Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مثبت سوچ کے ساتھ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا صحافیوں کا اولین فریضہ

مثبت سوچ کے ساتھ عوامی مسائل کو اجاگر کرنا صحافیوں کا اولین فریضہ

صحافت کا سیاسی و تجارتی رجحان سماج کیلئے نقصاندہ، نظام آباد میں صحافیوں کے تربیتی پروگرام سے رکن پارلیمنٹ کے کویتا کا خطاب
نظام آباد :14؍ مئی ( محمد جاوید علی کی رپورٹ) صحافت ایک انتہائی معتبر ذمہ دارانہ اور مقدس پیشہ ہے ۔ عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کی فلاحی اسکیمات عوام تک پہنچانا صحافیوں کا اولین فریضہ ہے ۔ صحافی مثبت سوچ کے ساتھ کام کرینگے تو ایک صحت مند معاشرہ کی تشکیل میں آسانی ہوگی ۔ سیاسی سرخیاں اخبارات کا معمول ہیں اس کی جگہ فلاحی اسکیمات کی سرخیاں اخبارات کی زینت بنیں تو عوام کے شعور میں غیر معمولی اضافہ ہوگا اور ریاست کی ترقی ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ کے کویتا رکن پارلیمان نظام آباد نے تلنگانہ اُردو جرنلسٹس فورم کے زیر اہتمام اضلاع شمالی تلنگانہ کے اُردو صحافیوں کے ایک روزہ اورینٹیشن پروگرام منعقد ہ بھوما ریڈی اے سی فنکشن ہال نظام آباد کی افتتاحی تقریب کو بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عصر حاضر میں صحافت کو تجارت میں تبدیل کردیا گیا ہے جو کہ غلط ہے ۔ اخبار کو عوام کا ترجمان ہونا چاہئے لیکن آج کل اخبارات عوامی ترجمان بننے کے بجائے سرمایہ داروں کا ترجمان بننے کا رحجان دیکھا جارہا ہے جو سماج کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ صحافی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے اس کے ساتھ بھر پور انصاف کریں ۔محترمہ کے کویتا نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اُردو زبان کے ساتھ ہے اور اس کی ترقی و ترویج کیلئے درکار اقدامات کررہی ہے تلنگانہ حکومت نے ریاست میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا ہے اُردو اکیڈیمی کو مزید فعال وبہتر بنانے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے صحافیوں کی فلاح وبہبود کیلئے کئی ایک اقدامات شروع کئے ہیں ۔ صحافیوں کو اکریڈیشن کارڈ س کے بغیر ہیلت کارڈس دئیے جارہے ہیں اور گذشتہ دو سال کے دوران 150 جرنلسٹوں کے افراد خاندان میں 2 کروڑ روپئے کی مالی امداد چیف منسٹر ریلیف فنڈ کے ذریعہ تقسیم کی گئی ۔ تلنگانہ حکومت کی اولین ترجیحات میں صحافیوں کی فلاح وبہود بھی شامل ہیں۔ چنانچہ حکومت 100 کروڑ روپئے کا جرنلسٹ ویلفیر کارپس فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے تاحال 80 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ کارپس فنڈ پر آنے والے سودی رقم سے جرنلسٹ ویلفیر سرگرمیاں انجام دی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو حساس شخصیت کے حامل ہیں انہوں نے صحافیوں کے مسائل اور دکھ درد کو سمجھا ہے اور انتقال کرجانے والے صحافیوں کی لڑکیوں کی شادی کیلئے تین لاکھ روپئے کی امداد، بیوائوں کو ماہانہ تین ہزار روپئے وظیفہ ، بچوں کی تعلیم کیلئے ماہانہ ایک ہزار روپئے کی امداد کے علاوہ صحافی کے انتقال پر فوری ایک لاکھ روپئے کی امداد دینے کا فیصلہ کیا اور اس پر عمل بھی شروع ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی نظر میں اُردو اور تلگو زبان کا کوئی امتیاز نہیں ہے ۔ حکومت کی نظر میں سب برابر ہیں اور سبھی کو یکساں مراعات دئیے جارہے ہیں ۔ محترمہ کے کویتا نے شائستہ اور اُردو میں اپنی تقریری سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ صحافی اور سیاستداں اس میدان میں آنے سے پہلے صحت مند ہوتے ہیں لیکن بعد میں مختلف امراض ایسیڈیٹی، ذیابطیس، بلڈ پریشر،امراض قلب میں متاثر ہوجاتے ہیں جس کی بنیادی وجہہ ذہنی دبائو ہے ۔ اس قد ر مسائل ، پریشانیوں کے باوجود بھی صحافی اپنے فرائض کی بحسن و خوبی انجام دہی میں شب و روز سرگرم رہا کرتے ہیں اور عوام کی آواز بن کر حکام تک پہنچنا اور عوامی مسائل کی یکسوئی کروانا ہی ان کا مقصد ہوتا ہے ۔ کے کویتا نے مزید کہا کہ نظام آباد کی بہو کی حیثیت سے اس اورینٹیشن پروگرام کی میزبانی کا مجھے شرف حاصل ہوا ہے اور ہر سال اُردو صحافیوں کیلئے عصری معلومات پر بھی مشتمل تربیتی پروگراموں کو نظام آباد میں منعقد کرانے کا پیشکش کیا ۔ اس موقع پر تلنگانہ اُردو جرنلسٹ فورم کی جانب سے اُردو کے سینئر صحافی اختر امتیاز، محمدمظہر الدین کی صحت کے خرابی کے پیش نظر جزوی مالی امداد فراہم کی گئی جبکہ ڈاکٹر عبداللطیف قریشی مرحوم کے انتقال پر ان کے فرزند عبدالبلال ساکن بودھن کو بھی 10 ہزار روپئے کی امداد دی گئی ۔ تربیتی پروگرام میں جناب سید عمرجلیل آئی اے ایس سکریٹری نے مخاطب کرتے ہوئے اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور صحافیوں سے خواہش کی کہ وہ حکومت تلنگانہ کی اقلیتی اسکیمات کی تفصیلات عوام تک پہنچائیں ۔

TOPPOPULARRECENT