Monday , April 24 2017
Home / اداریہ / متھرا ‘ کاشی اور ایودھیا

متھرا ‘ کاشی اور ایودھیا

ہمدرد اب زمانہ کسی کا بھی کیوں بنے
تو آشنا کے ساتھ ہے ناآشنا کے ساتھ
متھرا ‘ کاشی اور ایودھیا
اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد ایسا لگتا ہے کہ بہت شدت اور تیزی کے ساتھ آر ایس ایس کے ایجنڈہ پر عمل آوری کی مہم شروع ہوگئی ہے ۔ جیسے ہی یو پی اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آئے پہلے تو یوگی آدتیہ ناتھ جیسی متنازعہ اور نفرت انگیز بیانات کیلئے شہرت رکھنے والی شخصیت کو ریاست میں اقتدار حوالے کردیا گیا ۔ اس کے فوری بعد ایودھیا مسئلہ کو ایک بار پھر زندہ کرنے کی کوشش شروع ہوگئی ہے ۔ اب عدالت سے فیصلے کی بجائے باہر بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ ایودھیا کا مسئلہ اس ملک میں سیاسی فکر کو بدلنے کا موجب رہا ہے اور اس کو عدالت کے ذریعہ ملکیت کے دعووں کی بنیاد پر حل کیا جاسکتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی آئندہ عام انتخابات میں ترقیاتی ایجنڈہ کی بجائے مذہبی نوعیت کے متنازعہ مسائل کی بنیاد پر ہی اکثریت حاصل کرنا چاہتی ہے ۔ وہ عوام کے سامنے کوئی ترقیاتی منصوبے یا مستقبل کے ایجنڈہ پیش کرنے کے موقف میں نہیں ہے اور اسی لئے مندروں اور مسجدوں کے مسئلہ کو موضوع بحث بنایا جا رہا ہے ۔ اب جبکہ سماج میں ایودھیا مسئلہ پر تشویش پیدا ہونے لگی ہے ایسے میں بی جے پی لیڈر سبرامنین سوامی نے یہ تک اعلان کردیا ہے کہ 2024 تک متھرا اور کاشی کو بھی آزاد کروالیا جائیگا ۔ یہ کس طرح کی زبان استعمال کی جا رہی ہے کہ ان مقامات کو آزاد کروالیا جائیگا ۔ کیا ان مقامات پر دوسرے ممالک کا قبضہ ہے کہ انہیں آزاد کروانے کی بات کی جا رہی ہے ۔ جس طرح سے ایودھیا کے مسئلہ کو بھڑکاتے ہوئے بی جے پی نے اپنی سیاسی قسمت کو چمکایا ہے اور گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی کے ذریعہ مرکز میں اقتدار حاصل کیا ہے اور وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کو گجرات کے فسادات کی یاد دہانی کرواتے ہوئے خوفزدہ کیا جاتا ہے اور انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ گجرات کے فسادات کو فراموش نہ کریں۔ اسی طرح اب جبکہ ایودھیا کا مسئلہ عدالت میں فیصلہ تک بھی نہیں پہونچا ہے کہ متھرا اور کاشی کے مسئلہ کو اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ سماج میں نفرت اور تفریق کو ہوا دی جائے تاکہ بی جے پی کی سیاسی دوکان اسی طرح چلتی ہے اور اسے ترقی ملتی ہے ۔
سپریم کورٹ نے یقینی طو رپر ایودھیا مسئلہ کو عدالت کے باہر فریقین کی رضامندی سے حل کرنے کا مشورہ دیا ہے لیکن اس مشورہ کی بنیاد پر کسی ایک فریق کو دباؤ کا شکار نہیں کیا جاسکتا اور نہ خوفزدہ کرنے کی کوششیں کی جاسکتی ہیں۔ عدالت نے اس سلسلہ میں مشورہ دیا ہے اور حکمنامہ جاری نہیں کیا ہے ۔ ابھی جبکہ یہ مسئلہ زیر دوران ہی ہے اور اس پر کوئی قطعی موقف اختیار نہیں کیا گیا ہے اس کے باوجود دوسرے متنازعہ مسائل کو اٹھانے کی کوشش کرنا اور ان کو ایک مقررہ مدت میں ایک مخصوص انداز میں ’’ آزاد ‘‘ کروالینے کی بات کرنا اشتعال انگیزی ہے ۔ اس سے فریق ثانی کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے یا پھر انہیں اشتعال دلایا جا رہا ہے ۔ یہ دونوں ہی صورتیں مثبت نہیں ہوسکتیں بلکہ ان کے منفی عزائم ہیں اور ملک میں برسر اقتدار جماعت کیلئے اس طرح کی حکمت عملی اختیار کرنا انتہائی نامناسب عمل ہے اور اس سے جمہوری اصولوں کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔ ایسا کرنے سے ملک کی ہر سیاسی جماعت کو گریز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سیاسی جماعتوںکو سماج میں نفاق پیدا کرنے کی حکمت عملی کی بجائے سماج میں اتفاق پیدا کرنے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی کے سامنے اب صرف آر ایس ایس کے ایجنڈہ پر عمل آوری کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں رہ گیا ہے اور وہ اس ایجنڈہ پر عمل آوری کی کوششوں کے ملک و قوم اور معاشرہ پر ہونے والے اثرات کو بھی خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں ہے ۔ یہ ایسی کوشش ہے جس سے ملک میں سماجی یکجہتی اور اتفاق کی فضا متاثر ہوسکتی ہے ۔
متھرا اور کاشی کے مقامات کو بھی ایک طر ح سے مذہبی طور پر متنازعہ بنادیا گیا ہے اور اگر ان مقامات کو بھی مسلمانوں سے چھین لینے کی بات کرتے ہوئے اگر ایودھیا کا مسئلہ دباؤ کے ذریعہ حل کرنا ان گوشوں کا مقصد ہے تو یہ درست حکمت عملی نہیں کہی جاسکتی ۔ اس کے ذریعہ سماج میں نفاق اور تفریق کی کیفیت پیدا ہوگی اور اس سے ملک کی ترقی نہیں ہوسکتی ۔ ملک و قوم کی ترقی کے دعوے کرتے ہوئے اگر نفاق پیدا کرنے کی سیاست کی جاتی ہے تو یہ قول و فعل میں تضاد کا ثبوت ہے اور ایسا کرنے سے سیاسی جماعتوں کو گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ خاص طور پر اس جماعت کو تو یہ روش قطعی ذیب نہیں دیتی جو ملک پر حکمرانی کر رہی ہے ۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں اس کا اقتدار ہے ۔ اس کے قائدین کو ملک و قوم کو متحد کرنے والی روش اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور متنازعہ اور مذہبی نوعیت کے مسائل کو بھڑکانے سے انہیں گریز ہی کرنا چاہئے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT