Tuesday , September 26 2017
Home / جرائم و حادثات / متوفی عبداللہ بن یونس یافعی نے کسی پر بھی فائرنگ نہیں کی

متوفی عبداللہ بن یونس یافعی نے کسی پر بھی فائرنگ نہیں کی

اکبرالدین حملہ کیس کی سماعت ، ریٹائرڈ سب انسپکٹر چندرائن گٹہ پر جرح مکمل

حیدرآباد ۔ /4 مارچ (سیاست نیوز) اکبر الدین اویسی حملہ کیس کی روزانہ کی اساس پر سماعت کے دوران آج ریٹائرڈ سب انسپکٹر پولیس چندرائن گٹہ مسٹر اے راملو نے دوسرے دن بھی اپنا بیان قلمبند کروایا اور وکلائے دفاع نے ان پر جرح کیا ۔ ایڈوکیٹ اچھوتا ریڈی کے جرح کے دوران گواہ استغاثہ نے بتایا کہ عبداللہ بن یونس یافعی نے کسی بھی شخص پر فائرنگ نہیں کی اور نہ ہی کوئی شخص ان کی فائرنگ سے زخمی ہوا ۔ ریٹائرڈ سب انسپکٹر نے آج عدالت میں دیئے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ حادثہ کے دن انہوں نے کسی بھی شخص کو گولی لگنے سے ہلاک ہوتا ہوا نہیں دیکھا بلکہ اسی دن شام کو ایک شخص کی موت واقع ہونے کی اطلاع ملی ۔ سب انسپکٹر راملو نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنے بیان میں حملے کے دوران کسی بھی شخص کی موت واقع ہونے کی اطلاع نہیں دی ہے ۔ آج کی جرح کے بعد سب انسپکٹر راملو کی گواہی مکمل ہوگئی ۔ نامپلی کریمنل کورٹ میں  ایک اور زیردوران مقدمہ جو  محمد بن عمر یافعی المعروف محمد پہلوان کے متنازعہ انٹرویو پر بنجارہ ہلز پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا کی سماعت تیسرے ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹین مجسٹریٹ کے اجلاس پر ہوئی جہاں پر پرانے شہر کے مقامی سوشیل میڈیا چیانل (برق نیوز) کے نمائندے پر جرح کی گئی ۔ کریمنل کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ محمد مظفر اللہ خان شفاعت نے بر ق نیوز کے نمائندے مجتبیٰ حسین سے یہ سوال کیا کہ کیا ان کا نیوز چیانل محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہکا لائسنس یافتہ چیانل ہے ؟ کیا یہ چیانل محکمہ ڈاک اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے رجسٹرڈ شدہ ہے ؟ چیانل کے نمائندہ نے بتایا کہ بر ق نیوز سوشیل میڈیا چیانل ہے جس کا لائسنس نہیں ہے اور یو ٹیوب کے ذریعہ وہ نیوز اپ لوڈ کرتے ہیں ۔ ایڈوکیٹ مظفر اللہ خان نے اپنی جرح میں یہ دریافت کیا کہ کیا  برق نیوز مجلس پارٹی کے نمائندوں کے  80 فیصد خبریں اور انٹرویو نشر کرتا ہے جس کے جواب میں نمائندے نے بتایا کہ 50 فیصد مجلس کی خبریں چیانل پر دکھائی جاتی ہیں اور ان کی چیانل 24 گھنٹے کیلئے دستیاب نہیں ہے ۔ عدالت میں محمد پہلوان کے متنازعہ انٹرویو کی سی  ڈی دکھائی گئی اور اس انٹرویو میں انٹرویو کرنے والے نمائندے کی تصویر یا  شناخت نہیں دکھائی گئی ۔ مذکورہ نیوز نمائندہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کا سوشیل میڈیا چیانل کسی بھی کیبل ٹی وی آپریٹر کے ذریعہ نشر نہیں کیا جاتا ۔ اس کیس کی آئندہ سماعت /14 مارچ کو مقرر کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT