Monday , October 23 2017
Home / ہندوستان / متھرا میں سرکاری اراضیات پر قابض ٹولی کی خود حکمرانی

متھرا میں سرکاری اراضیات پر قابض ٹولی کی خود حکمرانی

قاعدہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کیلئے عدالت اور عقوبت خانہ کا قیام
متھرا 4 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوؤں کے مقدس شہر متھرا کے جواہر باغ پر قابض ٹولے جس نے تخلیہ کی مزاحمت کے دوران ہلاکت خیز تشدد بھڑکایا ہے، اپنی ایک علیحدہ سلطنت قائم کرلی تھی اور ان کے قاعدہ و قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اذیت اور سزا دینے کے لئے خانگی عدالت اور عقوبت خانہ بنالئے تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قانون شکن یہ گروپ ، ملک کے دستور اور قانون کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس آگرہ زون درگا چرن مصرا نے آج یہ انکشاف کیا اور بتایا کہ مقبوضہ اراضی پر ٹاؤن شپ تعمیر کرتے ہوئے مکینوں کو غذائی اشیاء سربراہ کی جاتی ہیں جہاں پر صرف مقبوضہ ٹولی کی حکمرانی چلتی ہے اور حکم عدولی پر لوگوں کو سزا اور اذیت بھی دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں عدالتیں اور پروچن تخت بھی قائم کرلئے ہیں۔ تاہم کمشنر آگرہ ڈیویژن پردیپ بھٹناگر نے بتایا کہ وسیع و عریض اراضیات پر قابض 3 یا 4 گروپس نے مسلح پہلوانوں کو پال رکھا ہے لیکن انھیں خانگی فوج قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ جب بھی کوئی شہری یا عہدیدار ان کی کالونی میں داخل ہونے پر حملہ کیا جاتا ہے

جبکہ ان کے حامیوں کو کسی بھی صورت میں باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی اور مکینوں کے رشتہ داروں کو صرف ایک یا دو دن قیام کی اجازت دی جاتی تھی۔ واضح رہے کہ مخصوص نظریات کے حامل آزاد بھارت وردھیک ویچاریک کرانتی ستیہ گرھی سے وابستہ 3000 حامیوں اور پولیس میں خونریز جھڑپ ہوگئی تھی جس نے حکومت کی 260 ایکڑ اراضی پر قبضہ کرلیا ہے اور اس اراضی کا تخلیہ کروانے پولیس کے پہنچنے پر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تصادم میں 24 افراد بشمول پولیس سپرنٹنڈنٹ اور اسٹیشن ہاؤز آفیسر ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ نکسلائٹس علاقے کے عوام بھی وہاں آگئے تھے انھوں نے کہا بعض لوگ چھتیس گڑھ کے بھی موجود تھے۔ انسپکٹر جنرل پولیس نے بتایا کہ اس گروپ کا مقصد عوام کو مذہبی شدت پسندی یا دہشت گردی کے لئے اُکسانا ہے انھیں کسی بھی نام سے پکارا جائے لیکن وہ ملک کے باغی ہیں۔ کیوں کہ وہ اپنی ذاتی کرنسی شروع کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور ملک کے دستور اور قانون پر عمل درآمد کرنے کے خلاف ہیں۔ یہ گروپ نہ ہی سرکاری عہدیداروں سے بات چیت کرتا ہے اور نہ ہی ان کے اختیارات کو تسلیم کرتا ہے۔ دریں اثناء ضلع مجسٹریٹ راجیش کمار نے بتایا کہ ایس پی مکل دیویدی کی زیرقیادت پولیس ٹیم پر حملہ کے بعد جواہر باغ سے قابضین کا تخلیہ کروانے کے منصوبہ میں پیشرفت جاری ہے۔ یہ ایک چھوٹا گروپ ہے جوکہ نیتاجی سبھاش چندر بوس کا نظریاتی حامی کا دعویٰ کرتا ہے۔ عجیب و غریب مطالبہ کرتا ہے کہ صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کو ہٹادیا جائے اور ہندوستانی کرنسی کا چلن برخاست کردیا جائے۔ اس درمیان، شہید ہوئے دونوں پولیس افسران کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی آخری رسومات ادا کردی گئیں ۔ تصادم کے دوران مارے گئے مبینہ ستیہ گرہ کرنے والوں کی22 لاشوں کو کوئی لینے ہی نہیں آیا۔
متھرا میں رکن پارلیمنٹ ہیما  مالینی کو داخلے سے روک دیا گیا
متھرا 4 جون (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ہیما مالینی کو آج ضلع متھرا میں تشدد سے متاثرہ علاقہ جواہر باغ میں پولیس نے سکیوریٹی اور جاریہ تلاشی مہم کی بناء داخلے سے روک دیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس علاقہ میں اشرار کو پکڑنے کی مہم جاری ہے جس کی بناء داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی ہیما مالینی کے داخلے پر پابندی کے کوئی محرکات ہیں۔ اس علاقہ میں پولیس کی ٹیمیں اور ماہرین تلاشی مہم میں مصروف ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ اس علاقہ کو ہنوز محفوظ قرار نہیں دیا گیا۔ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آجائے تو جواب دینا مشکل ہوجائے گا۔ جبکہ متھرا کی رکن پارلیمنٹ تشدد کے متاثرین سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں۔ ان کے حلقہ میں تشدد کے باوجود فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہونے کی اطلاع پر مقامی عوام برہم ہیں۔

TOPPOPULARRECENT