Tuesday , October 24 2017
Home / Health / مجاہد آزادی حکیم اجمل خان

مجاہد آزادی حکیم اجمل خان

ڈاکٹر رفیع حیدر شکیب
طب یونانی کی تاریخ میں بے شمار اطبا پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے کارناموں سے نہ صرف اپنا اور اپنے خاندان کا نام روشن کیا بلکہ ان کے کارناموں کی وجہ سے طب کی دنیا میں طب یونانی کو پروان چڑھایا اور حیات جاودانی عطا کردی۔ ان ہی کارناموں اور طب یونانی کی اہمیت کو دوبالا کرنے میں حکیم حافظ اجمل خان صاحب کا نام صف اول میں آتا ہے، میدان طب یونانی میں حکیم اجمل خان صاحب کو جتنے انعامات اعزازات اور خلعتیں ملی ہیں ، ا تنی کسی اور طب یونانی کی شخصیت کو نہیں ملی۔
حکیم اجمل خان صاحب کا خاندان وہی مشہور خاندان ہے جو تاریخ طب میں خاندان شریفی کے نام سے منسوب ہے اور جس کے جد امجد حکیم فاضل خان صاحب تھے ، ان کی چوتھی پشت میں جو نامی گرامی طبیب ہوئے وہ حکیم محمد شریف خان تھے جواپنے زمانے کے ماہر طبیب صاحب تالیف و تصنیف تھے ، جنہوں نے طب یونانی پر متعدد کتابیں لکھیں اور طب یونانی کے اہم اور پیچیدہ مسائل کو سلجھایا اور ان ہی کے نام سے خاندان شریفی منسوب ہوا ، آپ کے بعد حکیم صادق علی خان جو مشہور طبیب تھے آپ کے بعد حکیم اجمل خان صاحب کے والد ماجد حکیم محمود خان تھے جو نہایت بلند پایہ طبیب تھے اور بہت سے خوبیوں کے مالک تھے جن کے تین فرزندان تھے جن میں سب سے چھوٹے حکیم اجمل خان تھے، حکیم اجمل خان کے آبا و اجداد مغل عہد میں ہندوستان وارد ہوئے ان کا سلسلہ نسب والد کی جانب سے حضرت صدیق اکبرؓ سے ملتا ہے تو والدہ ماجدہ کا شجرہ حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتا ہے۔ حکیم حافظ اجمل خان صاحب کی پیدائش 17 شوال 1284 ھ مطابق 11 فروری 1864 ء کو دہلی کے ایک عالی رتبہ رئیس اور فن طب یونانی کا تاریخی گھرانہ شریف منزل میں ہوئی۔ گھرانہ چونکہ علمی و ادبی ماحول سے پر تھا، لہذا حکیم صاحب کو بھی ادبی اور تعلیمی یافتہ ماحول ملا چونکہ اس زمانے میں رئیس حضرات اپنے بچوں کو تعلیم کا انتظام اپنے گھر پر ہی کیا کرتے تھے اسی لئے حکیم اجمل خان کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہی ہوئی مگر ان کے ذوق علم نے ان کو رسمی قیود کا پابند نہیں رکھا اور اپنی علمی تشنگی کو مکمل کرنے کے لئے دہلی کے ارباب علم و ہنر و کمال کی خدمت میں جانے لگے۔ 18 سال کی عمر تک آپ نے منطق فلسفہ طبیعات ادب حدیث تفسیر و فقہ وغیرہ کی تعلیم حاصل کرلی اور طب کی ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی حکیم محمود خان اور بڑے  بھائی حکیم عبدالمجید خان صاحب اور خاندان شریفی کے بزرگ طبیب غلام رضا خان صاحب سے حاصل کی چونکہ حکیم اجمل خان صاحب کو حد درجہ مطالعہ کا شغف تھا۔

جب کچھ تعلیم اچھی ہوئی تو اپنا زیادہ وقت مطالعہ کتب اپنے ہی شریف منزل کے کتب خانہ میں ہونے لگا اور آپ نہ صرف طب کی کتابوں کا مطالعہ کرتے بلکہ دوسرے مضامین ادب، تفسیر، منطق و فلسفہ کا بھی مطالعہ کرتے تھے ، اسی دوران سر سید احمد خان نے مدرسۃ العلوم کی تحریک شروع کی ا گرچہ کے ابتدائی دنوں میں اس کی سخت مخالفت کی گئی مگر سر سید احمد خان کے پختہ عزم و استقلال اور خلوص و ایثار نے اس تحریک کو کامیاب کر دیا اس طرح مختلف علوم کے مدارس کے قیام کی جانب عوامی توجہ مبذول ہوگئی اور اس تحریک سے شریف خانی خاندان بھی متاثر ہوا اور آپ کے بڑے بھائی حکیم عبدالمجید 1882 ء میں مدرسہ طبیہ کا افتتاح کردیا ، اس وقت حکیم اجمل خان کی عمر 19 سال تھی اور وہ مکمل طور پر دلچسپی سے مدرسہ طبیہ کی ترقی میں حصہ لینے لگے اور حکیم اجمل خان صاحب نے یونانی طب کی ترقی و بہبود کیلئے نصاب تعلیم میں جدید اضافے کئے جس سے آج بھی طب کے طالب علم و معالجین استفادہ کررہے ہیں۔ 1892 ء میں حکیم صاحب کو ریاست رامپور میں میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے تقرر عمل میں آیا جہاں پر طبی خدمات میں مصروف رہا کرتے تھے ، جب بھی وقت مل جاتا آپ رامپور کے کتب خانہ میں  مطالعہ میں مصروف رہا کرتے تھے اور تقریباً دس سال تک آپ رامپور میں گزارے ، اس دوران آپ نواب آف رامپور سرسید حامد علی خان کے ساتھ زیادہ رہا کرتے تھے اور ریاست کے امور میں بھی حکیم صاحب کو نواب صاحب اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے اور حکیم صاحب کے مفید مشوروں کو نواب صاحب قبول کیا کرتے تھے اور 1902 ء کو حکیم صاحب دہلی واپس تشریف لائے ، دہلی واپس آتے ہی آپ نے دو اہم کام انجام دیئے ، ایک مدرسہ طبیہ سے ایک ماہنامہ مجلہ طبیہ کے نام سے شائع کروایا جس میں مدرسہ کی کارکردگی اور طبی مضامین ہوا کرتے تھے، یہ رسالہ پیر جی سید عبدالرزاق کی ادارت اور حکیم واصل خان کی سرپر ستی میں شائع کرواتے تھے اور دوسرا اہم کام منفرد دواؤں کی آسانی سے دستیابی اور مرکب دواؤں کی تیاری کے مرکز کا قیام حکیم اجمل خان صاحب کا یہ بہت بڑا کارنام تھا، جس میں طلبۂ طب اور معالجین کو منفرد دواؤں کی شناخت اور مرکب ادویات کی صحیح تیاری بتائی جاتی تھی ، اس کام کیلئے یونانی اینڈ ایورویدک میڈیسنز لمٹیڈ کمپنی کا قیام فرمایا ، کچھ ہی دنوں بعد حکیم اجمل خان صاحب کے دونوں بھائیوں کا انتقال ہوا جس کی وجہ سے آپ کی صحت بھی متاثر ہوئی۔ حصول صحت کیلئے آپ اپنے ہمعصر ساتھیوں کے ساتھ بغداد کا سفر کیا ۔ بغداد کے سفر سے آتے ہی آپ نے مطب کی ترقی میں دلچسپی لینے لگے اور دور دراز سے آنے والے مریضوں کا تانتا لگا رہتا تھا ، مطب کی مصروفیت اور مشغولیت کے باوجود حکیم اجمل خان صاحب یونانی طب کی ترقی اور بہبود کیلئے فروری 1906 ء میں طبی تحریک کیلئے اطبا اور طب یونانی کی باز گشت ایوان قصر میں پہنچانے کیلئے طبی کانفرنس کی بنیاد ڈالی اس کے علاوہ حکیم اجمل خان صاحب سیاسی اور مذہبی تحریکات بھی اہم حصہ لیا کرتے تھے اور اسی سال ڈھاکہ موجودہ بنگلہ دیش میں علیگڑھ کی ایجوکیشنل کانفرنس کے سالانہ اجلاس ہونے والا تھا چنانچہ ڈھاکہ ہی میں نواب سر سلیم اللہ حکیم حبیب الرحمن خان نواب وقار الملک نے ایک سیاسی جماعت بنانے کیلئے جلسہ کرنے کا فیصلہ کیا ، اس سے پہلے جلسہ میں مسلم لیگ کا سنگ بنیاد پڑھ گیا ، پہلا ہی بنیادی ریزرویشن جس میں مسلم لیگ کے قیام کا اعلان کیا گیا جو نواب آف ڈھاکہ نے پیش کیا اور جس کی تائید حکیم اجمل خان صاحب نے کی تھی اس طرح حکیم اجمل خان صاحب مسلم لیگ کے معماروں میں  ایک تھے ، اس طرح حکیم اجمل خان صاحب کی سیاسی تحریک کا آغاز ہوا۔ 1907 ء تک حکیم اجمل خان صاحب کی زندگی کے بیشتر اوقات اپنے مطب یا رامپور اور علیگڑھ کے حالات میں اور سیاسی طور پر مسلم لیگ کی تحریک میں صرف ہورہے تھے ، کانگریس کی تحریک میں عملی طور پر شریک نہ تھے لیکن ذہنی طور پر وہ کانگریس سے ہم آہنگ تھے کیونکہ ان کے خاندان کے قدیمی اخبار اکمل الاخبار کے مضامین سے اندازہ ہوتاہے، کے ان کی دلچسپی کانگریس سے ہوگئی تھی ۔ حکیم اجمل خان ہندوستانی دواخانہ کی جانب سے مطمئن ہوکر ایک اور اہم ضرورت کی جانب توجہ مبذول کی اس زمانہ میں ہندوستان میں جاہل اور غیر تعلیم یافتہ دائیوں کی وجہ سے عورتوں اور نو مولود بچوں پر کیا اثر ہوتا ہے ،

اس درد انگیز داستان سے ہر کوئی واقف تھا۔ حکیم اجمل خان نے اس مصیبت سے عوام کو نجات دلانے کیلئے ایک زنانہ طبی مدرسہ کی تحریک شروع کی اور ایک قلیل عرصہ میں دہلی کے محلہ چوڑی دالان میں ایک وسیع مکان کرایہ پر لیکر زنانہ طبی مدرسہ اور زنانہ طبی شفا خانہ کا افتتاح پنجاب کے گورنر یو ٹی ڈین کی اہلیہ سے کروایا ، اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے لیفٹننٹ گورنر بہادر نے کہا کہ مجھے خوشی یہ ہے کہ حکیم اجمل خان کو گورنمنٹ نے حاذق الملک کا خطاب دیا ہے جوان کے خاندان کا تاریخی خطاب ہے ، اس کے علاوہ حکیم اجمل خان کی طبی خدمات سے متاثر ہوکر انگریزی حکومت نے ان کو قیصر ہند کے خطاب سے بھی سرفراز فرمایا لیکن حکیم اجمل خان صاحب نے تحریک ترک معاملات میں شامل ہونے کے بعد اپنے خطابات حاذق الملک اور قیصر ہند کو واپس کردیا تھا اس لئے مسلمان کانپور نے ان کو اپنے ا یک جلسہ میں مسیح الملک کا خطاب دیکر حکیم صاحب کی مسیحائی کا اعلان کردیا ۔ 1916 ء میں لارڈ ہارڈنگ نے دہلی میں طبیہ کالج کا سنگ بنیاد رکھا اور حکیم اجمل خان نے اس کالج کی پرشکوہ اور دیدہ ذیب عمارت تقریباً پانچ سال میں مکمل کروائی اور 1921 ء میں مہاتما گاندھی جی نے اس کالج کا افتتاح کیا اور حکیم اجمل خان صاحب نے اپنے خاندانی مجربات ہندوستانی دواخانہ کو دیکر اس کالج کیلئے وقف کردیا اور اس دواخانہ کی آمدنی سے کالج کے اخراجات پورے ہوتے رہے اور حکیم اجمل خان صاحب جامعہ ملیہ دہلی کے بھی وائس چانسلر رہے۔ 1927 ء میں حکیم اجمل خان صاحب نے رامپور میں طبی کانفرنس کا عظیم الشان جلسہ کروایا جس میں اطبا کو طب کی اصلاح و تجدید کی جانب توجہ دلائی ۔ ڈسمبر کے پہلے ہفتہ میں قلب پر شدید دورے پڑے جس سے آپ بہت کمزور ہوگئے اور دہلی واپس آئے اس حال میں بھی وہ روز کے مشاغل میں مصروف رہے ، انہی دنوں امیر افغانستان بمبئی تشریف لارہے تھے اور جا معہ عہد اور خلافت کمیٹی کی جانب سے حکیم اجمل خان صاحب کو پروگرام کے مطابق اڈریس پیش کرنا تھا باوجود صحت خراب رہنے کے آپ بمبئی شریف لے گئے اور اپنی مصروفیت میں مشغول رہ کر آپ 25 ڈسمبر کو واپس دہلی آئے ، دن بھر اپنی مصروفیت کو جاری رکھ کر رات میں رامپور کیلئے روانہ ہوئے ۔ 28 ڈسمبر کی شام حسب معمول بلیرڈ کھیلتے رہے اور رات گیارہ بجے تک نواب آف رامپور سے ریاست کے امور پر گفتگو کرتے رہے اور واپس آکر آرام کر رہے تھے کہ خدمتگار نے جگایا کہ نواب صاحب تشریف لے آئے، پھر رات کے دو بجے تک نواب صاحب کے ساتھ محو گفتگو رہے، تکلیف ہوتی رہی لیکن ظاہر ہونے نہیں دیا۔ نواب صاحب کے جانے کے کچھ ہی دیر بعد سینہ پرہاتھ رکھ کر زور سے دبایا اور گہری سانس لی پھر پانچ منٹ بعد سخت تکلیف ہوئی اور مزید دورے پڑتے رہے اور آخر کار طبی دنیا کا یہ بے تاج بادشاہ ہمیشہ کیلئے رخصت ہوگیا اور میت دوسرے دن بذریعہ کار دہلی کے شریف منزل پہونچی اور دہلی کی جامع مسجد میں نماز ادا کی گئی اور تدفین حضرت خواجہ سید حسن رسول نما قدس سرہ قریب پہاڑ گنج جہاں حکیم اجمل خان صاحب کے والد اور دونوں بھائی مدفون ہیں ، عمل میں آئی۔ حکیم اجمل خان صاحب کو شاعری سے بھی شغف تھا اور شیدا تخلص فرماتے تھے۔ ان کے کلام کا کچھ حصہ دیوان شیداء کے نام سے 1926 ء میں پہلی بار ٹائیپ میں جرمنی سے شائع ہوا جس کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

چرچا ہمارا کیوں عشق نے جابجا کیا
دل اسکو دے دیا تو بھلا کیا برا کیا
وہ خواب ناز میں تھے مرا دیدہ نیاز
دیکھا کیا اور ان کی بلائیں لیا کیا
گم کردہ راہ آتے ہیں وہ آج میرے گھر
آہ میری آہ نیم شبی تو نے کیا کیا
اگر عرض تمنا کا کسی دن امتحاں ہوگا
جبیں ہوگی کسی کی اور کسی کا آستاں ہوگا
آخر لبوں تک آہی گئی آرزوئے دل
کھو بیٹھے آج ہاتھ سے ہم آبروئے دل

Top Stories

TOPPOPULARRECENT