Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / متھرا ‘ کاشی اور ایودھیا کو 2024 تک آزاد کروالیا جائیگا

متھرا ‘ کاشی اور ایودھیا کو 2024 تک آزاد کروالیا جائیگا

مسلمانوں سے رام مندر کی تعمیر میں تعاون کی خواہش ۔بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کا بیان
جمشید پور 23 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے آج مسلم برادری سے کہا کہ وہ ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر تعمیر کرنے کی حمایت کریں۔ انہوں نے یہاں شہید بھگت سنگھ کو خراج پیش کرنے منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ ایودھیا میں صرف ایک مقام پر بن سکتی ہے جہاں متنازعہ مقام پر محکمہ آثار قدیمہ کی تحقیقات کے دوران ایک مندر کا ڈھانچہ برآمد ہوا تھا ۔ بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا نے ادعا کیا کہ الہ آباد ہائیکورٹ نے 2003 میں یہ واضح کردیا تھا کہ متنازعہ مقام پر ایک مندر کا ڈھانچہ دستیاب ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کو ایک مندر منہدم کرتے ہوئے تعمیر کیا گیا تھا اور ہندو برداری ایک طویل وقت سے یہاں ایک مندر تعمیر کرنے کا مطالبہ کر ہری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مسئلہ باہمی طور پر حل ہوتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم ایک قانون بنائیں گے تاکہ ایودھیا میں ایک عظیم رام مندر تعمیر ہوسکے جب ہم کو اپریل 2018 میں راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل ہوجائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان برادری اس مسئلہ کا قابل قبول حل دریافت کرنے آگے آئے تو ہم اس کا خیر مقدم کرینگے یا پھر ہم کو سابقہ راجیو گاندھی حکومت کی جانب سے شاہ بانو کیس میں کئے گئے اقدامات اختیار کرنے پڑیں گے ۔ انہوں نے کاہ کہ ہم مسلمان برادری سے کہہ رہے ہیں کہ وہ صرف تین مقامات متھورا ‘ کاشی اور ایودھیا کو چھوڑ دیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2024 تک ان تینوں متنازعہ مقامات کو آزاد کروالیا جائیگا ۔ سبرامنیم سوامی کو سپریم کورٹ نے اس مسئلہ پر تمام فریقین سے بات چیت کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجلس کے صدر اسد الدین اویسی اور بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی سے بات کر چکے ہیں۔ مسلم قائدین باہمی بات چیت کے حامی نہیں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس میں سپریم کورٹ ثالثی کرے ۔

TOPPOPULARRECENT