Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مجاہدین تلنگانہ کے خلاف حکومت کے رویہ کی مذمت

مجاہدین تلنگانہ کے خلاف حکومت کے رویہ کی مذمت

ہرگوپال اور ورا ورا راؤ کی گرفتاری غیر منصفانہ ، ملو روی کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ 25 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے حکومت کی جانب سے مجاہدین تلنگانہ کو گرفتار کرنے اظہار خیال پر پابندی عائد کرنے عثمانیہ یونیورسٹی میں سی سی کیمرے لگانے اور یونیورسٹی کی سرگرمیوں پر پولیس کی نظر رکھنے کی سخت مذمت کی ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ڈاکٹر ملو روی نے یہ بات بتائی ۔ اس موقع پر جنرل سکریٹری مسٹر مہیش کمار گوڑ بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ سنہرے تلنگانہ کا خواب دیکھاتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت جمہوریت کا خون کررہی ہے ۔ مجاہدین تلنگانہ ، سماجی جہدکاروں کی آواز کو دباتے ہوئے اظہار خیال پر پابندی عائد کی جارہی ہے ۔ تلنگانہ ڈیموکریٹک فرنٹ کے جلسے میں شرکت کی غرض سے روانہ ہونے والے سماجی جہد کار ، دانشوروں کو گرفتار کیا گیا ۔ ہرگوپال اور ورا ورا راؤ نے تلنگانہ کی تحریک میں اہم رول ادا کیا وہ تلنگانہ میں منعقد ہونے والے جلسہ عام میں شرکت کرنے کے لیے روانہ ہونے پر انہیں منگل کے دن بھونگیر میں اس لیے گرفتار کرلیا کہ پولیس کو ان دونوں قائدین کی جانب سے نکسلائٹس کی تائید کرنے کا شک تھا ۔ جب کہ انتخابات سے قبل چیف منسٹر کے سی آر نے نکسلائٹس کے ایجنڈے کو ٹی آر ایس کا ایجنڈا قرار دیا تھا ایسے میں سماجی جہدکاروں کی گرفتاری معنی خیز ہے ۔ ریاست میں حکومت کی جانب سے ایسا ماحول تیار کیا گیا ہے کہ جلسوں کے انعقاد کے لیے عدالت سے اجازت حاصل کرنے کی نوبت آگئی ہے ۔ ڈاکٹر ملو روی نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک کا مرکز رہنے والے عثمانیہ یونیورسٹی کو ٹی آر ایس نے پولیس چوکی میں تبدیل کردیا ہے ۔ بغیر ڈریس ( سیول ) کے 40 پولیس ملازمین کو عثمانیہ یونیورسٹی میں طلبہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ 9 کروڑ روپئے کے مصارف سے یونیورسٹی میں سی سی کیمرے تنصیب کیے جارہے ہیں تاکہ طلبہ کی سرگرمیوں کو کچلا جاسکے ۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی دو سالہ کارکردگی کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے عوام کی امیدوں کو پورا کرنے میں این ڈی اے حکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ 2 سال کے دوران اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ انتخابی وعدوں میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ سوچھ بھارت ، جن دھن اسکیمات کانگریس کی اسکیمات ہیں صرف ان کے نام تبدیل کردئیے گئے ہیں ۔ کالا دھن واپس لانے اور ہندوستان کے ہر شہری کے بنک اکاونٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع کرنے کے وعدے کو 2 سال بعد بھی پورا نہیں کیا گیا ۔ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں بنکوں کو قومیایا گیا لینڈ سیلنگ ایکٹ نافذ کیا گیا ۔ راجیو گاندھی کے دور حکومت میں حق رائے دہی کی عمر کو 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کیا گیا اور ٹکنالوجی انقلاب لایا گیا ۔ بحیثیت صدرنشین یو پی اے سونیا گاندھی کے دور میں قانون حق معلومات ، حق تعلیم ، روزگار ضمانت اسکیم کے علاوہ کئی اسکیمات کو متعارف کرایا گیا تاہم نریندر مودی کے دور حکومت میں ایک بھی اچھا کام نہیں کیا گیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT