Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / متنازعہ بیان کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں اضافہ

متنازعہ بیان کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں اضافہ

مسلم دوستوں نے میرے بیان کی سراہنا کی: ٹرمپ، اسلامی دہشت گردی سے نمٹنے خود مسلمان اپنا خون بہارہے ہیں : ہلاری
واشنگٹن ۔ 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ متنازعہ بیان جہاں انہوں نے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر امتناع عائد کرنے کی بات کہی تھی، جس پر انہیں دنیا بھر سے لعنت و ملامت کا سامنا ہے، کے باوجود ان کی مقبولیت کا گراف اوپر ہی اٹھتا جارہا ہے۔ جنوبی کیرولینا میں فاکس نیوز کی جانب سے جاری کئے گئے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ کو ری پبلکن پرائمری ووٹرس میں 35 فیصد کی سبقت حاصل ہے جبکہ ان کے قریب ترین حریف بین کارسن کو صرف 15 فیصد جبکہ ٹیڈکروز اور مارکوروبیو کو فی کس 14 فیصد کی سبقت حاصل ہے۔ دوسری طرف رئیل کلیئر پالیٹکس ڈاٹ کام کی جانب سے مقبولیت کی شرح کا جو جدول جاری کیا گیا ہے، اس میں 69 سالہ ٹرمپ کی مقبولیت 29.3 فیصد اور کروز کی 15.5 فیصد بتائی گئی ہے۔ اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ ان اعدادوشمار کے باوجود ٹرمپ کو خود ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے مسلمانوں کے امریکہ پر داخلہ پر امتناع والے متنازعہ بیان پر شدید تنقیدوں کا سامنا ہے۔ سب سے زیادہ تنقید ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن کی جانب سے کی گئی ہے

جسے انہوں نے نہ صرف خطرناک بلکہ شرمناک بھی بتایا ہے۔ آج دنیا بھر میں انتہاء پسند اسلامی جنگجوؤں سے نمٹنے والے بھی مسلمان ہی ہیں جو اپنا خون بہارہے ہیں جبکہ ضرورت اس بات کی ہیکہ امریکی مسلمان بھی اسلامی دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے اپنا تعاون پیش کریں۔ ایسی صورتحال میں ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان نے جہادیوں کو ایک نیا ہتھیار دیدیا ہے۔ دوسری طرف ڈونالڈ ٹرمپ نے سی این این کو ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ خود مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور وہ مسلمانوں کی بھلائی کیلئے ایسا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سینکڑوں مسلم دوست ہیں جو ان کے بیان کی تائید کرتے ہیں۔ وہ ان سے کہتے ہیں کہ ڈونالڈ تم نے واقعی ایک اچھے نکتہ کو موضوع بحث بنا کر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی ہے۔ ٹرمپ کو الاسکا کی سابقہ گورنر سارہ پالین کی بھی تائید حاصل ہے۔ سارہ پالین نے کہا کہ ڈونالڈ کو صرف اس لئے تنقیدوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ وہ بدی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ دہشت گردوں کی سرکوبی چاہتے ہیں اور اچھے اور نیک لوگوں کو گلے لگانا چاہتے ہیں۔ ڈونالڈ نے جو بھی کہا ہے کہ وہ محض عارضی نوعیت کا ہے۔ دنیا جانتی ہیکہ مسلمانوں کو امریکہ آنے سے روکا نہیں جاسکتا کیونکہ امریکہ کی ترقی میں مسلمانوں کا بھی اتنا ہی اہم رول ہے جتنا کہ کسی اور قوم کا۔ دوسری طرف دی واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں وضاحت کی گئی ہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ جو بھی مسلم مخالف بیانات دے رہے ہیں وہ ان کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ٹرمپ ہمیشہ کوئی نہ کوئی متنازعہ بیان دیتے رہے ہیں۔ جب کوئی نیا بیان منظرعام پر آتا ہے تو اس سے ان کا پرانا بیان پس منظر میں چلا جاتا ہے اور اس طرح وہ مسلسل خبروں میں موجود رہتے ہیں اور اگر کسی کو مفت میں ہی میڈیا کوریج مل جائے تو اس سے بڑی کیا بات ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT