Friday , May 26 2017
Home / ہندوستان / مایاوتی کے تکبر اور علمائے د ین کو نظرانداز کرنے سے شکست

مایاوتی کے تکبر اور علمائے د ین کو نظرانداز کرنے سے شکست

لکھنو۔12مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) مختلف مسلم تنظیموں اور علمائے دین کی مایاوتی زیرقیادت بہوجن سماج پارٹی کو اسمبلی انتخابات سے پہلے تائید فراہم کرنے سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ۔ اس نے صرف 19 نشستیں حاصل کیں ۔ یہ اُس کی بدترین کارکردگیوں میں سے ایک ہے ۔ بی ایس پی نے تقریباً 100مسلم امیدوار کھڑے کئے تھے ‘ ان میں سے صرف چار نے کامیابی حاصل کی ۔ حالانکہ 77 اسمبلی انتخابی حلقوں میں اقلیتی برادری کے رائے دہندوں کا غلبہ ہے ۔ بعض علمائے دین نے بھی مسلم رائے دہندوں پر زور دیا تھا کہ بی ایس پی کیلئے ووٹ دیں ۔ شاہی امام جامع مسجد دہلی احمد بخاری ‘ شیعہ عالم دین اور کُل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سینئر رکن مولانا کلب جواد کے علاوہ راشٹریہ علماء کونسل ایک تنظیم جس کا مشرقی یوپی میں اثر و رسوخ ہے مایاوتی زیر قیادت بی ایس پی کی تائید کی تھی ۔ مسلم غالب آبادی والے علاقوں کی نشستوں پر جو رامپور ‘ سہارنپور ‘ مرادآباد ‘ امروہا ‘ بریلی ‘ اعظم گڑھ ‘ مئو ‘ شامبلی ‘ مظفر نگر ‘ میرٹ اور علی گڑھ میں واقع ہے ایک بھی مسلم امیدوار جو بی ایس پی کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہا تھا کامیاب نہیں ہوسکا ۔ رامپور میں رائے دہندوں کی 50فیصد تعداد مسلم ہیں یہاں سے بی ایس پی کا ایک بھی رکن اسمبلی منتخب نہیں ہوسکا ۔ اسی طرح کی صورتحال سہارنپور اور مراد آباد میں بھی دیکھی گئی ۔ بی ایس پی دیوبند کے اسمبلی حلقہ سہارنپور میں بھی اپنا وجود منوانے سے قاصر رہی ۔
دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند ‘ دیوبند میں واقع ہے ۔ امروہا ‘ بریلی اور شاہجہاں پور میں پارٹی کا مظاہرہ افسوسناک رہا ۔ بی ایس پی شامبلی ‘ مظفر نگر ‘ میرٹ اور علیگڑھ میں بھی کوئی ڈٹ کا مظاہرہ نہیں کرسکی ۔ پارٹی کیلئے واحد تسلی کی بات یہ ہے کہ اُس نے سگری ‘ مبارک پور ‘ لال گنج اور دیدار گنج اسمبلی حلقوں سے جو اعظم گڑھ میں واقع ہے کامیابی حاصل کی ۔ ضلع مئو میں سوائے مئو اسمبلی نشست کے جس پر مختار انصاری نے کامیابی حاصل کی ‘ پارٹی کسی بھی نشست پر کامیاب نہیں ہوسکی ۔ مختار انصاری کے فرزند اور بھائی بھی ناکام ہوئے ۔ بی ایس پی کی ناکامی کی وجوہات کے بارے میں سوال پر صدر راشٹریہ علماء کونسل عامر رشدی نے کہا کہ بی ایس پی کی صدر مایاوتی کا تکبر اور علمائے دین کو نظرانداز کرنے کی اُن کی کوششوں کی وجہ سے بی جے پی نے کامیابی کے ساتھ مسلم ووٹوں کو منتشر کرنے میں کامیابی حاصل کی جس کی وجہ سے بی ایس پی کو نقصان پہنچا ۔ گذشتہ ماہ بی ایس پی کی تائید کا تیقن دیتے ہوئے کونسل نے اپنے 84امیدواروں کو مقابلہ سے ہٹا دیا تھا ۔ صدر کونسل نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ریاست اور ملک دونوں کے مفادات کو پیش نظر رکھا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی اور کونسل مسلسل تعاون کرتے رہیں گے تاکہ فسطائی طاقتوں کو ریاست میں غلبہ حاصل کرنے سے روکا جائے اور ساتھ ہی ساتھ ریاست کو غنڈہ راج  اور پریوار واد( خاندانی سیاست ) سے نجات دلوائی جائے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT