Friday , September 22 2017
Home / اداریہ / متھرا تشدد افسوسناک

متھرا تشدد افسوسناک

بھلے انسان کے بھی خوں میں یارو
لہو کی شعبدہ کاری ملے گی
متھرا تشدد افسوسناک
اراضیات پر قبضے اور غنڈہ گردی کے ذریعہ اصل مالکین کو ان کی جائیدادوں سے بیدخل کرنے کے جھگڑے تو بہت دیکھے گئے ہیں۔ زمینات پر قبضہ گیر عناصر اور حقیقی مالکین یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ہی اس پراپرٹی کے اصل حقیقی دعویدار ہیں۔ عدالتوں کے ذریعہ فیصلہ ہونے تک مالکین اور ناجائز قابضین کا حقوق کا مسئلہ معلق رہتا ہے۔ اراضیات پر اندھا دھند قبضے کا مسئلہ اترپردیش کے ضلع متھرا میں خون ریزی اور دو پولیس عہدیداروں کے بشمول 24 افراد کی موت کی صورت میں آج ملک بھر میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ اس نے بروقت کارروائی نہیں کی جس کی وجہ سے ایک تنظیم کے ہزاروں حامیوں نے تقریباً 300 ایکڑ اراضی پر قبضہ کرلیا تھا۔ جنوری 2014 ء سے جواہر باغ میں واقع ایک پارک کی اراضی پر احتجاجی مظاہروں کے دوران قبضہ کرلیا گیا تھا۔ اس تنظیم آزاد بھارت وردھک وائچارک کرانتی ستیہ گرہی کے ارکان اراضی کا قبضہ برخاست کرنے تیار نہیں تھے۔ ان ارکان کے نامعقول مطالبات میں صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کی برطرفی کے علاوہ ہندوستانی کرنسی کو تبدیل کرکے ایک روپئے میں 40 لیٹر پٹرول اور ڈیزل دینے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ خود کو نیتاجی سبھاش چندر بوس کے حامی بتانے والے ارکان نے پولیس کے ساتھ اُس وقت جھڑپ کی جب پولیس اور ضلع حکام عدالت کے احکام کے مطابق ان قابضین کو اراضی کا تخلیہ کرانے کی کوشش کررہے تھے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے اراضی کے قبضہ کو برخاست کرنے کا حکم صادر کرتے ہوئے مسلح غیر قانونی قابضین کو ہٹادینے کی ہدایت دی تھی۔ پولیس اور ضلع نظم و نسق کے حکام نے مسلح گروہ کی طاقت اور مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا اندازہ کئے بغیر معمولی پولیس فورس کے ہمراہ کارروائی کی۔ نتیجہ میں مہلک ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے قابضین نے حملے شروع کئے۔ اس طرح خون ریز جھڑپوں میں کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ پولیس کو احتیاطی اقدامات کے بغیر کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ قبضہ کردہ اراضی پر تعمیر کردہ جھونپڑیوں میں گولہ بارود اور مہلک ہتھیاروں کا ذخیرہ کیا گیا تھا۔ اس کا پتہ چلائے بغیر ہی قابضین کو تخلیہ کرانے کی کوشش کرنے والے پولیس عہدیداروں کی لاپرواہی کے باعث جھڑپوں نے خونی نتیجہ ظاہر کردیا۔ پولیس کو اپنی اس ناسمجھی کی کارروائی سے شدید نقصان ہوا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ایس ایچ او کی موت کے بعد حکومت کو تنقیدوں کا سامنا ہے۔ قابضین نے بلا اشتعال فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ سنگباری بھی کی اور لاٹھیوں کے ساتھ مقابلہ کرنے والے پولیس ملازمین کو حملہ کرکے زدوکوب کیا۔ طاقتور گروہ کا مقابلہ اگر پولیس صرف لاٹھیوں سے کرے گی تو اس کی سکیورٹی تیاریوں پر اُنگلیاں ضرور اُٹھیں گی۔ پولیس نے اس علاقہ سے تباہی کے بعد 47 بندوقیں، 6 رائفلیں اور 178 دستی ساختہ بم برآمد کئے ہیں۔ 300 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس کے علاوہ 184 دیگر ہتھیار اور کارآمد کارتوس بھی برآمد کئے گئے۔ متھرا ایک ہندو مذہبی مقام ہے جہاں سے فلم اداکارہ ہیما مالینی بی جے پی امیدوار کی حیثیت سے لوک سبھا حلقہ کے لئے منتخب ہوئی ہیں۔ انھوں نے دیگر سیاستدانوں کی طرح سی بی آئی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن ایسے واقعات سے قبل ہی انٹلی جنس کی ناکامی اور نظم و نسق کے مکمل مفلوج ہونے کا سخت نوٹ لینا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔ متھرا کا علاقہ یوپی کا مرکزی مقام ہے۔ یہاں پر کھلے عام اگر اسلحہ و گولہ بارود کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے تو یہ تشویشناک بات ہے۔ ناجائز قبضہ گیر عناصر نے اتنی بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود کا ذخیرہ کرلیا تھا اور اس سے انٹلی جنس اور ضلع نظم و نسق بے خبر تھا تو پھر یہ مجرمانہ غفلت کے سوا کچھ نہیں ہوسکتی۔ آخر ایسی غلطی کیوں سرزد ہوئی؟ یہ غور کرنا حکومت اور متعلقہ ذمہ داروں کا کام ہے۔ اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو ابتر بنانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ عوامی زندگیوں کے تحفظ اور امن و سکون کی برقراری کو یقینی بنانا، ضلع نظم و نسق اور قانون کے رکھوالوں کی ذمہ داری ہے۔ انٹلی جنس کی ناکامی کی وجہ سے قبضہ گیر عناصر کے پاس خطرناک ہتھیاروں کا پتہ نہیں چلایا جاسکا۔ ایسی غفلت بھیانک تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ اکھلیش یادو حکومت کو ریاست کی صورتحال سے اس طرح لاپرواہ نہیں ہونا چاہئے۔ ملک کی سب سے بڑی اور کثیر آبادی والی ریاست میں اس طرح کے خوفناک واقعات سنگین نوعیت کے حامل ہوتے ہیں۔ مستقبل میں عوامی امن و سکون کو تباہ کرنے کا بہانہ بن جاتے ہیں۔
آر بی آئی گورنر کی دوسری میعاد
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر کی حیثیت سے رگھورام راجن کی دوسری میعاد کے تعلق سے قیاس آرائیوں کے درمیان ملک کی بڑی صنعتی و تاجر برادری کے چند ارکان نے رگھورام راجن کی حمایت کی ہے۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے راجن کے خلاف اپنا یکطرفہ محاذ کھول کر وزیراعظم نریندر مودی پر دباؤ ڈالا ہے کہ راجن کو فوری برطرف کردیا جائے۔ ملک کے سب سے بڑے مالیاتی نگرانکار ادارہ کی قیادت کوئی سیاسی بچکانہ کھیل نہیں ہے مگر بی جے پی کے قائدین اس ادارہ کے معاملہ میں بچکانہ حرکتوں کے ذریعہ اپنی کم فہمی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ سبرامنیم سوامی کو اگرچیکہ ایک دانشور تصور کیا جاتا ہے۔ انھوں نے آر بی آئی کی باگ ڈور راجن کے بجائے کسی دوسرے کے سپرد کرنے کی پرزور مہم شروع کی ہے۔ ملک کے مالیاتی اداروں سے وابستہ افراد کے سوا عام آدمی کو آر بی آئی کے گورنر کی حیثیت سے کس کو برقرار رکھا جائے کس برخاست کردیا جائے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ تاہم مالیاتی اداروں سے مربوط افراد نے راجن کی برقراری کی بھرپور حمایت کی ہے۔ راجن کے تعلق سے جو منفی پروپگنڈہ کیا گیا اس کا مثبت پہلو یہ نظر آرہا ہے کہ اکثریت نے راجن کی قابلیت اور تجربہ کاری کو ترجیح دی ہے۔ اس لئے آر بی آئی کے گورنر کی حیثیت سے مزید 3 سال کی دوسری میعاد کے لئے برقرار رکھنے کی حمایت کی گئی ہے۔ بلاشبہ راجن کی قیادت میں آر بی آئی نے تاریخی اصلاحات کے اقدام کئے ہیں۔ روپے کی قدر کو مستحکم کرنے میں ان کا اہم رول رہا ہے۔ سال 2013 ء میں ڈالر کے مقابل روپے کی قدر 69.22 روپے تھی۔ آر بی آئی گورنر کی حیثیت سے راجن نے جائزہ حاصل کیا تو اب ڈالر کے مقابل کرنسی کی قدر 58.27 تا 67.29 کے درمیان ٹھہری ہوئی ہے۔ عالمی سرمایہ مارکٹ کے بڑے اداروں نے رگھورام راجن کی عالمی معاشی اُمور پر گہری نظر اور تجربہ پر بھروسہ ظاہر کیا ہے۔ اس طرح تمام حقائق کے باوجود ان کی دوسری میعاد کے لئے غور نہیں کیا گیا تو پھر مودی حکومت میں ملک کے اندر عدم رواداری کی جو بدبختانہ لہر چل رہی ہے ایک خراب اور تلخ فضاء پیدا کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT