Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / مبینہ گاؤ ذبیحہ پر تشدد کے بعد 21 افرادگرفتار

مبینہ گاؤ ذبیحہ پر تشدد کے بعد 21 افرادگرفتار

MAINPUR, OCT 9 (UNI) Villagers vandalise properties and resort to arson in Mainpuri district on Friday over rumours of cow slaughter in the area. UNI PHOTO-133U

مین پوری پولیس کا اقدام ۔ گائے کی موت بیماری کے سبب ہوئی ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف
مین پوری (یوپی)۔ 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) دادری کے بعد اُترپردیش کے ضلع مین پوری میں گاؤ ذبیحہ کی افواہوں کے باعث کشیدگی پھیل گئی جہاں احتجاجیوں نے پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا اور کئی دکانات کو آگ لگادی۔ کل پیش آئے ان پرتشدد واقعات میں 7 ملازمین پولیس زخمی ہوگئے۔ پولیس نے 21 افراد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ سرکل آفیسر کو مبینہ لاپرواہی کی بناء معطل کردیا گیا ہے۔ سرکاری ترجمان نے بتایا کہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب بعض افراد نے کرہال علاقہ میں گائے ذبح کرنے کی افواہ پھیلا دی۔ تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ پتہ چلا کہ بیماری کے سبب گائے کی موت واقع ہوئی تھی۔ کل جیسے ہی یہ افواہ پھیلی نگاریا گاؤں میں عوام نے پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگادی اور دیگر خانگی گاڑیوں کے علاوہ دکانات کو بھی نذرآتش کردیا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ گائے جو ایک کھیت کے قریب چر رہی تھی اسے کاٹنے کیلئے لے جایا گیا اور جس وقت اس کا چمڑا اُتارا جارہا تھا، چند مقامی افراد یہاں گھس آئے۔ ضلع مجسٹریٹ چندرپال سنگھ نے بتایا کہ گائے ذبح کرنے کی افواہ پھیلائی گئی تھی لیکن جب ہم نے پوسٹ مارٹم کیا تو پتہ چلا کہ گائے پہلے ہی مر چکی تھی۔ جو لوگ عام طور پر جانور کا چمڑا اتارا کرتے ہیں، وہ اسی مقصد کیلئے گائے کو لے گئے تھے اور جس وقت اس جانور کا چمڑا اُتارا جارہا تھا یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ گائے ذبح کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج شروع کردیا۔ پولیس نے فوری اس مقام پر پہنچ کر مردہ گائے کا چمڑا اُتارنے والوں کو گرفتار کرلیا۔ اس کے علاوہ احتجاج میں ملوث 21 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT