Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / ماہ ِ صفرالمظفر میں کوئی نحوست نہیں

ماہ ِ صفرالمظفر میں کوئی نحوست نہیں

مرسل : ابوزہیر نظامی

وور جاہلیت میں بعض عربوں کا ماننا تھا کہ صفر سے مراد وہ سانپ ہے جو ہر ایک انسان کے بطن میں ہو تا ہے اور شدید بھوک کے وقت ڈستا ہے اور ایذاء  پہونچاتا ہے، بعضوں کا خیا ل تھا کہ صفر سے مراد  بطن کے وہ جراثیم ہیں جو بوقت بھوک کاٹتے ہیں، اس کی وجہ آدمی کا رنگ زرد ہوسکتا ہے اس سے ہلاکت بھی ہو سکتی ہے، اور اس کے اثرات بد دوسروں میں سرایت کر سکتے ہیں، اس لئے بھی وہ’’صفر‘‘ کو منحوس جانتے تھے۔
حضرت نبی مکرم سید نا محمد رسولﷺ کا یہ مبارک مختصر و جامع ارشاد ’’لاصفر‘‘ (ماہ صفر میں کوئی نحوست نہیں) نے اس طرح کی من گھڑت روایات اور اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ بد اعتقاد ی و بد شگونی کے جاہلانہ افکار پر خط تنسیخ پھیر دیا ہے۔ما ہ و سا ل یا دنو ں میں نحو ست کو ما ننا گو یا زما نے کو بر ا کہناہے چو نکہ زمانے کو بر ا کہنا اللہ سبحا نہ کو بر ا کہنے اور اسکی قدرت و سلطنت میںنقص ثا بت کرنے کے مترا دف ہے۔ کیو نکہ زما نہ کو ئی اور شئی نہیں بلکہ وہ تو اللہ سبحا نہ کا بنا یا ہو ا ہے۔  حدیث قدسی میں ار شا د ہے
’’لا تسبو ا الدھر ا نا الدھر‘‘
ایما ن کی نعمت سے مشرف وہ خو ش نصیب بھی ہیں کہ کلمہ اسلام نے انکے اندر اللہ سبحا نہ کی وحدا نیت‘ اسکی ربو بیت اور اسکے حا کم مطلق ہونے کا عقیدہ را سخ کر دیا ہے۔ اس کلمہ کازبان سے اقرار اور دل کی گہرائیوں سے اس تصدیق کے بعد وہ کسی اور میں نفع و نقصان کی طا قت کو ہر گز تسلیم نہیںکرتے قر آ ن پا ک کے اس ار شا د پر وہ کا مل یقین رکھتے ہیں ’’ اور اگر اللہ تم کو کو ئی تکلیف پہو نچا ئے اور مصیبت میں مبتلا ء کر دے تو بجز اس کے اسکو رد کرنے والا  اورتم سے اسکے فضل کو دور کرنے والا کوئی نہیں وہ اپنا فضل اپنے بندوںمیں سے جس پر چا ہے نچھا ور کردے اور وہ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت و ا لا ہے( یو نس؍۱۰۷)
اللہ کے نبی سیدنا محمدرسو ل اللہ ﷺ کی کئی ایک جامع دعا ئیں ہیں جو ایمان و ا لوں کے حرز جان ہیں جو عبدیت و بندگی کے پاکیزہ جذبات  اور اسکی عظمت و قدرت کے اعتراف و اظہا رسے لبریز ہیںان میں سے ایک دعا ء کے کلما ت یہ ہیں   ’’ماشاء اﷲ کا ن ومالم یشاء لم یکن‘‘  اللہ سبحانہ جو چا ہے وہی ہو تا ہے اور جو نہ چا ہے نہیں ہو تا۔

TOPPOPULARRECENT