Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / مجاہد اللہ خان پیرویٔ رسولِ اکرمﷺ … باعثِ افتخار

مجاہد اللہ خان پیرویٔ رسولِ اکرمﷺ … باعثِ افتخار

رب کائنات نے انسان کو پیدا فرماکر یونہی نہیں چھوڑ دیا کہ وہ اپنی زندگی گزرانے کا کوئی راستہ خود متعین کرلے، بلکہ وقتاً فوقتاً وہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے احکام و فرمان نازل کرتا رہا اور ان احکامات و فرامین کی تبلیغ و ترویج کے لئے انبیاء کرام کو بھیجتا رہا، تاکہ وہ انسانوں کو صراط مستقیم پر گامزن کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مقدس کلام قرآن مجید میں فرماتا ہے: ’’ہر قوم کے لئے ایک ہادی بھیجا گیا ہے‘‘۔ وقت کی ضرورت اور تقاضہ کے لحاظ سے ہر قوم میں انبیاء کرام بھیجے گئے۔ حدیث شریف کے مطابق کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام دنیا میں تشریف لائے، لیکن قرآن مجید میں صرف پچیس جلیل القدر انبیاء کرام کا ذکر موجود ہے۔

انسانی ارتقاء کے مختلف مراحل طے ہونے تک قوموں اور قطعات ارض میں انبیاء کرام تشریف لاتے رہے، آخر میں جب انسانی ذہن و فکر کی تکمیل کا وقت آپہنچا تو اللہ رب العزت نے اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم، جو تمام انسانیت کے لئے ہادی بنائے گئے، ان کو سرزمین عرب میں مبعوث فرمایا، جہاں جہالت و بے دینی اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ چکی تھی۔ عرب کے مختلف قبائل مختلف ادیان باطل کے پیروکار تھے اور کئی ایک بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ ایک انسانیت سوز جہالت ان میں یہ بھی عام تھی کہ وہ لڑکیوں کی پیدائش کو باعث ذلت و عار سمجھتے تھے اور لڑکی کے پیدا ہوتے ہی اسے زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔ ایسی قوم میں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام انسانیت کی اصلاح و ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا، جو تمام اوصاف حمیدہ میں صرف کامل ہی نہیں، بلکہ درجۂ کمال پر فائز تھے، جن کی مثال روئے زمین پر ابتدائے آفرینش سے آج تک کوئی نہیں پیش کرسکا اور نہ تاقیامت تک پیش کرسکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس کلام میں آپﷺ کے اخلاق کا تذکرہ ’’خلق عظیم‘‘ (یعنی بہرین اخلاق) سے کیا ہے اور ان کی زندگی کو بے مثال اسوۂ حسنہ قرار دیا، جس کی اتباع ہم سب کے لئے باعث افتخار ہے۔
اللہ عزوجل کا یہ بڑا ہی گراں قدر احسان و کرم ہے کہ ہم سب کم امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم میں پیدا فرمایا، جس کی آرزو انبیاء کرام نے کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبیﷺ کو ایک کامل دین ’’اسلام‘‘ دے کر بھیجا، جو کہ دین فطرت اور مکمل اصول زندگی ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن کریم میں اس طرح فرمایا کہ ’’بے شک دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے‘‘۔ (آل عمران۔۱۹)

یہ قانونِ فطرت ہے کہ ہر ایک شے کی قدر و منزلت اس کے مرتبہ و مقام کے مطابق ہوتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین بناکر دنیا میں بھیجا تو اس بات کا تقاضہ یہی تھا کہ آپﷺ ایک ایسا ضابطۂ حیات دیا جائے، جو تمام تر خامیوں سے پاک ہو، رہتی دنیا تک قابل عمل ہو اور مہد سے لحد تک انسانی ضروریات کی تکمیل کرسکے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو ایک مکمل ضابطۂ حیات قرآن مجید کی صورت میں عطا فرمایا اور اس کی تبلیغ و ترویج کی ذمہ داری آپﷺ کو سپرد فرمایا، جو بذات خود قرآن پاک کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت نے ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خواہش کی کہ ’’آپ ہمیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں بتائیں‘‘ تو حضرت ام المؤمنین نے فرمایا: ’’کیا آپ لوگوں نے قرآن پاک نہیں پڑھا؟ آپﷺ کے اخلاق و عادات مجسم قرآن تھے‘‘۔

جب قبائل عرب مشرف بہ اسلام اور روشن چراغ (سراجًامنیرًا) سے مستفید ہونے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی کی کایا پلٹ دی۔ وہ قوم جو کبھی تہذیب و تمدن سے عاری تھی اور دنیا کا کوئی حکمراں ان پر حکومت کرنے سے گریز کرتا تھا، اتباعِ خدا و رسول کی بدولت اللہ تعالیٰ نے اسی قوم کو دنیا کی حکمرانی عطا کی اور وہ دنیا کے بیشتر حصوں کی حاکم بن گئی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب لوگ کتاب و سنت سے بے اعتنائی برتنے لگے اور حب جاہ کے پیچھے دوڑنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ نعمت چھین لی اور انھیں باہم رنجشوں اور جماعتوں میں اس طرح منقسم کردیا کہ آج ان کی کوئی منظم قیادت بھی باقی نہیں رہی اور ذلت و پستی ان کا مقدر بن گئی۔
حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے خطاب کرتے ہوئے سوال کیا تھا کہ ’’کیا میں نے دین تم تک نہیں پہنچادیا؟‘‘۔ جب سب لوگوں نے ایک آواز ہوکر جواب دیا کہ ’’ہاں! یارسول اللہ! آپ نے مکمل دین ہم لوگوں تک پہنچا دیا‘‘ تو آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور فرمایا: ’’تم سب اس بات پر گواہ رہو‘‘۔ پھر آپﷺ نے آسمان کی جانب اُنگلی سے اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا: ’’اے اللہ! توبھی گواہ ہے‘‘۔ پھر آپﷺ نے فرمایا: ’’میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک کتاب اللہ یعنی قرآن مجید اور دوسری میری سنت۔ جب تک ان دونوں کو تم مضبوطی سے تھامے رہو گے، کبھی گمراہ نہ ہوگے‘‘۔ پھر آپﷺ نے حکم فرمایا کہ ’’تم نے جو بھی علم مجھ سے سیکھا ہے، اسے میری طرف سے دوسروں تک پہنچا دو، اگرچہ کہ وہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو‘‘۔

TOPPOPULARRECENT