحال میں تجھے راضی کرنے اور مقصدِزندگی کو اختیار کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ اٰمین۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT