Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / متاثرین مظفر نگر فسادات کے بچوں میں حصول علم کا جنون ، حیدرآباد ملت پبلک اسکول میں 540 طلبہ

متاثرین مظفر نگر فسادات کے بچوں میں حصول علم کا جنون ، حیدرآباد ملت پبلک اسکول میں 540 طلبہ

سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی کوششیں کامیاب ، مستقبل میں طلبہ کی تعداد میں کئی گنا اضافہ کا امکان
حیدرآباد ۔ 27 ۔ اگست : ( نمائندہ خصوصی ) : شاعر مشرق علامہ اقبال نے ’’ بچے کی دعا ‘‘ نامی یہ نظم
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدا یا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہوجائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہوجائے
لکھتے ہوئے شائد آنے والے بچوں کے حالات اور انہیں درپیش آنے والے واقعات کا اچھی طرح اندازہ کرلیا تھا تب ہی تو آج برصغیر کے کونے کونے میں علامہ اقبال کی یہ دعائیہ نظم کی گونج سنائی دیتی ہے خاص طور پر اسکولوں میں اس نظم کو اسمبلی میں بچے بڑی اونچی آواز میں پڑھتے ہیں ۔ قارئین آپ اترپردیش کے ضلع مظفر نگر کو شائد ابھی تک بھول نہیں پائے ہوں گے جہاں ستمبر 2013 میں آزاد ہند کی تاریخ کے بھیانک مسلم کش فسادات میں سے ایک فساد پیش آیا تھا فسادات کے اس واقعہ میں ایک طرح سے مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا ۔ ان کے گھروں کو لوٹا گیا خواتین و نوجوان لڑکیوں کی عصمتیں تار تار کی گئیں ۔ حد تو یہ ہے کہ فرقہ پرست درندوں نے کم از کم 65 مسلمانوں کو شہید کردیا ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان فسادات میں 42 مسلمان مارے گئے تھے اور 50 ہزار سے زائد مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں میں منتقل ہونا پڑا تھا ۔ مصیبت کی اس گھڑی میں روزنامہ سیاست اور فیض عام ٹرسٹ نے مظفر نگر کے مختلف گاؤں سے اپنی جانیں بچا کر محفوظ علاقوں میں پہنچنے والے مسلمانوں کی مددکا بیڑہ اٹھایا ۔ اس ضمن میں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے مظفر نگر کے مصیبت زدہ بھائیوں اور بہنوں کے آنسو پونچھنے اور انہیں دلاسہ دینے کی خاطر سیاست ملت فنڈ سے 10 لاکھ روپئے جاری کئے ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں اور فیض عام ٹرسٹ کے سکریٹری جناب افتخار حسین نے منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں اور ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ جناب رضوان حیدر کے ہمراہ مظفر نگر کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا کہ مظفر نگر کے مسلمان راجپوتوں کے ہاں بندھوا مزدوروں کی حیثیت سے کام کرنے کے باعث تعلیم سے ہی محروم ہوگئے۔ چنانچہ سیاست نے فیض عام ٹرسٹ کے تعاون و اشتراک سے جوگیا کھیڑا میں حیدرآباد ملت پبلک اسکول کے نام سے دو اسکولس قائم کئے جن میں نرسری تا ساتویں تک کلاسیس چلائی جارہی ہیں ۔ ان اسکولوں میں جملہ 18 ٹیچرس خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ نرسری اور ساتویں جماعتوں میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کی عمریں 5 سے 13 سال کے درمیان ہیں خوشی کی بات یہ ہے کہ ایک سال کے دوران جوگیا کھیڑا اور آس پاس کے گاؤں سے آنے والے طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث نرسری کے چار سیکشن نرسری گرین ، نرسری الفا ، نرسری راک ، نرسری ڈاکمنڈ چلائے جارہے ہیں ۔ اسی طرح ایل کے جی کے پانچ اور یو کے جی کے دوسیکشن چلانا پڑرہا ہے ۔ صرف نرسری اور یو کے جی میں 362 طلباء وطالبات زیر تعلیم ہیں جب کہ پہلی تا ساتویں جماعت میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ کی تعداد 178 یعنی 540 تک جا پہنچی ہے ۔ صبح کی اولین ساعتوں میں اسکول میں بچوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ اسمبلی میں سب سے پہلے علامہ اقبال کی نظم بچے کی دعا پڑھائی جاتی ہے اور پھر قومی ترانے کے ذریعہ معصوم بچے جذبہ حب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے ہر روز ایک طرح سے ان فرقہ پرستوں کے چہروں پر زور دار طمانچے رسید کرتے ہیں جنہوں نے گذشتہ سال اگست ۔ ستمبر میں ان کی زندگیاں تباہ کردیں ۔ انہیں اپنے گھر بار چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور کردیا ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ مظفر نگر کے یہ معصوم حصول علم کے ذریعہ فرقہ پرستوں کی سازشوں اور ان کے منصوبوں کا جواب دے رہے ہیں ۔ سیاست کے فوٹو جرنلسٹ سید مظہر علی نے جوگیا کھیڑا اور اس کے اطراف و اکناف علاقوں کا دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ حیدرآباد ملت پبلک اسکول کے معیار تعلیم سے متعلق لوگوں سے بات چیت بھی کی ۔ جہاں تک جوگیا کھیڑا اور اس کے اطراف کی بستیوں کا سوال ہے اس میں راجپوت گڑھی ، مبارکپور گاوں اور راجپوت پالیور گڑھی ، فلاح عام کالونی ایسے علاقے ہیں جہاں آباد مسلمانوں کی معاشی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ 99 فیصد مسلمان کچے مکانات میں رہتے ہیں ۔ گھروں میں بھینسوں کی افزائش کی جاتی ہے ۔ مسلمانوں میں پائی جانے والی معاشی و تعلیمی پسماندگی کی طرح ان بستیوں کی سڑکیں اور گلیاں مسلمانوں کی پسماندگی کا اظہار کرتی ہیں ۔ دو اور تین سال کے بچوں کو وہاں گھروں کے باہر بہنے والی موریاں صاف کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا ۔ حیدرآباد ملت پبلک اسکول کے قیام کے بعد سے مقامی مسلمانوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کا شوق پیدا ہورہا ہے ۔ ہر ماں باپ یہی چاہتے ہیں کہ ان کے بچے حیدرآباد ملت پبلک اسکول میں پڑھیں ۔ ناخواندگی کا حال یہ ہے کہ اولیائے طلبہ کو اسکول کا نام تک نہیں معلوم بس وہ اس اسکول کو حیدرآباد والوں کا اسکول کہتے ہیں ۔ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ اس اسکول پر ماہانہ تقریبا 1.6 لاکھ روپئے صرف کرتے ہیں ۔ جن میں فیض عام ٹرسٹ کا حصہ 60 تا 70 ہزار روپئے ہوتا ہے ۔ دونوں اداروں کے باعث مظفر نگر کے انتہائی غریب مسلمانوں میں علم کی روشنی پھیل رہی ہے ۔ فلاح عام کالونی متاثرین فسادات کے لیے تعمیر کی گئی جہاں سے 80 طلباء وطالبات حیدرآباد ملت پبلک اسکول آتے ہیں ۔ امباوڈی گاوں کے محمد شہزاد ، مبارکپور گاوں کی صابرہ ، راجپوت گڑھی کے نوشاد ، محمد یونس اور شبنم کاکہنا ہے کہ حیدرآباد ملت پبلک اسکول کے باعث ان کے بچے اچھا پڑھنے لگے ہیں ۔ انہیں دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے ۔ جب کہ کمپیوٹر سنٹر بھی چلایا جارہا ہے ۔ یہ اسکول فی الوقت کرایہ کی عمارت میں کام کررہا ہے جب کہ مقامی پردھان اور عوام نے 5000 مربع فیٹ پر ایک تین منزلہ اسکول کی عمارت کی تعمیر شروع کی ہے گراونڈ فلور کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے ۔ امید ہے کہ آئندہ 5 برسوں میں حیدرآباد ملت پبلک اسکول میں طلباء و طالبات کی تعداد 1500 سے تجاوز کرجائے گی ۔ لوگ قریبی علاقوں سے آٹوز میں اپنے بچوں کو اسکول روانہ کررہے ہیں ۔ بہر حال مظفر نگر کے مسلمان سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کے علاوہ حیدرآبادی مسلمانوں کے حق میں دعاگو ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT